از: ظفر احمد خان ندوی
انجمن فلاح دارین، شیو بزرگ، تعلقہ کھیڈ، ضلع رتناگری، مہاراشٹر zafarkabeeri@gmail.com
Mob :9421590170
اللہ رب العزت نے بعض چیزوں کو بعض پر فضیلت و رتبہ سے نوازا ہے۔ جیسا کہ مدینہ منورہ کو تمام شہروں پر فضیلت حاصل ہے، وادیِ مکہ کو تمام وادیوں پر، بئر زمزم کو تمام کنوؤں پر، مسجد حرام کو تمام مساجد پر، سفرِ معراج کو تمام سفروں پر، ایک مؤمن کو تمام انسانوں پر، ایک ولی کو تمام مؤمنوں پر، صحابی کو تمام ولیوں پر، نبی کو تمام صحابہ پر، رسول کو تمام نبیوں پر اور رسولوں میں تاجدارِ کائنات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاص فضیلت کے حامل ہیں۔
اللہ رب العزت نے اسی طرح بعض دنوں کو بعض پرفضیلت دی ہے۔ یوم جمعہ کو ہفتہ کے تمام ایام پر، ماہ رمضان کو تمام مہینوں پر، قبولیت کی ساعت کو تمام ساعتوں پر، لیلۃ القدر کو تمام راتوں پر فضیلت و عظمت بخشی ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے سال کے بارہ مہینوں میں سے چار مہینوں کو حرمت والے قرار دیا ہے جیسا کہ ارشاد ہے "بے شک اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جس دن سے اللہ نے زمین اور آسمان پیدا کیے، ان میں سے چار عزت والے ہیں،
اسلامی تقویم کا آخری مہینہ ذی الحجه بھی حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک محترم اور بابرکت مہینہ ہے یہ اشهر حرم (حرمت والے مہینوں)کا آخری مہینہ هے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چارعمروں میں سے ایک عمره اسی مہینے میں حجۃ الوداع کے ساتھ ادا فرمایا تھا یہ وہ عظیم اور بابرکت مہینہ ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے بیت اللہ شریف پہنچتے ہیں اور اسے ادا کرتے ہیں یہ اسلامی سال کا آخری مہینہ ہے اس کے اختتام پر اسلامی سال مکمل ہوتا ہے۔
● عشرہ ذی الحجہ:
ماہ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ قرآن و حدیث کے مطابق افضل ترین عشرہ ہے اللہ تعالی نے ان دنوں کی قسم کھائی ہے، اللہ تعالی کا ارشادہے ۔ وَالْفَجْرِ ﴿١﴾وَلَيَالٍ عَشْرٍ ﴿٢﴾وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ(٣)قسم ہے فجر کی(1)اور دس راتوں کی(2)اور جفت اور طاق کی(3)
●اللہ نے قسم کیوں کھائی ؟
اللہ تعالٰی نے فجر کی قسم کھائی ہے جو رات کاآخر اور دن کا مقدمہ ہے ،کیونکہ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالٰی کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں ،نیز یہ کہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا اللہ تعالٰی ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔فجر کے وقت ایک نہایت فضیلت اور عظمت والی نماز واقع ہوتی ہے اور وہ اس کی اہل ہے کہ اللہ تعالٰی اس کی قسم کھائے ،اس لیے اس کے بعد اللہ تعالٰی نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے، اور صحیح قول کے مطابق یہ ذی الحجہ کی دس راتیں جو بہت ہی فضیلت والی ہیں ۔ ان ایام میں جو فضائل برکات نازل ہوتی ہیں وہ دوسرے ایام میں نہیں ہوتیں ۔ ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں عرفہ کا وقوف ہوتا ہے جس میں اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو مغفرت سے نوازتا ہے، جس سے شیطان غمگین ہوتا ہے ۔ شیطان جس قدر حقیر اور دھتکارا ہوا عرفہ کے دن ہوتا ہے،اتنا حقیر اور دھتکارا ہوا کبھی نہیں دیکھا گیا ،کیونکہ اس روز وہ اللہ تعالٰی کے بندوں پر فرشتوں اور اس کی طرف سے رحمت کو اترتے ہوئے دیکھتا ہے ۔ان دنوں میں حج اور عمرے کے بہت سے افعال واقع ہوتے ہیں اور یہ اشیاء قابل تعظیم اور اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی قسم کھائی جائے، دس راتوں کی قسم کے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کا پہلا عشرہ ہے اللہ تعالی کا ان ایام کی قسم کھانا ہی ان کی عظمت اور فضیلت کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ رب العالمین کسی عظمت والی چیز ہی کی قسم اٹھاتا ہے ، اس کے ساتھ جفت اور طاق کی قسم کھائی، جفت اور طاق میں ساری مخلوق آجاتی ہے، مخلوق یا تو جفت ہے یا طاق، اس سے ہٹ کر نہیں، ذوالحجہ کے دس دنوں میں بھی ایک اہم طاق موجود ہے جو عرفہ کادن ہے، نو تاریخ کو ہے ، اور ایک اہم جفت موجود ہے، اور وہ قربانی کا دن ہے، جو دس تاریخ کو ہے۔
● عشرہ ذىالحجه کے فضائل:
عشرہ ذی الحجہ میں کیا جانے والا نیک عمل اللہ تعالی کو دوسرے دنوں میں کئے ہوئے نیک اعمال سے زیادہ پیارا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ" اللہ تعالی کو کوئی نیک عمل کسی دن میں اس قدر پیارا نہیں جتنا ان دنوں میں پیارا ہے یعنی ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں صحابہ نے کہا اے اللہ کے رسول کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں آپ نے فرمایا نہیں جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور پھر کچھ واپس نہ لایا ہوں یعنی شہید ہوگیا( ابو داود)اس صحیح حدیث میں اس عشرہ کی بڑی بزرگی اور عظمت ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ جو بندہ کی ایک ایک نیکی کو اتنا محبوب رکھتا ہے کہ ایک ایک نیکی پر اس کو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ ہزاروں گا تک ثواب دیتا ہے۔ اس عشرہ کی نیکی کو بہت محبوب رکھتا ہے۔ یہ بحرِ رحمت کی موجیں ہیں جو عاجز بندہ کو اسکے بحرِ رحمت سے حظ وافر لینے کے لئے پکار رہی ہیں۔ کاش کہ انسان ایسے وقتوں کی قدر کرے اور کمربستہ ہو کر کچھ کما لے۔ خوش قسمت ہی وہ لوگ جو ایسے وقتوں میں بحرِ رحمت میں غوط لگاتے ہیں۔ ایک دوسرے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "ما من أیام أعظم عند الله سبحانه ولا أحب إلیه العمل فیهن من هذه الأیام العشر فأکثروا فیهن من التهلیل والتکبیر والتحمید" اللہ تعالی کے نزدیک عشرہ ذی الحجہ میں کیے جانے والے نیک اعمال جس قدر عظیم اور محبوب ہیں کسی اور دن کے نہیں لہذا ان میں تهلیل (لااله الاالله) اور تحمید (الحمدللہ)كثرت سے کیا کرو(احمد) ۔ ایک اور حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أفضل أيام الدنيا أيام العشر" اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کے ایام میں افضل ترین ایام ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں(مسند بزار)۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں عشرہ ذی الحجہ کے اس امتیازی شان کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بنیادی عبادات مسئلہ نماز روزہ صدقہ اور حج اكٹھی ہو جاتی ہیں جو ان کے علاوہ کسی اور دن میں جمع نہیں ہوتی، ایک اور حدیث میں نبی
ﷺ: نے فرما یا "أفضل أيام الدنيا أيام العشر" اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کے ایام میں افضل ترین ایام ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں(مسند بزار)
● یوم عرفہ:
نو ذىالحجہ(یوم عرفہ) کا دن مبارک دن اسی عشرہ میں ہے، اس دن میں حج کا سب سے بڑا رکن ”وقوف عرفہ“ ادا ہوتا ہے، اور اس دن بے شمار لوگوں کی بخشش اور مغفرت کی جاتی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے اس دن کی برکات سے غیر حاجیوں کو بھی محروم نہیں فرمایا: اس دن روزے کی عظیم الشان فضیلت مقرر کر کے سب کو اس دن کی فضیلت سے اپنی شان کے مطابق مستفید ہونے کا موقع عنایت فرمایا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:تمام دنوں میں سب سے افضل دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک جمعہ کا دن ہے، اور یہ دن ”شاہد“ ہے اور ”مشہود“ عرفہ کا دن ہے اور ”یوم موعود“ قیامت کا دن ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(عرفہ کے دن کے مقابلہ میں) کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے زیادہ بندوں کو جہنم سے نجات دیتے ہوں، حق تعالیٰ شانہ(عرفات میں وقوف کرنے والوں سے خصوصی رحمت کے ساتھ) قریب ہوتے ہیں پھر فخر کے طور پر فرماتے ہیں کہ یہ بندے کیا چاہتے ہیں؟(مسلم)
حضرت مسروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:سال بھر میں مجھے کوئی روزہ عرفہ کے دن سے زیادہ محبوب نہیں۔(مصنف ابن ابی شیبہ)
اس حدیث میں نو ذو الحجہ کے دن کے روزے کی بیش بہا فضیلت بیان کی گئی ہے۔ایک روایت میں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے عرفہ (یعنی 9ذىالحجہ ) کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا ،رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:(۹ذوالحجہ کا روزہ رکھنا) ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ (مسلم ،مسند احمد) یومِ عرفات
وہ ہے جِس دِن حاجی میدانِ عرفات میں قیام کرتے ہیں، یہ ہی وہ قیام ہے جِس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نےفرمایا الْحَجُّ عَرَفَةُ حج عرفات (کا قیام) ہے (سُنن ابن ماجہ، سُنن الترمذی)
اس قیام پر اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے سامنے فخر کا اَظہار کرتا ہے إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِى الْمَلاَئِكَةَ بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ يَقُولُ انْظُرُوا إِلَى عِبَادِى شُعْثاً غُبْراً اللہ عزّ وجلّ (یوم) عرفات کی شام میں اھل عرفات کے بارے میں اپنے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دیکھو میرے اِن بندوں کو کہ میرے پاس گرد و غبار سے اٹے ہوئے آئے ہیں (مُسند اَحمد، الجامع الصغیر) یہی وہ دِن ہے کہ جِس دِن میں اللہ تعالیٰ دوسرے دِنوں کی بہ نسبت سب سے زیادہ بندوں کی مغفرت کرتا ہے مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِى بِهِمُ الْمَلاَئِكَةَ فَيَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلاَءِ یوم عرفات کے علاوہ کوئی اور دِن ایسا نہیں جِس میں اللہ دوسرے دِنوں کی نسبت سب سے زیادہ اپنے بندوں کی بخشش کرتا ہے اور بے شک اللہ نیچے تشریف لاتا ہے اور اپنے اُن بندوں کے بارے میں فرشتوں کے سامنے اظہار فخر کرتا ہے اور کہتا ہے یہ بندے کیا چاہتے ہیں؟ (صحیح مُسلم)
جومُسلمان اِس قیام میں شامل نہیں ہوتے لیکن اِس دِن کا روزہ رکھتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُن لوگوں کو اِس دِن کا روزہ رکھنے کی صُورت میں ایک سال پچھلے اور ایک سال اگلے کے گُناہ معاف ہونے کی خوش خبری دِی صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِى قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِى بَعْدَهُعرفات کے دِن کے روزے کےبارے میں مجھے اللہ سے یقین ہے کہ اُس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ایک گذرے ہوئے سال اور ایک یومء عرفات کے بعد والے سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے(صحیح مسلم)۔ یوم عرفہ کی دعا کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ, وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ". «عرفہ کے دن کی دعا تمام دعاؤں سے بہتر ہے، اور سب سے افضل کلمہ جو میں نے اور مجھ سے پہلے تمام انبیاء نے کہا ہے وہ یہ ہے: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ, وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ.اﷲ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، ملک اسی کا ہے، تعریفیں اسی کے لئے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے(ترمذی، موطا امام مالک) ۔
