جناب عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ : سلسلہ نمبر ۳

جناب عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ : سلسلہ نمبر ۳
صور من حیاۃ الصحابہ ؓ
صحابۂ رسول ﷺ کی تڑپا دینے والی زندگیاں
مؤلف: علامہ عبدالرحمن رافت الباشا
مترجم: مولانا اقبال احمد قاسمی
مرتب: عاجز: محمد زکریّا اچلپوری الحسینی
✿❀✿❀✿❀✿❀✿❀✿❀✿❀✿❀✿
جناب عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ

ہماری اس کہانی کے ہیرو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے وہ شخص ہیں جن کا نام عبداللہ بن حذافہ سہمی ہے۔ ممکن تھا کہ تاریخ اس شخص کی طرف بھی کوئی توجہ نہ کرتی اور اس کا کوئی خیال دل میں لائے بغیر اسی طرح گزر جاتی جس طرح اس سے پہلے کہ لاکھوں عربوں کو نظر انداز کرتی ہوئی گزرگئی ہے لیکن اسلام نے عبد الله بن حذافہ ہی کے لیے ان کے دو ہم عصر اور اپنے وقت کے عظیم بادشاہوں ………………… بادشاہ ایران کسری اور بادشاہ روم قیصر سے ملاقات کا موقع فراہم کر دیا تھا اور ان دونوں سے ان کی ملاقات کے ساتھ ایک ایسی داستان وابستہ ہو گئی جو ہمیشہ کے لیے زمانے کی یادداشت میں محفوظ ہو چکی ہے اور جس کو تاریخ کی زبان برابر دوہراتی رہے گی۔
بادشاہ ایران کسری کے ساتھ ان کی ملا قات کا قصہ ۶ھ سے تعلق رکھتا ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کچھ صحابہ کے ذریعہ سے شاہان عجم کے پاس دعوتی خطوط ارسال فرمائے اور ان خطوط کے ذریعے سے انہیں اسلام کی دعوت دینے کا ارادہ کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مہم کے دوران میں پیش آنے والے خطرات کا پورا پورا اندازہ تھا۔ کیوں کہ ان قاصدوں کو ایسے دور دراز علاقوں میں جانا تھا جن سے اس سے پہلےان کو کوئی سابقہ نہیں پیش آیا تھا۔ مزید برآں یہ کہ وہ ان علاقوں کی زبانوں سے نابلد اور ان حکمرانوں کے مزاج سے بالکل ناواقف تھے پھر اس پر طرہ یہ کہ انہیں ان کو اپنے سابقہ ادیان کو ترک کرنے اپنے اقدار و حکومت کے منصب سے الگ ہو جانے اور ایک ایسی قوم کے دین میں داخل ہونے کی دعوت دی تھی جو ماضی قریب میں ان کے ماتحت رہ چکی تھی۔ یقینا یہ ایک نہایت ہی خترناک سفر تھا جس پر روانہ ہونا موت کے منہ میں جانے اور اس سے زندہ سلامت واپس آنا نیا جنم پانے کے مترادف تھا۔ اس مہم کے متوقع خطرات کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو مشورہ کے لیے جمع کیا اور ان کے سامنے خطبہ دینے کے لیے کھڑے
ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کی حمد وثنا کے بعد فرمایا : میں تم سے کچھ لوگوں کو شاہان عجم کے یہاں سفارت پر بھیجنا چاہتا ہوں تم لوگ اس میں مجھ سے اختلاف نہ کرنا جیسا کہ بنی اسرائیل نے عیسی علیہ السلام سے اختلاف کیا تھا۔
جواب میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ہم کو جہاں چاہیں بھیج دیں۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر پیغام
خوشی خوشی پہنچانے کے لیے تیار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملوک عرب اور شاہان عجم کے پاس اپنے خطوط پہنچانے کے لیےچھ صحابہ کرام کو طلب فرمایا۔ ان میں ایک جناب عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہیں بادشاه ایران کسری کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچانے کے لیے منتخب کیا گیا۔(۱)
جناب عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے اپنی اوٹنی کو سواری کے لیے تیار کیا۔ بیوی بچوں سے رخصت ہوئے اور تنِ تنہا اپنی منزلِ مقصود کا رخ کیا وہ راستے کے نشیب و فراز کو طے کرتے اور سفر تکالیف کو برداشت کرتے ہوئے ایران پہنچے تو درباریوں سے کسری کے ساتھ ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا اور ان کو اس خط سے بھی آگاہ کر دیا جسے وہ بادشاہ کے لیے لے کر آئے تھے۔ کسری کو اس کی خبر ہوئی تو اس نے اپنے دربار کی تزئین و آرائش کا حکم دیا اور اپنے تمام بڑے بڑے افسروں کو دربار میں حاضری کی ہدایت کی۔ ساری تیاریاں مکمل ہو گئیں تو اس نے جناب عبدالله بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو دربار میں طلب کیا۔ اس وقت ان کے جسم پر ہلکا سا کمبل اور معمولی سی عبا تھی اور ان کے حلیہ سے بدوی عربوں کی سادگی کا اظہار ہورہا تھا۔ لیکن ان کا سر بہت بڑا اور قد کافی لمبا تھا اور ان کے سینے میں عظمت اسلام اور دل میں عزت اسلام کی آتش جوالہ شعلہ زن تھی.