جناب عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ

سلسلہ نمبر ۱۰
جناب عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ
عربی کتاب: صور من حیاۃ الصحابہ
مؤلف: علامہ عبدالرحمن رافت الباشا
اردو کتاب: صحابۂ رسول ﷺ کی تڑپا دینے والی زندگیاں
جدید تخریج شدہ
مترجم: مولانا اقبال احمد قاسمی
مرتب: عاجز: محمد زکریّا اچلپوری الحسینی

جناب عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ
وہ صحابی جلیل القدر جن کی زندگی کی چند جھلکیاں ہم اس وقت پیش کر رہے ہیں۔
رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے ساتھ ان کا بہت گہرا اور مضبوط رشتہ تھا، وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے دعوت دین کے اولین مرحلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار پر لبیک کہا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بھائی تھے، ان کی والدہ محترمہ امیہ بنت عبدالمطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برادر نسبتی تھے، ان کی ہمشیرہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ اور امہات المومنین میں سے تھیں، وہ پہلے شخص تھے جن کو اسلام میں کسی فوجی مہم کی قیادت سونپی گئی، ان
سب کے علاوہ وہ پہلے آدمی جن کو امیر المومنین کے لقب سے پکارا گیا وہ بزرگ اور محترم صحابی جناب عبد الله بن جحش اسدی رضی اللہ عنہ ہیں۔
جناب عبد الله بن جحش رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دار ارقم میں داخل ہونے سے قبل مشرف بہ اسلام لاچکے تھے، ان کا شمار سابقین اولین میں ہوتا تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی اذیت رسانیوں سے بچنے کے لئے اور اپنے دین کی حفاظت کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہجرت مدینہ کی اجازت مرحمت فرمائی تو قافلہ مہاجرین میں صرف ایک شخص ان سے آگے تھا، ان سے پہلے اس شرف کی طرف سوائے جناب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے کسی اور نے سبقت نہیں کی تھی۔
اللہ کے لئے ہجرت کرنا اور اس کی راہ میں گھر بار اور اہل وعیال سے جدائی اختیار کرنا جناب عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے کسی اور نے سبقت نہیں کی تھی۔
اللہ کے لئے ہجرت کرنا اور اس کی راہ میں گھربار اور اہل وعیال سے جدائی اختیار کرنا جناب عبدالله بن جحش رضی اللہ عنہ کے لئے کوئی نیا تجربہ نہ تھا۔ اس سے پہلے وہ اور ان کے گھرانے کے کچھ لوگ حبشہ کی طرف ہجرت کر چکے تھے لیکن اب کی بار ان کی ہجرت نہایت کامل اور وسیع ہجرت تھی، اس بار ان کے اہل وعیال ان کے متعلقین اور اہل خاندان سب نے ہجرت میں ان کا ساتھ دیا، ان میں سے مرد عورتیں بچے بچیاں اور بوڑھے جوان بھی ان کے شریک سفر تھے کیوں کہ ان کا گھر اسلام کا گھر اور ان کا خاندان ایمان کا خاندان تھا۔
جب یہ لوگ مکہ چھوڑ کر نکل گئے تو ان کے مکانات ر نج و ملال اور حزن و افسردگی کی تصویر پیش کررہے تھے۔ ان کے اوپر اس طرح ویرانی اور اداسی مسلط ہوئی اور زندگی کی رونق اور چہل پہل کے آثار اس طرح وہاں سے مٹ گئے جیسے پہلے وہاں کوئی رہتا ہی نہ تھا، جناب عبد اللہ بن جش رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کو ہجرت کئے ہوئے ابھی تھوڑی ہی مدت گزری تھی کہ ایک دن سرداران قریش ہی معلوم کرنے کے لئے مکہ کے محلوں اور آبادیوں میں گشت کرنے نکلے کہ مسلمانوں میں سے کون کون سے لوگ مکہ چھوڑ کر جا چکے ہیں اور کون سے لوگ ابھی تک یہاں سکونت پذیر ہیں، ان گشت کرنے والوں میں ابوجہل بھی تھا اور عتبہ بن ربیعہ بھی، عتبہ بن ربیعہ نے دیکھا کہ بنو جحش کے مکانات میں گردوغبار اڑاتی ہوئی ہوا ئیں نوحہ کرتی پھر رہی ہیں اور ان کے دروازوں کے کھلے ہوئے پٹ آپس میں ٹکراٹکرا کر بڑی بھیا نک آواز پیدا کر رہے ہیں ۔ یہ دیکھ کر اس نے کہا کہ بنو جحش کے مکانات ویران ہوگئے ہیں اور یہ اپنے مکینوں کے فراق میں رو رہے ہیں، یہ سن کر ابوجہل نے کہا کہ یہ کیسے لوگ تھے کہ ان کی جدائی کے صدمے سے ان کے مکانات تک رور ہے ہیں؟ پھر ابوجہل نے جناب عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے مکان پر قبضہ کر لیا اور اس پر اور اس میں باقی مانده سامان و اسباب پر مالکانہ طور پر تصرف کرنے لگا، جب اپنے مکان پر ابوجہل کے قبضے کی خبر جناب عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو ہوئی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ! کیا تم اس بات پرخوش نہیں ہو کہ اللہ تعالی اس کے عوض میں تم کو جنت میں مکان عطا فرمائے؟“ انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں اس پر راضی ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کو اس کے بدلہ میں جنت میں اس سے عمدہ اور عالیشان مکان ملے گا۔‘‘ یہ سن کر ان کا جی خوش ہو گیا اور ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوگئیں۔
جناب عبد الله بن جحش رضی اللہ عنہ بھی اپنی دونوں ہجرتوں کی مشقتیں جھیلنے کے بعد ابھی مدینہ میں قرار و سکون کی دو گھڑیاں بھی نہیں گزار پائے تھے کہ قریش مکہ کے ہاتھوں دکھ اور ازیت برداشت کرنے کے بعد بھی انصار مدینہ کے زیر سایہ اور ان کے حفظ و امان میں رہ کر وہ سکھ چین کے چندلمحات بھی نہیں بتا سکے تھے کہ اللہ تعالی کی مشیت نے انہیں ان کی زندگی کی سب سے کڑی آزمائش اور ان کے اسلام لانے کے بعد کے سب سے تلخ تجربے سے دوچار کردیا۔
ہوا یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی اولین فوجی مہم کے لئے آٹھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (١) کوجن میں جناب عبداللہ بن جحش اور جناب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے طلب فرمایا اور کہا کہ میں تمہارا امیر اس شخص کو مقرر کروں گا جو بھوک پیاس کی شدت سب سے زیادہ برداشت کر سکتا ہو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دستے کی قیادت جناب عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے سپرد فرمائی اس طرح جناب عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سب سے پہلے مسلمان تھے جن کو مسلمانوں کے کسی فوجی دستے کی قیادت سونپی گئی۔
روانگی سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے سمت سفر کا تعین فرمایا اور ایک خط ان کے حوالے کرتے ہوئے یہ ہدایت کی کہ دو دن کی مسافت طے کرنے سے پہلے اس کو نہ پڑھیں۔ حسب ہدایت جب انہوں نے اس خط کو کھولا تو اس میں یہ ہدایت درج تھی: .
میرے اس خط کو پڑھنے کے بعد آگے بڑھ کر طائف اور مکہ کے درمیان ’’نخلہ کے مقام پر پڑاو ڈالو اور وہاں ٹھہر کر قریش کی ٹوہ لگاؤ اور ان کے حالات سے واقفیت حاصل کرو‘‘
جناب عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے خط پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سرتسلیم خم کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں مقام نخلہ پہنچ کر وہاں خفیہ طور پر قریش پر نظر رکھوں اور ان کے حالات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کروں انہوں نے مجھے تم میں سے کسی کو زبردستی اپنے ساتھ لے جانے سے منع فرمایا ہے اس لئے تم میں سے جو شہادت کا طالب اور اس کا آرزومند ہو وہ میرے ساتھ چلے اور جس کا جی چاہے بلاخوف ملامت واپس چلا جائے۔ لیکن سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو بسروچشم قبول کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جہاں جانے کا حکم دیا ہے چلئے ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔
وہ لوگ وہاں سے آگے بڑھے اور نخلہ کے مقام پرپہنچ کر قریش کے حالات معلوم کرنے کے لئے مختلف راستوں پر چکر لگانے لگے اس تلاش و جستجو کے دوران میں ان کی نظر دور سے آتے ہوئے قریش کے ایک تجارتی قافلے پر پڑی جو چار آدمیوں عمرو بن حضرمی ،عمر بن کیسان، عثمان ابن عبداللہ اور اس کے بھائی مغیرہ بن عبدالله پرمشتمل تھا۔ ان لوگوں کے ساتھ قریش کا سامان تجارت تھا جس میں کھال اور کشمش وغیرہ وہ چیزیں تھیں جن کی وہ تجارت کرتے تھے۔