●حج:
اس مبارک عشرہ کی ایک اہم عبادت حج ہے جو اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ’’ جو لوگ بیت اﷲ کی طرف جانے کی استطاعت رکھتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ بیت اﷲ کا حج کریں(آل عمران:97)۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں آپؐ نے ایک دن خطبے میں فرمایا، اے لوگوں! تم پر حج فرض کردیا گیا ہے، لہذا اس کو ادا کرنے کی فکر کرو۔ (مسلم)
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ آپؐ سے پوچھا گیا کہ کیا چیز حج کو واجب کرتی ہے تو آپؐ نے فرمایا، سامان اور سواری (ترمذی)
جس مسلمان، عاقل، بالغ، صحت مند غیرمعذور کے پاس اس کی اصل اور بنیاد ی ضروریات سے زاید اور فاضل مال اتنا ہو کہ جس سے وہ بیت اﷲ تک آنے جانے اور وہاں کے قیام و طعام کا خرچ برداشت کرسکے اور اپنی واپسی تک ان اہل و عیال کے خرچ کا انتطام بھی کرسکے جن کا نان نفقہ اس کے ذمے واجب ہے اور راستہ بھی مامون ہو تو ایسے ہر مسلمان پر حج فرض ہے۔ عورت کے لیے چوں کہ بغیر محرم کے سفر کرنا شرعا جائز نہیں اس لیے وہ حج پر اس وقت قادر سمجھی جائے گی جب اس کے ساتھ کوئی محرم حج کرنے والا ہو، خواہ محرم اپنے خرچ سے حج کر رہا ہو یا عورت اس کا سفر خرچ برداشت کرے۔
حضور پاکؐ نے حج کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا ’’ حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں‘‘ (مشکوۃ)
ایک دوسری حدیث میں ہے’’ جو شخص حج کرے اور اس میں بے حیائی اور فسق و فجور نہ کرے تو وہ حج کرکے اس طرح گناہوں سے پاک لوٹے گا گویا آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے‘‘ (الترغیب و الترہیب)
عمرو بن عاص فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی محبت ڈال دی تو میں رسول اکرم کی خدمت میں حاضرہوا اور میں نے کہا کہ اے اللہ کے نبی ﷺ آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھایئے تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں چنانچہ آپ نے جوں ہی اپنا دست مبارک آگے بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا ،آپ ﷺ نے فرمایا عمرو تمہیں کیا ہوگیا ،میں نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺمیں ایک شرط لگانا چاہتاہوں آپ نے پوچھا کون سی شرط ہے ،میں نے کہا میری شرط یہ ہے کہ اللہ میرے تمام گناہ معاف فرمادے ۔تو نبی کریمﷺ نے فرمایا ’’ اما علمت یا عمرو۔۔۔ان الحج یھدم ماکان قبلہ‘‘(صحیح مسلم :کتاب الایمان)کہ اے عمرو کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام سابقہ تمام گناہوں کومٹادیتاہے ،ہجرت سابقہ خطائوں کو ختم کردیتی ہے اور حج تمام گناہوں کو مٹادیتاہے ۔
ایک بار صحابہ کرام ؓ نے آپؐ سے پوچھا کون سا عمل افضل ہے ؟ آپؐ نے جواب دیا’’ اﷲ پر ایمان لانا اور جہاد اور پھر حج مقبول جو بقیہ سارے اعمال پر اتنے درجے فضیلت رکھتا ہے جو سورج کے طلوع و غروب کے درمیان ہے ‘‘(طبرانی، احمد، الترغیب)
حضور اکرم ﷺ نے صرف فضائل بیان کرکے اپنی امت کو اس عمل کی طرف راغب نہیں کیا بل کہ عمل کرکے بتایا۔
بہت سے لوگ اپنے اوپر عجیب و غریب شرائط عاید کرکے اور بہانے بناکر حج سے راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو حضور اکرمؐ کے ان فرامین کو سامنے رکھنا چاہیے۔ آپؐ نے جان بوجھ کر حج ترک کرنے والے پر وعید بیان کرتے ہوئے فرمایا، جس شخص کے پاس ضروری سامان اور سواری ہو جو اسے بیت اﷲ تک پہنچا دے مگر اس کے باوجود وہ حج کو نہ جائے تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہوکر۔ (ترمذی)
اﷲ تعالیٰ نے حج کو امت مسلمہ پر فرض کرکے انہیں اخوت و محبت، اجتماعیت اور اتحاد کا درس دیا ہے۔ اور بیت اﷲ کو مرکز عالم بنا دیا کہ اطراف عالم سے لوگ بلاامتیاز اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں، نہ رنگ و نسل کی قید، نہ قوم و قبیلے کی پابندی اور نہ ہی کسی زبان و لہجے کی شرط۔ حج کا موسم آتے ہی مکہ میں مسلمانوںکا ایک جم غفیر ہوتا ہے ، مختلف رنگ و زبان اور مختلف النسل کے لوگ ایک ہی لباس میں ایک کام کرتے ہوئے اور یک زبان ہو کر ایک ہی صدا لگاتے ہیں۔ لبیک اللھم لبیک۔ یعنی لبیک کا ترانہ توحید الٰہی کی شہادت اور عظمت الٰہی کا اعتراف ہے کہ ہم ہر قسم کے شرک سے اپنے آپ کو بری کر رہے ہیں کہ الٰہی! تیرے سوا نہ کوئی اس قابل ہے کہ ہم اس کی بندگی کریں اور نہ ہی کوئی اس قابل ہے کہ ہم اپنی مصیبتوں میں اس کی طرف نظر اٹھائیں اور نہ ہی کوئی اس قابل ہے کہ ہماری کسی مصیبت کو دور کر دے۔ تلبیہ کو بلند آواز سے پڑھنے میں یہی حکمت ہے کہ اس توحید کو نہ صرف قبول کریں بلکہ اس کا اعلان کریں۔
●یوم النحر:
اسلام کے دو تہواروں میں سے ایک عیدالاضحیٰ اسی مقدس عشرہ کے آخری دن یعنی ذی الحجہ کی دس تاریخ کو منائی جاتی ہے جس
میں قربانی جیسا عظیم عاشقانہ والہانہ اور بے حد فضیلت والا عمل انجام دیا جاتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۗ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا ۗ وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ(الحج:34)