کسری نے ان کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا تو ایک درباری کو اشارہ کیا کہ وہ خط ان کے ہاتھ سے لے لے۔ مگر جناب عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاحکم ہے کہ میں یہ خط اپنے ہاتھ سے آپ کے حوالے کروں اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔ کسری نے درباریوں سے کہا کہ چھوڑ دو اس کو میرے پاس آنے دو۔ جناب عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کسری کے قریب جا کر خط اس کے سپردکردیا۔ اس نے اپنے عرب سیکرٹری کو بلایا (جو حیرہ کا باشندہ تھا) اور اسے اپنے سامنے خط کھولنے اور اس کو پڑھنے کا حکم دیا۔ اس نے خط کھول کر پڑھنا شروع کیا
بسم الله الرحمن الرحيم
من محمد رسول الله الى كسری عظيم فارس سلام علی من اتبع الهدی۔ (۲)
”اللہ رحمن و رحیم کے نام سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شاه ایران
کسری کو سلامتی ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے “ خط کا اتناحصہ سنتے ہی اس کے سینے میں غیظ وغضب کی آگ بھڑک اٹھی اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اور گردن کی رگیں تن گئیں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خط کا آغاز اپنے نام سے کیا تھا۔ اس نے سیکرٹری کے ہاتھ سے خط جھپٹ لیا۔ اور اس کے مندرجات کو جانے بغیر اسے پرزوپرزه
کرتے ہوئے چیخ اٹھا میرا غلام اور مجھے اس طرح خط لکھ رہا ہے۔ پھر اس نے جناب عبدالله بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو دربار سے نکال باہر کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہاں سے نکال دیئے گئے۔ جناب عبدالله رضی اللہ عنہ در بارسے نکلےتو انہیں کچھ پتہ نہیں تھا کہ اب الله تعالی ان کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے؟ وہ قتل کر دیئے جائیں گے یا انہیں آزاد چھوڑ دیا جائے گا؟ لیکن پھر انہوں نے اپنے دل میں کہا
اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پہنچانے کے بعد اب میرا جوبھی حشر ہو مجھے
اس کی قطعی کوئی پروا نہیں۔“
ادھر جب کسری کا غصہ فرو ہوا تو اس نے جناب عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دوبارہ اپنے سامنے پیش کیے جانے کا حکم دیا لیکن وہ نہیں ملے۔ اس کے آدمیوں نے بہت تلاش کیا مگر ان کا کوئی سراغ نہ ملا۔ ان لوگوں نے جزیرہ عرب تک جانے والے تمام راستوں کو چھان مارامگر وہ ان کے ہاتھ سے نکل چکے تھے.
جب جناب عبداللہ رضی اللہ عنہ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے کسری کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی کل رو دادآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار کردی اور خط پھاڑنے کے واقعے سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا۔ ان کی مکمل روداد سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اتنا فرمایا۔
مرق الله ملکه. الله تعالی اس کی سلطنت کو پارہ پارہ کردے ۔‘‘(۳)
ادھر کسری نے اپنے یمن کے گورنر باذان کو لکھا کہ اس شخص کے پاس جس نے حجاز میں نبوت کا دعوی کیا ہے اپنے دوقوی اور بہادر آدمیوں کو بھیجو اور انہیں حکم دو کہ اسے پکڑ لائیں اور میرے سامنے پیش کریں۔ حسب حکم باذان نے اپنے دو بہترین آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ کئے اور ان دونوں کے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط بھی بھیجا جس میں اس نے لکھا کہ آپ بلا تاخیر ان کے ساتھ کسری کے سامنے پیش ہونے کے لئے چلے آ ئیں ۔ اس نے ان دونوں
سے یہ بھی کہا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سے مکمل آگاہی حاصل کریں اور ان کے متعلق مفصل معلومات فراہم کر کے اس کو آگاہ کردیں۔
وہ دونوں پیہم اور تیز رفتاری کے ساتھ مراحل سفر طے کرتے ہوئے طائف پہنچے۔ وہاں ان کی ملا قات قریش کے ایک تجارتی قافلے سے ہوئی۔ ان سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ یثرب میں ہیں ۔ اس کے بعد تاجر خوش وخرم اور شاداں و فرحاں مکہ پہنچے اور انہوں نے قریش کو خوش خبری دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات تمہارے لئے بڑی خوش کن اور مسرت انگیز ہے کہ "کسری محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے درپے آزاد ہوگیا ہے اور اس نے تمہیں اس کے شر سے بچالیا ہے۔ اور ان دونوں نے مدینہ کا رخ کیا۔ وہاں پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور باذان کا خط آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ
