
*پیغمبرانہ دعوت و تبلیغ کے چند بنیادی اصول*
(۱ )
*محمد قمرالزماں ندوی* *مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*
*وعظ و نصیحت* تقریر و خطابت اور دعوت و تذکیر کا فائدہ انسان کو ضرور پہنچتا ہے اس کے اندر اللہ تعالی نے خاصیت رکھی ہے، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آج وعظ و نصیحت جلسہ و جلوس حلقئہ درس و تدریس اور تقریر و تبلیغ سے فائدہ نہیں پہنچتا وہ گویا ایک مسلمہ حقیقت کا انکار کرتے ہیں اللہ تعالی نے دعوت و تذکیر اور وعظ و نصیحت میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ اس سے فائدہ ضرور پہنچتا ہے چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے : *و ذکر فان الذکری تنفع المومنین* اور آپ نصیحت کیجئے اس لئے کہ نصیحت مسلمانوں کو فائدہ پہنچاتی ہے ۔ اگر دعوت و تبلیغ کا کوئ کام بےاثر یا غیر مفید معلوم ہوتا ہے یا اس کے نتائج مثبت کے بجائے منفی شکل میں ظاہر ہو رہے ہیں تو یقین جانئیے کہ ہم نے دعوت کے پیغمبرانہ اصول، منہج اور اسلوب کو چھوڑ دیا ہے ۔ اور اس میں ہم نے ذاتی اغراض و مقاصد اور مفاد نیز اپنی ذاتی خواہشات اور من مانا اصول و ضوابط کو اس میں شامل اور داخل کر لیا ہے جو قرآن و سنت کے مسلمہ اصول اور منہج سے متصادم ہے ۔ یہ حقیقت ذھن نشین رہے کہ تبلیغ و دعوت درحقیقت انبیاء کرام علیہم السلام کا کام ہے یہ پیغمبرانہ طریقہ اور مشن ہے اور جب تک اسے انہی اصولوں ضابطوں اور طریقوں کے مطابق انجام نہیں دیا جائے گا جس طریقے اور نہج سے انبیاء کرام علیہم السلام نے انجام دیا اس وقت تک وہ موثر،کارگر اور مفید نہیں ہو سکتا ۔ آج جماعتوں،اداروں اور تحریکوں کے اندر جو بھی انتشار و افتراق اور فساد و بگاڑ آیا ہے اور اس جماعت کے افراد میں جو شدت، ضد، انا اور ہٹ دھرمی آئ ہے اور اس کے نتیجہ میں جو مشکلات و مسائل بلکہ شرمناک واقعات ظہور پذیر ہو رہے ہیں یہ سب نتیجہ ہے پیغمبرانہ دعوت و تبلیغ کے زریں اصول و ضوابط کے چھوڑنے کا اور من مانا طریقے سے اس فریضہ کو انجام دینے کا۔ آج بہت سی جماعت اور تنظیم و تحریک کے لوگوں میں وہی شدت عناد ضد اور ہٹ دھرمی پیدا ہوگئ ہے جو ایک زمانہ میں معتزلہ اور خوارج کے اندر پائ جاتی تھی فرق یہ ہے کہ وہ لوگ علمی اور تحقیقی راستے سے ضد اور عناد پر قائم تھے اور آج کے زیادہ تر اس قسم کے لوگ ناخواندگی اور جہالت کی وجہ سے ضد ہٹ دھرمی اور عناد پر ہیں ۔ آئیے ہم پیغمبرانہ دعوت کے چند امتیازی خصوصیات کتاب و سنت اور سلف کی تحریروں کی روشنی میں پیش کرتے ہیں : (۱ ) *امت کی فکر* انبیاء کرام علیہم السلام کی سب سے پہلی اور بنیادی خصوصیت اور امتیاز یہ ہے کہ ان کو اپنی امت کی اصلاح کی فکر اس قدر شدت کے ساتھ لگ جاتی تھی کہ وہ طبعی تقاضوں سے بھی آگے بڑھ جاتی تھی یہاں تک کہ پیغمبر وقت اس فکر میں گھلنے لگتے تھے تو اللہ کی طرف سے تسلی کا سامان کیا جاتا اور ارشاد ہوتا : *لعلک باخع نفسک الا یکونوا مومنین* شاید آپ اس غم میں اپنی جان ہلاک کرنے والے ہیں یہ لوگ مومن کیوں نہیں بنتے۔ اس لئے ایک داعی اور مبلغ کی سب سے پہلی خصوصیت یہ ہونی چاہیے کہ اس کو پیغمبرانہ فکر ،کڑھن، درد اور سوز کا کوئ حصہ نصیب ہو ۔ چنانچہ اسلاف امت میں بھی جن جن کو اس فکر کا جتنا حصہ اور نصیبہ ملا اللہ تعالی نے ان کی دعوت اور تبلیغی مشن میں اسی قدر برکت اور ترقی عطا فرمائ اور اتنے ہی بہتر نتائج اور ثمرات پیدا فرمائے ۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رح فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مولانا شاہ محمد اسماعیل شہید رح کو دعوت و تبلیغ کا ایسا تقاضا ہوتا تھا جیسا بھوک کے وقت کھانے اور پیاس کے وقت پینے کا تقاضا ہوتا ہے جس طرح انسان طببعی تقاضوں سے صبر نہیں کرسکتا ،اسی طرح دعوت کے مواقع پر دعوت سے صبر نہیں کرسکتے تھے ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے ان کی دعوت میں تاثیر بھی ایسی عطا فرمائ تھی کہ ان کے وعظ سے سینکڑوں انسان بیک وقت تائب ہوتے تھے ۔ یہی کیفت اور حالت حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رح اور مولانا یوسف صاحب رح اور بھی بہت سے علماء اور اہل علم کی تھی جس کی مثالیں اور نمونہ کسی اور موقع کے لئے چھوڑتے ہیں ۔ (۲ ) *دعوت کی فکر اور لگن* انبیاء کرام علیہم السلام کی تبلیغ و دعوت کا دوسرا اہم امتیاز یہ ہے کہ وہ نتائج سے بے فکر اور بے پروا ہوکر دعوت و تبلیغ میں مسلسل مشغول رہتے اور حوصلہ شکن حالات میں بھی اپنی بات متواتر اور پابندی کے ساتھ کہتے چلے جاتے جہاں اور جس موقع پر کسی شخص کو اچھی اور مفید بات پہنچانے کا کوئ موقع ہاتھ آجاتا اسے غنمیت جانتے اور اپنی بات مخاطب تک حکمت کے ساتھ ضرور پہنچا دیتے اتمام حجت میں ذرا بھی دیر نہیں کرتے ۔ *دعوت* کی دھن اور لگن اور نتائج سے بے پروا ہوکر اس محنت میں مشغول رہنا اور حوصلہ شکن حالات میں بھی اپنی بات متواتر کہتے رہنا پیغمبرانہ دعوت کے بنیادی اصولوں میں سے ہے ۔ *انبیاء کرام علیہم السلام* کی سیرت اور ان کی دعوتی زندگی کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان پاک صفت گروہ اور طبقہ کو جہاں اور جس موقع پر کسی شخص کو بھی اچھی بات پہنچانے کا کوئ موقع مل جاتا وہ اسے غنمیت سمجھ کر اپنی بات پہنچا ہی دیتے تھے۔ اس سلسلہ میں *حضرت یوسف علیہ السلام* کی اس مثال کو دیکھئے کہ وہ مدت سے *عزیز مصر* کی قید میں محبوس ہیں گرد و نواح اور آس پاس میں کوئ معاون و مددگار، ہم نوا اور مونس و غم گسار نہیں اس حالت میں جب جیل کے دو ساتھی خواب کی تعبیر پوچھنے کے آتے ہیں، سوال کا کوئ تعلق دین و مذہب اور شریعت سے نہیں ہے لیکن ان کے جواب میں پہلے تو انہیں مطمئن فرما دیتے ہیں کہ تمہارے خواب کی تعبیر مجھے معلوم ہے اور میں تمہیں بتا بھی دوں گا پہلے ایک بظاہر قطعی غیر متعلق بات شروع کرتے ہیں اور وہ یہ کہ : *انی ترکت ملة قوم لا یومنون باللہ و ھم بالآخرة ھم کافرون و اتبعت ملة آبائ ابراھیم و اسحٰق ٰق و یعقوب* بلا شبہ میں نے ان لوگوں کے دین کو چھوڑ دیا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اپنے آباء و اجداد میں سے *حضرت ابراہیم* *حضرت اسحاق* اور *حضرت یعقوب علھیم السلام* کے دین کی پیروی کی ہے اور : *یصاحب السجن ءارباب متفرقون خیر ام اللہ الواحد القھار* اے قید خانے کے ساتھیو ! کیا متفرق پروردگار ماننا بہتر ہیں یا وہ اللہ جو ایک اور قہار ہے ۔ اور اس طرح خواب کی تعبیر بتانے سے پہلے اپنی دعوت اور دینی پیغام انہیں پہنچا دیا اور نبوی مشن کو جاری کر دیا ۔ *دعوت* کی اس تڑپ اور *تبلیغ* کی اس لگن کا حاصل یہ ہے کہ انسان بات پہنچانے کے مواقع کی تلاش میں رہے جب جتنا موقع مل جائے اس سے فائدہ اٹھائے اور دعوت سے کسی مرحلے پر تھکنے یا اکتانے کا نام نہ لے ۔ لیکن ساتھ ہی یہ نکتہ اور ہدایت بھی ذہن میں رہے کہ لوگوں کا داروغہ بن کر مدعو کے پیچھے نہ پڑے بلکہ اپنی بات موثر سے موثر انداز اور بہتر سے بہتر اسلوب میں حکمت اور دانائی کے ساتھ کہہ کر فارغ ہو جائے پھر جب دیکھے کہ اس پر مدعو اور مخاطب کا عمل نہیں ہوا تو موقع اور محل دیکھ کر دوبارہ اس کو دعوت دے لیکن نہ مسلط ہونے کا طریقہ اختیار کرے اور نہ مایوس ہو کر بیٹھے ۔ (مستفاد میرے والد ۔ میرے شیخ اور ان کا مزاج و مذاق از مولانا محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی) *پیغمبرانہ* دعوت و تبلیغ اور دیگر معاشی تعلیمی اور اصلاحی تحریک میں ایک بنیادی فرق ہے ،وہ فرق یہ ہے کہ عام سیاسی معاشی اصلاحی اور تعلیمی تحریکات محدود اور وقتی مقاصد کے لئے اٹھتی ہیں اور ان کے حصول کے بعد ان کا کام ختم ہوجاتا ہے ۔ اس کے مقابلہ میں پیغمبرانہ دعوت مستقل اور ابدی مقاصد کو بروئے کار لانے کے لئے ہوتی ہے اور وقتی مسائل سے وہ صرف ناگزیر حد تک تعرض کرتی ہے اور زندگی کی حالی اور مقصود بالعرض قدروں کو محض وسیلہ و ذریعہ کی حد تک مستحق توجہ سمجھتی ہے اور اپنے عمل اور جد و جہد میں وہ زندگی کی حقیقی اور مقصود بالذات قدروں ہی کو سامنے رکھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر زمانہ اور رسول وقت اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کو پہلے حقیقی مقصد سے روشناس کرتے ہیں اور پھر اسی کے مطابق سیرت سازی کا کام کرتے ہیں اور ذھن و دماغ اور فکر و نظر کی تعمیر کا کام اس وقت تک کرتے ہیں جب تک مقصد حیات کی عقیدت و احترام اور محبت دل کی گہرائیوں میں اتر نہ آئے ۔ اس طریقہ سے تربیت یافتہ اور پختہ کار انسانوں کا ایک گروہ تیار ہوجاتا ہے جس کا عزم و یقین کفر و باطل کے آہنی قلعوں کو پاش پاش کردیتا ہے اور جس کی نگاہ بڑے بڑے پر غرور سروں کو اپنے آگے جھکا دیتی ہے اور جس کی صدائے عشق ملوک و سلاطین کے سربفلک ایوانوں میں زلزلہ پیدا کردیتی ہے۔ لیکن اس مقدس گروہ کی منزل مقصود روٹی کے چند ٹکڑے اور عہدہ و منصب اور اقتدار نہیں بلکہ اس کی منزل ہر منزل سے آگے اور اس کا مقام ہر مقام سے اونچا ہے اس لئے اس کی سعی و کوشش مسلسل اور غیر منقطع ہوتی ہے اس کا جذبئہ عشق اس کو کسی منزل پر ٹہرنے کی اجازت نہیں دیتا کہ ۔۔۔۔
*ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا* *حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں*
خلاصہ یہ کہ پیغمبرانہ دعوت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تبلیغ ۔ درس و تعلیم اور تربیت تینوں کام ایک ساتھ تکمیل پاتے ہیں ۔ محض تبلیغ اس مقصد کے لئے کافی نہیں ہے ۔ بلکہ ایک مہربان و مشفق اور جفاکش استاد کی حیثیت سے درس و تعلیم اور تربیت بھی اس کے فرائض میں ہے ۔ *قرآن مجید* نے کار نبوت کے لئے ان تینوں مراحل کو متعدد مقامات پر بیان کیا ہے ۔ وعظ و تبلیغ کا تعلق عموما ان لوگوں سے ہے جنہوں نے ابھی تک دعوت قبول نہ کیا ہو اور تعلیم و تربیت ان لوگوں کے لئے ہے جو اپنے سابقہ عقائد کو چھوڑ کر نبی کی جماعت میں شامل ہوگئے ہوں ۔ ( مستفاد دعوت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصول و مقاصد از شاہ معین الدین احمد ندوی نقوش رسول نمبر جلد سوم)
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