"اور ہم نے ہر ایک امت کے لئے قربانی کا طریق مقرر کر دیا ہے تاکہ جو مویشی چارپائے خدا نے انکو دئیے ہیں (انکے ذبح کرنے کے وقت) ان پر خدا کا نام لیں سو تمہارا ایک ہی معبود ہے تو اسی کے فرمانبردار ہو جاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو" ۔ یعنی قربانی ہر امت پر فرض قرار دی گئی اللہ کا فرمان ہے کہ کل امتوں میں ہر مذہب میں ہر گروہ کو ہم نے قربانی کا حکم دیا تھا۔ ان کے لئے ایک دن عید کا مقرر تھا ۔ وہ بھی اللہ کے نام ذبیحہ کرتے تھے۔ سب کے سب مکے شریف میں اپنی قربانیاں بھیجتے تھے ۔ تاکہ قربانی کے چوپائے جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت اللہ کا نام ذکر کریں۔ حضور علیہ السلام کے پاس دو مینڈھے چت کبرے بڑے بڑے سینگوں والے لائے گئے آپ نے انہیں لٹا کر ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا ۔ مسند احمد میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ نے جواب دیا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ۔ پوچھا ہمیں اس میں کیا ملتا ہے ؟ فرمایا ہربال کے بدلے ایک نیکی۔ دریافت کیا اور "اون" کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا ان کے روئیں کے بدلے ایک نیکی ۔ اسے امام ابن جریر رحمتہ اللہ بھی لائے ہیں۔ تم سب کا اللہ ایک ہے گو شریعت کے بعض احکام ادل بدل ہوتے رہے لیکن توحید میں، اللہ کی یگانگت میں ، کسی رسول کو کسی نیک امت کو اختلاف نہیں ہوا ۔ سب اللہ کی توحید ، اسی کی عبادت کی طرف تمام جہان کو بلاتے رہے۔ سب پر اول وحی یہی نازل ہوتی رہی ۔ پس تم سب اس کی طرف جھک جاؤ ، اس کے ہوکر رہو، اس کے احکام کی پابندی کرو، اس کی اطاعت میں استحکام کرو۔ جو لوگ مطمئن ہیں ، جو متواضع ہیں ، جو تقوے والے ہیں ، جو ظلم سے بیزار ہیں، مظلومی کی حالت میں بدلہ لینے کے خوگر نہیں، مرضی مولا، رضائے رب پر راضی ہیں انہیں خوشخبریاں سنادیں ، وہ مبارکباد کے قابل ہیں۔ جو ذکر الٰہی سنتے ہیں دل نرم ، اور خوف الٰہی سے پر کرکے رب کی طرف جھک جاتے ہیں ، کٹھن کاموں پر صبر کرتے ہیں، مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں(تفسیر ابن کثیر)۔اسی سورہ میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ۖ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ ۖ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ۚ كَذَلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ(الحج:36)
اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے شعائر خدا مقرر کیا ہے ان میں تمہارے لئے فائدے ہیں تو (قربانی کرنے کے وقت) قطار باندھ کر ان پر خدا کا نام لو جب پہلو کے بل گر پڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ اس طرح ہم نے ان کو تمہارے زیر فرمان کر دیا ہے تاکہ تم شکر کرو ۔
شعائر اللہ کیا ہیں ؟ یہ بھی اللہ تعالٰی کا احسان ہے کہ اس نے جانور پیدا کئے اور انہیں اپنے نام پر قربان کرنے اور اپنے گھر بطور قربانی کے پہنچانے کا حکم فرمایا اور انہیں شعائر اللہ قرار دیا اور حکم فرمایا آیت (لاتحلوشعائر اللہ الخ) نہ تو اللہ کے ان عظمت والے نشانات کی بے ادبی کرو نہ حرمت والے مہینوں کی گستاخی کرو لہذا ہر اونٹ گائے جو قربانی کے لئے مقرر کردیا جائے ۔ وہ بدن میں داخل ہے ۔ گو بعض لوگوں نے صرف اونٹ کو ہی بدن کہا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ اونٹ تو ہے ہی گائے بھی اس میں شامل ہے حدیث میں ہے کہ جس طرح اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے قربان ہوسکتا ہے اسی طرح گائے بھی ۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے صحیح مسلم شریف میں روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اونٹ میں سات شریک ہوجائیں اور گائے میں بھی سات آدمی شرکت کرلیں۔ امام اسحاق بن راہویہ وغیرہ تو فرماتے ہیں ان دونوں جانوروں میں دس دس آدمی شریک ہوسکتے ہیں مسند احمد اور سنن نسائی میں ایسی حدیث بھی آئی ہے۔ واللہ اعلم پھر فرمایا ان جانورں میں تمہارا اخروی نفع ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بقرہ عید والے دن انسان کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک قربانی سے زیادہ پسندیدہ نہیں۔ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں ، کھروں اور بالوں سمیت انسان کی نیکیوں میں پیش کیا جائے گا ۔ یاد رکھو قربانی کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں پہنچ جاتا ہے پس ٹھنڈے دل سے قربانیاں کرو ( ابن ماجہ ترمذی ) حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ تو قرض اٹھا کر بھی قربانی کیا کرتے تھے اور لوگوں کے دریافت کرنے پر فرماتے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہیں اس میں تمہارا بھلا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کسی خرچ کا فضل اللہ تعالٰی کے نزدیک بہ نسبت اس خرچ کے جو بقرہ عید والے دن کی قربانی پر کیا جائے ہرگز افضل نہیں۔ (دارقطنی )۔ اگلی آیت میں اللہ تعالی کا ارشاد ہےلَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ ۚ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ ۗ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ(الحج:37)۔
"خدا تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اس تک تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے اسی طرح خدا نے ان کو تمہارا مسخر کر دیا ہے تاکہ اس بات کے بدلے کہ اس نے تم کو ہدایت بخشی ہے اسے بزرگی سے یاد کرو اور (اے پیغمبر) نیکو کاروں کو خوشخبری سنا دو"۔