کسری نے اپنے حاکم باذان کو ہدایت کی ہے کہ وہ آپ کو لانے کے لئے کسی کوبیجھے۔ چنانچہ ہم اس لئے آئے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ چلے چلیں اگر آپ ہماری بات مان لیں تو ہم کسری سے بات کر کے آپ کے لئے رعایت حاصل کریں گے اور آپ کو اس کی طرف پہنچنے والی ہر متوقع تکلیف اور اذیت سے بچائیں گے ۔ لیکن اگرآپ نے ہماری بات ماننے سے انکار کیا تو آپ خود اس کی قوت و سرکشی سے بخوبی واقف ہیں۔ آپ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ آپ کو اور آپ کی پوری قوم کو تباہ و برباد کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ باتیں سن کر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ آج تو تم لوگ اپنی قیام گاہ پر واپس جاؤکل پھر آنا۔ جب دوسرے دن وہ دونوں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ چلنے اور کسری سے ملنے کے لئے خود کو تیار کر لیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ آج کے بعد تم کسری سے نہیں مل سکو گے۔ اللہ تعالی نے اس کےبیٹے "شیرویہ” کوفلاں مہینے کی فلاں رات اس کے اوپر مسلط کر کے اسے ہلاک کر دیا ہے۔
یہ سنا تو ان کے چہروں پر دہشت و حیرانی کے آثار ظاہر ہوئے اور وہ ٹکٹکی باندھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنے لگے۔ پھر وہ اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے بولے
جانتے ہیں آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ کیا یہ بات ہم اذان کولکھ دیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا۔ ہاں! اور اس کو یہ بھی لکھ دینا کہ میرا دین کسری کی سلطنت کے آخری حدود تک پہنچے گا اور اسے یہ بھی لکھ دو کہ اگر تم اسلام قبول کر لو تو میں تمہارا یہ سارا زیر حکومت علاقہ تمہارے سپرد کر کے تم کو تمہاری قوم کا حکمراں بنادوں گا۔
اس کے بعد وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہو کر باذان کے پاس پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبر سے اس کو مطلع کیا۔ باذان نے کہا کہ اگر یہ ان کی یہ بات درست ہے تو یقینا وہ اللہ کے نبی ہیں اور اگر ایسا نہیں تو سوچوں گا کہ مجھے ان کے ساتھ کیا رویہ اپنانا چاہے۔ پھر اس کے چند ہی روز بعد "شیرویہ” کاخط باذان کے پاس پہنچا جس میں اس نے لکھا تھا:
میں نے کسری کوقتل کردیا ہے۔ میں نے اس کو اپنی قوم کے انتقام میں قتل کیا ہے۔ اس نے ہماری قوم کے اشراف کوقتل کرنا ان کی عورتوں کو کنیز بنانا اور ان کے اموال کو غصب کرنا اپنا شیوہ بنا لیا تھا۔ جب میرا یہ خط تمہارے پاس پہنچے تو اپنے پاس موجود تمام لوگوں سے میری اطاعت وفرمانبرداری کا عہد لے لو۔“ باذان نے اس خط کو پڑھتے ہی ایک طرف پھینک کر اپنے دخول اسلام کا اعلان کر دیا اور اس کے ساتھ ہی یمن میں رہنے والے سارے ایرانیوں نے اسلام قبول کرلیا۔(۴)
یہ کہانی تو تھی جناب عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کی کسری شاہ ایران کے ساتھ ملاقات کی !رہی قیصر روم سے ان کی ملاقات کی کہانی ! تو وہ یہ ہے۔ قیصر روم کے ساتھ جناب عبدالله رضی اللہ عنہ کی ملاقات خلیفہ ثانی جناب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی تھی۔ ان کی ملاقات کا یہ قصہ بھی حد درجہ دلچسپ اور نہایت حیرت انگیز ہے۔
امیرالمومنین جناب عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ۱۳ ہجری میں رومیوں سے جنگ کرنے کے لئے ایک فوج روانہ کی تھی جس میں جناب عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ بھی شریک تھے۔ مسلم مجاہدین کی صداقتِ ایمانی عقیدہ کی پختگی اور اللہ تعالی کی راہ میں ان کی جانبازی و جاں نگاری کی خبریں قیصر روم تک پہلے سے پہنچی ہوئی تھیں۔ اس نے اپنے فوجی افسروں کو اس بات کی ہدایت کر دی تھی کہ وہ اگر کسی مسلم سپاہی کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو اسے قتل نہ کریں بلکہ زندہ اس کے سامنے پیش کریں۔ اللہ کی مرضی! اتفاق سے جناب عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ رومی فوجیوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے رومی انہیں بادشاہ کے پاس لائے اور یہ کہتے ہوئے اس کے سامنے پیش کیا کہ یہ شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اصحاب میں سے ہے جنہوں نے بالکل آغاز دعوت کے زمانے میں ان کی پکار پر لبیک کہا تھا۔ ہم اس کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے اور حسب حکم آپ کے سامنے پیش کر رہےہیں