وہ تاریخ ماہ حرام (رجب) کی آخری تاریخ تھی، صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں اس بات پر مشورہ کیا کہ قافلے کے ساتھ کون سا طرزعمل اختیار کیا جائے ؟ اگر ہم انہیں قتل کرتے ہیں تو ماه حرام میں جنگ و خونریزی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس صورت میں ماہ حرام کی حرمت پامال ہوگی اور ہم اہل عرب کی ناراضی اور ان کی ملامت کا ہدف بن جائیں گے اور اگر نہیں آج کی تاریخ گزرنے تک مہلت دے دیں تو یہ حدود حرم میں داخل ہو کر ہماری پہنچ سے باہر ہو جائیں گے اور خود کو ہماری گرفت سے محفوظ کر لیں گے۔ وہ دیر تک اس مسئلے پر غور وفکر کرتے رہے۔ آخر کار وہ ان کے اوپر حملہ کر نے انہیں قتل کرنے اور ان کے مال و اسباب کو بطور غنیمت لے لینے پرمتفق الرائے ہو گئے اور پھرتھوڑی دیر میں وہ ان میں سے ایک کوقتل اور دو کوگرفتار کر چکے تھے۔ البتہ چوتھا شخص بھاگ کر اپنی جان بچا لینے میں کامیاب ہوگیا۔
جناب عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی دونوں امیروں اور سامان تجارت سے لدے ہوئے اونٹوں کو لئے ہوئے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں
پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کارروائی سے آگاہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس فعل پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور ان سے کہا:
اللہ کی قسم! میں نے تمہیں جنگ کی اجازت نہیں دی تھی، میں نے تو تم کو صرف قریش کے حالات معلوم کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ ہدایت کی تھی کہ ان کی نقل و حرکت پر
خفیہ طور پر نظر رکھو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا بلکہ ان کے معاملے کو فی الحال ملتوی کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت سے بھی اعراض فرمایا اور اس میں سے کچھ نہیں لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرزعمل سے جناب عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو سخت صدمہ پہنچا اور انہیں اس بات کا یقین ہوگیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو کر مکمل طور پر تباہی و بربادی کا سامنا کر رہے ہیں۔ مزید برآں ان پر یہ بات بھی شاق گزری کہ ان کے مسلمان بھائی انہیں ملامت کرنے لگے۔ جب بھی ان کا گزر مسلمانوں کی کسی ٹولی کی طرف سے ہوتا وہ یہ کہتے ہوئے ان کی طرف سے منہ پھیر لیتے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے، اور انہیں اس وقت اور زیادہ صدمہ پہنچا جب ان کو یہ بات معلوم ہوئی کہ قریش نے ان کی اس حرکت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنے اور ان کو قبائل میں بدنام کرنے کا ایک ذریعہ بنا لیا ہے۔ مشرکین مکہ یہ کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرتے پھر رہے تھے کہ ”محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے حرام مہینے کو حلال کر لیا اس میں خونریزی کی، مال لوٹا اور آ دمیوں کو گرفتار کیا۔“ پھر نہ پوچھئے کہ جناب عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کو اپنی اس بے پروائی پر کتنا گہرا رنج اور صدمہ ہوا اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی شرمندگی اور ندامت لاحق ہوئی کیونکہ ان کی اس کارروائی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت ذہنی کوفت و اذیت میں مبتلا ہوگئے تھے۔ جب ان لوگوں کی
بے چینی اور پریشانی حد سے متجاوز اور ان کی قوت برداشت سے باہر ہوگئی تو اچانک ایک شخص نے آکر انہیں یہ مژدۂ جانفزا سنایا کہ الله تعالی ان سے راضی ہوگیا اور اس نے اس سلسلے میں اپنے نبی پر قرآن نازل کیا ہے یہ سن کر انہیں نا قابل بیان مسرت حاصل ہوئی لوگ قرآن کی اس آیت کو پڑھتے ہوئے انہیں خوش خبری سناتے انہیں مبارک باد دیتے اور ان کے ساتھ معانقہ کرتے
سْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ (البقرة: ۲۱۷)
لوگ پوچھتے ہیں کہ ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے؟ کہو کہ اس میں لڑنا بہت برا ہے مگر اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ اللہ پرستوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی برا ہے اور فتنہ تو خون ریزی سے شدید تر ہے۔“
. جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جی خوش ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلے کا مال قبول کر لیا اور دونوں قیدیوں کو فدیہ لے کر رہا فرمادیا (۲) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جناب عبدالله بن جحش رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء سے بھی راضی ہو گئے کیونکہ ان کا یہ غزوہ مسلمانوں کی زندگی میں ایک بہت بڑے اور عظیم واقعے کی حیثیت رکھتا تھا اس غزوہ میں حاصل ہونے والا مال غنیمتِ اسلام میں سب سے پہلا مال غنیمت تھا اس میں قتل ہونے والا شخص پہلا مشرک تھا جس کا خون مسلمانوں نے بہایا۔ اس میں گرفتار ہونے والے قیدی پہلے قیدی تھے جو مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے، اس کا جھنڈا پہلا جھنڈا تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک نے باندھا اور اس کے امیر جناب عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ وہ شخص تھے جن کو امیر المومنین کے لقب سے پکارا گیا، پھر بدر کا معرکہ پیش آیا، اس میں جناب عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے شجاعت و مردانگی کے وہ جوہر دکھائے جوان کے ایمان کے شایان شان تھے، پھر غزوہ احد پیش آیا، جس میں جناب عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ان کے دوست جناب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مابین ایک یادگار اور ناقابل فراموش واقعہ پیش آیا، جناب سعد رضی اللہ عنہ اپنے اور اپنے دوست کے واقعے کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
غزوہ احد کے موقع پر عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور بولے : کیا تم اللہ تعالی سے دعا نہیں کروگے؟“ میں نے جواب دیا : کیوں نہیں ۔ پھر ہم دونوں ایک طرف خلوت میں چلے گئے اور میں نے دعا کی :”اے میرے رب! جب دشمن سے میری
بھیڑ ہو تو میرا مقابلہ کسی ایسے شخص سے کرانا جس کی گرفت نہایت سخت اور جس کا غیظ غضب انتہائی شدید ہو۔ میں اس سے لڑوں وہ مجھ سے لڑے پھر تو مجھے اس کے اوپر غلبہ و کامرانی عطا فرما، حتی کہ میں اسے قتل کر کے اس کے اسلحے کو اپنے قبضے میں کرلوں۔“
عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے میری اس دعا پر آمین کہی، پھر انہوں نے دعا کی :”اے اللہ! میدان جنگ میں میرا مقابلہ ایسے شخص سے کرانا جو انتہائی غضبناک اور سخت گیر ہو میں تیری راہ میں اس سے جنگ کروں اور وہ مجھ سے لڑے
پھر وہ میرے اوپر غالب آجائے اور میری ناک اور میرے کان کاٹ لے اور جب قیامت کے دن میں تیرے سامنے حاضر ہوں تو مجھ سے پوچھے کہ ائے میرے بندے! تیری ناک اور کان کیو کاٹے گئے؟ تو میں کہوں یا اللہ تیری اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں اور تو کہے کہ تو نے سچ کہا۔
جناب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کی دعا میری دعا سے اچھی تھی میں نے دن کے آخری حصے میں دیکھا کہ انہیں قتل کر کے ان کا مثلہ کر دیا گیا ہے اور ان کی ناک اور کانوں کو ایک دھاگے کے ذریعہ سے درخت پر لٹکا دیا گیا ہے۔
اللہ تعالی نے جناب عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کی دعا قبول فرمالی اور انہیں شہادت کی نعمت سے نواز (۳) جیسا کہ ان کے ماموں جناب حمزہ رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب کو نوازا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس آ نسو ان کی قبر کوتر کر رہے تھے جو شہادت کی خوشبو سے معطر ہورہی تھی۔
الشیخ صفی الرحمان مبارک پوری رحمۃ اللہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ‘الرحیق المختوم میں صفحہ ۲۷۳ پر) اس مہم کے شریک صحابه کرام رضی اللہ عنہم کی تعدا ١٢ لکھی ہے۔
(۲) الرحیق المختوم شیخ صفی الرحمن مبارک پوری رحمتہ اللہ علیہ ۲۷۳- ۲۷۵۔ جناب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول مشرک کے ورثاخونبہابھی ادا کئے ۔ حوالہ مذکورہ صفحہ۲۷۵۔
(۳) سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم امام ابن کثیر٢: ٦٦

 

نوٹ:  کسی بھی قسم کی غلطی نظر آئے تو ہمیں ضرور اطلاع کریں۔ 

ناشر: eSabaq.com

eSabaq.in@gmail.com
zakariyyaachalpuri9008@gmail.com

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