قربانی پر اللہ تعالٰی کی کبریائی بیان کرو ، ارشاد ہوتا ہے کہ قربانیوں کے وقت اللہ کا نام بڑائی سے لیا جائے۔ اسی لئے قربانیاں مقرر ہوئی ہیں کہ خالق رازق اسے مانا جائے نہ کہ قربانیوں کے گوشت وخون سے اللہ کو کوئی نفع ہوتا ہو۔ اللہ تعالٰی ساری مخلوق سے غنی اور کل بندوں سے بےنیاز ہے ۔ جاہلیت کی بیوقوفیوں میں ایک یہ بھی تھی کہ قربانی کے جانور کا گوشت اپنے بتوں کے سامنے رکھ دیتے تھے اور ان پر خون کا چھینٹا دیتے تھے ۔ یہ بھی دستور تھا کہ بیت اللہ شریف پر قربانی کے خون چھڑکتے ، مسلمان ہو کر صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایسا کرنے کے بارے میں سوال کیا جس پر یہ آیت اتری کہ اللہ تو تقوی کو دیکھتا ہے اسی کو قبول فرماتا ہے اور اسی پر بدلہ عنایت فرماتا ہے ۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالٰی تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا نہ اس کی نظریں تمہارے مال پر ہیں بلکہ اس کی نگاہیں تمہارے دلوں پر اور تمہارے اعمال پر ہیں ۔ اور حدیث میں ہے کہ خیرات وصدقہ سائل کے ہاتھ میں پڑے اس سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے ۔ قربانی کے جانور کے خون کا قطرہ زمین پر ٹپکے اس سے پہلے اللہ کے ہاں پہنچ جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ خون کا قطرہ الگ ہوتے ہی قربانی مقبول ہو جاتی ہے واللہ اعلم ۔ عامر شعبی سے قربانی کی کھالوں کی نسبت پوچھا گیا تو فرمایا اللہ کو گوشت وخون نہیں پہنچتا اگر چاہو بیچ دو، اگر چاہو خود رکھ لو، اگر چاہو راہ للہ دے دو ۔ اسی لئے اللہ تعالٰی نے ان جانوروں کو تمہارے قبضے میں دیا ہے ۔ کہ تم اللہ کے دین اور اس کی شریعت کی راہ پا کر اس کی مرضی کے کام کرو اور نامرضی کے کاموں سے رک جاؤ ۔ اور اس کی عظمت وکبریائی بیان کرو۔ جو لوگ نیک کار ہیں ، حدود اللہ کے پابند ہیں ، شریعت کے عامل ہیں ، رسولوں کی صداقت تسلیم کرتے ہیں وہ مستحق مبارکباد اور لائق خوشخبری ہیں ۔ احادیث میں بھی قربانی کی بڑی فضیلت آئی ہے ،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یوم النحر یعنی عید الاضحی کے دن اولاد آدم کا کوئی عمل اللہ تعالی کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور قربانی والا جانور قیامت کے لیے اپنے سینگوں بالوں اوركهروں کے ساتھ آئے گا قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالی کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے پس اے اللہ کے بندو پوری خوشدلی کے ساتھ قربانی کیا کروں (ترمزی)۔ قربانی کرنا واجب ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد ہرسال قربانی فرمائی ، کسی سال ترک نہیں فرمائی۔ جس عمل کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لگاتار کیا اور کسی سال بھی نہ چھوڑا ہو تو یہ اُس عمل کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔ علاوہ ازیں آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے قربانی نہ کرنے والوں پر وعید ارشاد فرمائی۔ حدیث پاک میں بہت سی وعیدیں ملتی ہیں، مثلاً: آپ صلی اللہ علیہ وسلمکا یہ ارشاد کہ جو قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔ علاوہ ازیں خود قرآن میں بعض آیات سے بھی قربانی کا وجوب ثابت ہے۔ جو لوگ حدیث پاک کے مخالف ہیں اور اس کو حجت نہیں مانتے، وہ قربانی کا انکار کرتے ہیں، ان سے جو لوگ متأثر ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ پیسے دے دیئے جائیں یا یتیم خانہ میں رقم دے دی جائے، یہ بالکل غلط ہے، کیونکہ عمل کی ایک تو صورت ہوتی ہے، دوسری حقیقت ہے۔ قربانی کی صورت یہی ضروری ہے، اس کی بڑی مصلحتیں ہیں، اس کی حقیقت اخلاص ہے۔ آیت قرآنی سے بھی یہی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔
● ایام تشریق:
اس ماہ کی گیارہویں بارہویں اور تیرهویں تاریخ کو ایام تشریق کہتے ہیں، ان دنوں کو ایام تشریق کہنے کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان میں "تشريق" کا معنی ہے گوشت کے پارچے بنا کر ان کو دھوپ میں سکھانا اور عربوں کے یہاں گوشت خشک کرنے کو تشریق کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے ان دنوں کو بھی ایام تشریق کا نام دیا گیا ہے جن کے دوران قربانی کا گوشت پارچوں میں تقسیم کر کے سکھایا جاتا ہے۔ مذکورہ ایام کو اس نام سے پکارے جانے کے حوالے سے ایک دوسرا قول یہ بھی ملتا ہے کہ قربانی کے جانور کو اس وقت تک ذبح نہیں کیا جاتا جب تک کہ سورج طلوع نہیں ہوتا۔
اس کے علاوہ ایام تشریق کو یہ نام دینے کے سبب کے طور پر دو اقوال اور بیان کیے گئے ہیں:
پہلا : لوگ ان دنوں میں قربانی کا گوشت دھوپ میں سکھایا کرتے تھے اس لیے ان دنوں کو ایام تشریق کا نام دے دیا۔
دوسرا قول : چوں کہ عید کی نماز یقینا سورج کے طلوع ہونے (شروق الشمس) کے بعد ہی ادا کی جاتی ہے لہذا پہلے روز کے بعد آنے والے ان تمام دنوں کو ایام تشریق کا نام دے دیا گیا۔
ابن منظور نے معروف عربی لغت لسان العرب میں کہا ہے کہ " التشريق" کا معنی دھوپ میں گوشت سکھانا ہے اسی واسطے ان دنوں کو ایام تشریق کہا جاتا ہے۔ ابن اعرابی کے مطابق یہ نام اسی وجہ سے دیا گیا کہ سورج طلوع ہونے (شروق) تک قربانی کا جانور ذبح نہیں کیا جاتا۔
تکبیرات تشریق کی حکمت:- حافظ ابن حجر رحمه اللہ تکبیرات تشریق کی حکمت یوں بیان فرمارہے ہیں کہ ہر مشکل اور ہر خوشی کے موقعے پر تکبیر کا پڑھنا سنت سے ثابت ہے کہ اللہ تعالی کا شکر ادا کیا جائے اور اس میں اللہ تعالی کی ذات کے ہر عیب سے منزہ (پاک) ہونے کا اقرار کرنا مقصود ہے،خصوصا وہ نامناسب باتیں جن کی نسبت بدبخت یہودیوں نے اللہ تعالی کی ذات کی طرف کی ہے.