قیصر انہیں دیرتک بغور دیکھتا رہا۔ پھر ان سے کہنے لگا: ”
میں تمہارے سامنے ایک بات پیش کررہا ہوں ۔“
جناب عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”وہ کیا بات ہے؟“
تم نصرانیت قبول کر لو۔ اگرتم نے میری بات مان لی تو میں تمہیں رہا کردوں گا اور تمہارے ساتھ عزت و تکریم کا بہترین سلوک کروں گا۔
جناب عبدالله رضی اللہ عنہ نے اس کی اس پیشکش کو پائے نفرت و حقارت سے ٹکرا دیا اور حد درجہ حزم وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا: یہ ناممکن ہے۔ موت مجھے تمہاری اس پیشکش سے ہزاروں گنا زیادہ محبوب ہے۔“ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم ایک نہایت عقلمند و دانا آدمی ہو۔ اگر تم میری یہ پیشکش قبول کر لوتو میں تمہیں اپنے اقتدار میں شریک کرلوں گا۔“
قیصر ان کوشیشے میں اتارنے کی کوشش کر رہا تھا۔
بادشاہ کی اس بے وزن پیش کش کوسن کر بوجھل زنجیروں میں جکڑا ہوا قیدی بے ساختہ مسکرا پڑا اور اس نے نہایت بے نیازی اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا۔
اللہ کی قسم ! اگر تم عرب وعجم کی ساری سلطنت بھی مجھے دے دو اور اس کے بدلہ میں صرف یہ چاہو کہ میں ایک لمحے کے لئے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر جاؤں تو بھی میرے لئے قطعا نا قابل قبول ہے
قیصر نے دھمکی دیتے ہوئے کہا۔ تب میں تم کوقتل کر دوں گا۔‘
جناب عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کی دھمکی سے مرعوب ہوئے بغیر جواب دیا۔
تمہاری مرضی جو چاہو کرو۔‘
پھر قیصر نے انہیں ٹکٹکی (تِپائی جس سے مجرموں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر کوڑے یا بید مارتے ہیں) پر باندھنے کاحکم دیا۔ اس کے اس حکم کی فورا تعمیل کی گئی اور انہیں ٹکٹکی پر باندھ دیا گیا۔ اس کے بعد اس نے جلاد سے رومی زبان میں کہا کہ اس کے دونوں ہاتھوں کے آس پاس تیر چلاؤ (وہ اس وقت بھی انہیں نصرانیت قبول کرنے کی دعوت دے رہا تھا) مگر انہوں
نے انکار کر دیا۔ پھر اس نے جلاد کو اس کے پاؤں کے اردگرد تیر مارنے کا حکم دیا ۔ (اس دوران میں بھی وہ انہیں اپنا دین چھوڑنے کی دعوت دیتا رہا لیکن انہوں نے پھر بھی انکار کیا) تب قیصرنے جلاد کو رک جانے کا اشارہ کیا اور کہا کہ اسے تختہ دار سے نیچے اتار دو۔ پھر اس نے ایک بڑی سی دیگ منگوائی اس میں تیل ڈلوایا اور اسے آگ پر رکھوا دیا۔ جب تیل کھولنے لگا تو اس نے مسلم قیدیوں میں سے دو آدمیوں کو بلوایا اور ان میں سے ایک کو کھولتے ہوئے تیل میں ڈلوا دیا۔ اس میں ڈالتے ہی ان کے بدن کا گوشت الگ ہو گیا اور ہڈیاں نظر آنے لگیں۔ قیصر نے جناب عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کرتے ہوئے پھر ان کو نصرانیت قبول کرنے کی دعوت دی۔ مگر انہوں نے پہلے سے بھی زیادہ سختی کے ساتھ اس کی دعوت کو ردکر دیا۔ جب وہ ان سے بالکل مایوس ہوگیا تو انہیں بھی اسی دیگ میں ڈالنے کا حکم دیا جس میں ان کے دونوں ساتھیوں کو ڈالا گیا۔ جب انہیں کشاں کشاں دیگ کی طرف لے جایا جارہا تھا ان کی آ نکھیں اشک آلود ہوگئیں ۔ سپاہیوں نے قیصر سے کہا کہ یہ رورہا ہے۔ قیصر نے سمجھا کہ اب ان کی ہمت جواب دے گئی ہے۔ اس نے سپاہیوں سے کہا کہ اسے میرے پاس لاؤ۔ جب جناب عبداللہ رضی اللہ عنہ اس کے پاس پہنچے تو اس نے پھر اس خواہش کا اعادہ کیا کہ وہ نصرانیت اختیار کر لیں مگر جب انہوں نے انکار کر دیا تو اس نے دریافت کیا کہ پھر تم رو کیوں رہے تھے؟
جناب عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔ "میرے دل میں یہ خیال آیا کہ عبداللہ اس وقت تم اس دیگ میں ڈال دیئے جاؤگے اور تمہاری جان نکل جائے گی حالانکہ میری خواہش تھی کہ کاش میرے بدن میں اتنی ہی جانیں ہوتی جتنے بال ہیں اور وہ تمام جانیں ایک ایک کر کے اللہ کے دین کے لئے اس دیگ میں ڈالی جاتیں۔ اسی خیال پر مجھے رونا آگیا۔
ہرقل نے پوچھا ”اچھا کیا تم میرے سر کو بوسہ دے سکتے ہو؟ اگر تم ایسا کرو تو میں تم کو رہا کر دوں گا۔

جناب عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا۔ اور میرے دوسرے تمام مسلمان ساتھیوں کوبھی؟
قیصر نے جواب دیا۔ "ہاں! دوسرے تمام مسلمان قیدیوں کو بھی تمہارے ساتھ رہا کر دیا جائے گا۔ جناب عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دل میں سوچا کہ یہ اللہ کا ایک دشمن
ہے اگر میں اس کے سر کو بوسہ دے دوں تو یہ اس کے بدلہ میں مجھے اور تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کر دے گا ایسا کر لینے میں میرا کیا نقصان ہے؟‘‘ پھر انہوں نے قریب جا کر اس کے سر کو بوسہ لے لیا اور ہرقل نے اپنے آدمیوں سے کہا کہ تم مسلمان قیدی جمع کرکے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کے حوالہ کر دیئے جائیں اور اس کے حکم کی تعمیل کی گئی۔
جناب عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ خلیفہ کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے اپنی یہ آپ بیتی ان کو سنائی جس کو سن کر وہ بہت خوش ہوئے اور قیدیوں کو دیکھا تو فرمایا کہ ہر مسلمان پر یہ حق ہے کہ وہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کے سر کو بوسہ دے اوریہ حق سب سے پہلے میں ادا کر رہا ہوں۔ اور پھر انہوں نے جناب عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کے سر کا بوسہ لیا۔
اللہ تعالیٰ عبداللہ بن حزافہ ؓ کے درجات بلند کرے
آمین یارب العالمین
✿❀✿❀✿❀✿❀✿❀✿❀✿❀✿❀✿
(١)صحیح بخاری کتاب المغازی (حدیث /٤٤٢٤)

(۲)سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم مؤلفہ امام ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ (٢: ٤٥٣، ٣٥٥)

(۳)صحیح بخاری کتاب المغازی (حدیث/٤٤٢٤)، فتح الباری بحوالہ الرحیق المختوم صفحہ ٤٨١،
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم مؤلفہ امام ابن کثیر جلد۲-۳۵۵

(۴)فتح الباری به حوالہ الرحیق المختوم صفحہ ٤٨٢ ،٤٨٣
رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم جلد١ ص٢٢٦، ٢٢٧

 

نوٹ:  کسی بھی قسم کی غلطی نظر آئے تو ہمیں ضرور اطلاع کریں۔ 

ناشر: eSabaq.com

eSabaq.in@gmail.com
zakariyyaachalpuri9008@gmail.com

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