9 ذی الحجہ کی فجر کی نماز سے لے کر13 ذی الحجہ کے عصر کی نماز تک ہر فرض نماز کا سلام پھیرتے ہی ایک مرتبہ بلند آواز سے تکبیرات تشریق کہنا واجب ہے(ترمذی) ۔ تکبیرات تشریق کے الفاظ یہ ہیں، 1- اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ۔۔۔ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ۔
2- اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ۔
3- اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ۔
عیدالاضحیٰ اور اسکے بعد تین دن ایام تشریق کے روزے رکھنا جائز نہیں ہے، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرٍ لِلَّهِ "رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کو یاد کرنے کے دن ہیں" (مسلم)۔
ایام تشریق میں اللہ تعالی کو یاد کرنے اور اس کے ذکر کے حکم میں مختلف مواقع کے اذکار شامل ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں :
1 - ہرفرض نمازکے بعد ایام تشریق کے اختتام تک تکبیريں کہہ کر اللہ تعالی کاذکرکرنا مشروع ہیں ۔
2 - قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت بسم اللہ اورتکبیر کہنا بھی اللہ تعالی کا ذکرہے ، اورقربانی ذبح کرنے کا وقت ایام تشریق کے آخر تک چلتا ہے ۔
3 - کھانے پینے سے پہلے بسم اللہ پڑھ کراللہ تعالی کا ذکر کرنا ، اس لیے کہ کھانے پینے سے پہلے بسم اللہ اورکھانے سے فارغ ہونے الحمدللہ کہنا مشروع ہے ۔
حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
"بلاشبہ اللہ تعالی اس بندے سے راضي ہوتا ہے جوکھانے سے فارغ ہو کرالحمد للہ اورپینے کے بعد بھی الحمد للہ کہے"(صحیح مسلم)
4 - ایام تشریق میں رمی جمرات ، حج کے دوران منی میں جمرات کوکنکریاں مارنے کے وقت اللہ اکبر کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنا ، اوریہ صرف حجاج کے ساتھ خاص ہے ۔
5 - مطلقا اللہ تعالی کا ذکر کرنا ۔ اس لیے کہ ایام تشریق میں کثرت کے ساتھ اللہ تعالی کا ذکرمشروع ہے ، عمر رضي اللہ تعالی عنہ منی میں اپنے خیمہ کے اندر تکبیريں کہتے تولوگ بھی سن کرتکبیريں کہتے تومنی تکبروں سے گونج اٹھتا تھا ۔ اللہ کے ذکر میں نماز، تلاوت ِ قرآن حکیم، دُعا اور استغفار سب شامل ہیں۔ ابن القیم فرماتے ہیں ذکر اللہ کی بڑی عظمت، اہمیت اور برکات ہیں۔ ذکر اللہ سے اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے اور انسان کی روحانی ترقی ہوتی ہے۔ ذکر ِ اللہ سے قلوب منور ہو جاتے ہیں۔ ذکرِ اللہ ہی وہ راستہ اور دروازہ ہے جس کے ذریعے ایک بندہ بارگاہ الٰہی تک پہنچ سکتا ہے(مدارج السالکین)۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
” جب بھی اور جہاں بھی کچھ بندگانِ خدا اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو لازمی طور پر فرشتے ہر طرف سے ان کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور ان کو گھیر لیتے ہیں اور رحمت ِ الٰہی ان پر چھا جاتی ہے اور ان کو اپنے سایہ میں لے لیتی ہے اور ان پر سکینہ کی کیفیت نازل ہوتی ہے اور اللہ اپنے مقربین فرشتوں میں ان کا ذکر کرتے ہیں(صحیح مسلم)۔ اللہ کے ذکر میں نماز، تلاوت ِ قرآن حکیم، دُعا اور استغفار سب شامل ہیں۔
● ناخن اور بال نہ ترشوانا:
قربانی کرنے تک ناخن اور بال نہ ترشوانا اس عشرہ کا ایک امتیازی عمل ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب ذی الحجہ کا چاند نظر آجائے اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کا ہو تو اس کو چاہئے کہ قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ تراشے (مسلم)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ''قربانی ذبح کرنے تک اپنے بال اور جلد میں سے کسی چیز کو نہ چھیڑے۔''(مسلم)۔
اگر آپ نے اس عشرہ کے دوران قربانی کی نیت کرلی ہے تو جو پہلے ہوچکا سو ہوچکا، اب سے بال وغیرہ کاٹنے سے رُک جائیں اور یہ حکم صرف قربانی کرنے والے کے لئے ہے۔ ہاں اگر اس کے گھر کے دوسرے افراد اِن دِنوں میںبال وغیرہ کٹوا لیں تو کوئی حرج نہیں۔
اور اگر کوئی قربانی کرنے والا اس فعل کا ارتکاب کربیٹھے تو اسے چاہئے کہ اللہ سے توبہ کرے اور دوبارہ یہ گناہ نہ کرے۔ اس گناہ کا کفارہ وغیرہ کچھ نہیں ہے اور نہ ہی یہ فعل اس کی قربانی میں اثرانداز ہوتا ہے۔ اور اس نے اپنے بال وغیرہ بھول کر یا کم علمی کی وجہ سے کاٹ لئے یاخود ہی گرگئے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ایسی حالت کہ جس میں یہ چیزیں کاٹنا ضروری ہوجائیں کاٹی جاسکتی ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں، مثلاً ناخن جلد کو تکلیف دے رہا ہے تو کاٹا جاسکتا ہے۔ اسی طرح وہ بال جو آنکھوں میں گرتے ہیں اور آنکھیں دکھتی ہیں یا پھر زخموں کا علاج کرنے کے لئے چیزوں کو کاٹنا پڑتا ہے۔
جہاں تک قربانی استطاعت نہ رکھنے والے مسلمانوں کا تعلق ہے تو علما کرام کا یہ موقف ہے کہ وہ اگر قربانی کے ثواب میں شریک ہونا چاہتے ہیں تو وہ بھی اپنے بال یا ناخن وغیرہ کاٹنے سے گریز کریں۔ اس مسئلہ کی بنیاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حسب ِذیل فرمان ہے:
اور اگر کوئی قربانی کرنے والا اس فعل کا ارتکاب کربیٹھے تو اسے چاہئے کہ اللہ سے توبہ کرے اور دوبارہ یہ گناہ نہ کرے۔ اس گناہ کا کفارہ وغیرہ کچھ نہیں ہے اور نہ ہی یہ فعل اس کی قربانی میں اثرانداز ہوتا ہے۔ اور اس نے اپنے بال وغیرہ بھول کر یا کم علمی کی وجہ سے کاٹ لئے یاخود ہی گرگئے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ایسی حالت کہ جس میں یہ چیزیں کاٹنا ضروری ہوجائیں کاٹی جاسکتی ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں، مثلاً ناخن جلد کو تکلیف دے رہا ہے تو کاٹا جاسکتا ہے۔ اسی طرح وہ بال جو آنکھوں میں گرتے ہیں اور آنکھیں دکھتی ہیں یا پھر زخموں کا علاج کرنے کے لئے چیزوں کو کاٹنا پڑتا ہے۔
جہاں تک قربانی استطاعت نہ رکھنے والے مسلمانوں کا تعلق ہے تو علما کرام کا یہ موقف ہے کہ وہ اگر قربانی کے ثواب میں شریک ہونا چاہتے ہیں تو وہ بھی اپنے بال یا ناخن وغیرہ کاٹنے سے گریز کریں۔ اس مسئلہ کی بنیاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حسب ِذیل فرمان ہے:
''ایک شخص نے نبی کریم سے پوچھا کہ میرے پاس محض دودھ کے لئے ایک بکری ہے، کیا میں اس کو بھی قربان کردوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :'' نہیں لیکن تو عید کے روز اپنے ناخن اور بال کاٹ لے، ا س سے تجھے بھی قربانی کا ثواب مل جائے گا۔(ابوداود)۔
● اس عشرہ کے اعمال:
اس سے قبل کہ اس مقدس عشرہ میں کئے جانے والے اعمال کا تذکرہ کیا جائے ہمیں چاہئے كہ ان دنوں كي ابتدا اللہ تعالى كے سامنے سچى اور پكى توبہ كے ساتھ كریں اور پھر پورا عشرہ كثرت سے اعمال صالحہ كریں اور خاص طور سے مندرجہ ذيل اعمال كا خصوصی اہتمام کریں ۔
▪ذکر واذکار کی کثرت: ،اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں ان دس دنوں میں اپنا ذکر کرنے کا خصوصی طور پر تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ.
اور مقررہ دنوں کے اندر اﷲ کے نام کا ذکر کرو۔
الْحَجّ، (28)۔ صحابہ کرام اور محدثین و مفسرین کے نزدیک ان ایام معلومات سے مراد عشرۂ ذی الحجہ کے دس دن ہیں۔اللہ کے ذکر میں نماز، تلاوت قرآن حکیم، دُعا اور استغفار سب شامل ہیں۔
▪تكبيرات كا اهتمام: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں میں تسبیح (سبحان اللہ) و تہلیل(لا الٰہ الا اللہ) وتکبیر (اللہ اکبر)، تحمید(الحمد للہ) کا ورد کثرت سے کرنے کی ترغیب فرمائی ہے،
ابن عمر اور ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہما کے بارہ میں ثابت ہے کہ وہ دونوں ان دس ایام میں بازاروں میں نکل کر اونچی آواز کے ساتھ تکبیریں کہا کرتے تھے اورلوگ بھی ان کی تکبی تکبیرات سن کر تکبیریں کہا کرتے تھے ، اس کا مقصد اورمراد یہ ہے کہ لوگوں کوتکبریں کہنا یاد آئيں اور ہرایک اپنی جگہ تکبریں کہنا شروع کردے ، سب لوگوں کا اکٹھے ہوکر بیک آواز تکبیریں کہنا درست نہيں ہے۔ لہذا ان دس دنوں میں چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے، گھروں، مسجدوں ، راستوں اورہر جگہ جہاں اللہ تعالی کا ذکر کرنا جائز ہے وہیں اونچی آواز سے تکبیرات کہنا چاہیے تا کہ اللہ تعالی کی عبادت کا اظہار اوراللہ تعالی کی تعظیم کا اعلان ہو ۔ مرد تواونچي آواز سے کہيں گے لیکن عورتیں پست آواز میں ہی کہيں گی ۔
▪اعمال صالحہ: رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ”الله تعالیٰ کی بارگاہ میں دوسرے ایام کا کوئی عمل عشرۂ ذوالحجہ کے دوران نیک عمل سے بڑھ کر پسندیدہ نہیں،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول الله! کیا یہ جہاد فی سبیل الله سے بھی بڑھ کر ہے ؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد فی سبیل الله سے بھی بڑھ کر ہے، ہاں! جو شخص جان اور مال لے کر الله کی راہ میں نکلا، پھر ان میں سے کوئی چیز بھی واپس لے کر نہ آیا، سب کچھ الله کے راستے میں قربان کر دیا، بے شک یہ سب سے بڑھ کر ہے۔“ اس لئے ہمیں مندرجہ ذیل اعمال کا اہتمام کرتےہوئے یہ عشرہ گذارنے کی کوشش کرنی چاہئے،
پانچوں نمازوں کا خشوع و خضوع کے ساتھ اہتمام کرنا، نمازوں کیلیے اچھی طرح وضو کرنا، مسواک استعمال کرنا، با جماعت نماز ادا کرنا، نمازوں سے پہلے یا بعد میں سنت مؤکدہ ادا کرنا، نماز اشراق کا اہتمام ، قیام اللیل اور وتر ادا کرنا، صبح اور شام کے اذکار کرنا، اسی طرح گھر داخل ہوتے وقت، گھر سے نکلتے وقت، مسجد میں جاتے ہوئے اور نکلتے ہوئے، بیت الخلاء میں جاتے ہوئے اور باہر نکلتے ہوئے، کھانا کھاتے وقت اور فرض نمازوں کے بعد یا اس کے علاوہ امور کے متعلق مخصوص اذکار اور دعاؤں کا اہتمام کرنا، مؤذن کی اذان سننے کے بعد اس کا جواب دینا۔
نماز جمعہ کا اہتمام، جمعہ کے دن یا رات میں سورہ کہف کی تلاوت کرنا، جمعہ کے دن اور رات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا، پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا
، نوافل کا اہتمام کرنا، نفل روزے رکھنا، عمرہ کرنا، ذکرِ الہی، تلاوتِ قرآن، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ، دعا، استغفار، والدین سے حسن سلوک، صلہ رحمی، صدقہ وخیرات کرنا، سلام کرنے میں پہل کرنا، حسن اخلاق، زبان کی حفاظت، اللہ تعالی سے محبت، اللہ تعالی کا خوف دل میں رکھنا، بیمار کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ چلنا، نماز جنازہ ادا کرنا، تعزیت کرنا، چھینکنے والے کا الحمد للہ کہنے پر "يَرْحَمُكَ اللهُ" کہنا، سلام کا جواب دینا، جھگڑا کرنے والوں میں صلح کروانا، نظریں جھکا کر رکھنا، کسی کو تکلیف نہ دینا، کسی کے تکلیف دینے پر صبر کرنا وغیرہ ۔
اور ان اعمال پر استقامت کی توفیق بھی اللہ سے طلب کرنا چاہیے ۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اللہ تعالیٰ کو محبوب عمل وہ ہے جس میں مداومت یعنی پابندی ہوخواہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو۔‘‘(بخاری ومسلم) ۔ ۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا : ’’اے عبداللہ! فلاں شخص کی طرح مت بنوجو راتوں کو قیام کرتا تھا لیکن اب چھوڑدیا ۔‘‘(بخاری ومسلم)۔
▪عرفہ کا روزہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے قوی اُمید ہے کہ وہ اسے گزشتہ ایک سال اور آیندہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بنادے گا۔‘‘ اس کے علاوہ بھی ممکن ہو تو روزے رکھنا چاہیے ۔
▪قربانی: عشرہ ذی الحجہ کے اعمال صالحہ میں قربانی کے ذریعہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنا بھی شامل ہے کہ قربانی کی جائے اوراللہ تعالی کےراستے میں مال خرچ کیا جائے ۔
● اس عشرہ سے متعلق بعض کوتاہیاں:
1- عام دنوں کی طرح اس مقدس و بابرکت عشرے کو گزار دینا اور عام دنوں کے مقابلے زیادہ معمولات کا اہتمام نہ کرنا
2- تکبیرات کی اتنی فضیلت اور عظمت کے باوجود اہتمام نہ کرنا
3- تکبیرات اجتماعی طور سے بیک آواز کہنا
4- عورتوں کا بلند آواز سے تکبیرات کہنا
5- تکبیرات کے کلمات میں اپنی طرف سے اضافہ کرنا
6- ایام تشریق کے روزے رکھنا جو خلاف سنت ہے
7- عرفات کے دن کے روزے کا اہتمام نہ کرنا
8- یوم عرفہ کے دن دعا کی بڑی فضیلت اور اہمیت ہونے کے باوجود دعا کا خصوصی اہتمام نہ کرنا
9- جس شخص کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو اس کا قربانی سے پہلے بال کٹوانا یا ناخن ترشوانا
10- عید گاہ نہ جانا یا جانے میں دیر کرنا
11- عیدالاضحیٰ کی نماز کے لیے نکلنے سے قبل کچھ کھانا پینا
12- عید کی نماز یہ کہہ کر ترک کر دینا کیے سنت ہی تو ہے ضروری نہیں حالانكه شعائر اسلام میں سے ہے بغیر وضو کے ترک کرنا بہت بڑی نادانی ہے
13- نماز کے بعد خطبہ سننے کے بجائے نماز پڑھ کر فوراً نکل جانا
14- ایک ہی راستے سے آنا جانا جب کی راستہ بدل کر آنا جانا سنت ہے
15- لوگوں کو عید کی مبارکباد نہ دینا جب کہ تقبل اللہ منا ومنکم کہنا مشروع ہے
16- استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنا
17- اللہ کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کو دکھانے کے لئے قربانی کرنا
18- قربانی کے گوشت میں غریبوں کا خیال رکھنا
19- بغیر کسی عذر کے عید کی نماز عید گاہ کے بجائے مسجد میں پڑھنا
20- عید کی مبارکباد دینے کی غرض سے عورتوں سے ہاتھ ملانا یا گلے ملنا۔
اخیر میں دعا ہے کہ اللہ تعالی حرمت والے مہینے ذی الحجہ کے مقدس و بابرکت عشره کے فیوض و برکات سے مالامال فرمائے اور اس سے مستفید ہونے و روحانی تربیت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ساتھ ہی ہم سب کو ایسے تمام گناہوں اور نافرمانیوں سے بچائے جو اﷲ تعالی کی ناراضگی یا لعنت کا باعث ہوں، اور ہماری دعاؤں کو محض اپنے فضل و کرم سے قبول فرمائے، آمین یا رب العلمین ۔ وما علینا الا البلاغ ۔