فلسفہ فنا و بقا

فلسفہ فنا و بقا

عظمتوں کی کہانی کے مقدمے کے طور پر لکھا گیا کالم

مفتی ابولبابہ شاہ منصور

*سب دیتے ہیں احباب کو جینے کی دعائیں

تم ہمیں راہ خدا میں مرنے کی دعا دو*

حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی سیرت کا نمایاں ترین حصہ قصہ "غزوات" پر مشتمل ہے ۔ ان کے تذکرے کو "عظمتوں کی کہانی" کا نام دینے کی جسارت اس نقطہ کی طرف اشارہ کرنے کے لیے دی گئی ہے کہ مسلمانوں کے لئے عزت و عظمت کے حصول کا واحد راستہ جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔ ابتدائے اسلام میں جب حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس زمین پر موجود تھے ، جہاد کے علاوہ کوئی ذریعہ اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی سرفرازی کا نہ تھا تو اب قیامت تک یہ ممکن ہی نہیں کہ مسلمان جہاد چھوڑ دیں اور یہ توقع رکھے کہ ان کو "دائمی جدلیت" پر مشتمل انسانی معاشرے میں کوئی باعزت مقام مل سکتا ہے۔

*کام جلسوں سے چلے گا نہ اجازت سے

ہم نشین کاٹ ہے آہن کی فقط آہن سے*

جنگ عظیم اول و دوم نے ( اور اب تو جنگ عظیم سوم بھی سر پر کھڑی ہے اور اپنے بھیانک جبڑے کھولے مسلمانوں کی طرف دوڑی چلی آ رہی ہے ) اس نظریہ کو قطعی غلط ، لغو اور بے ہودہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر آپ امن سے رہنا چاہتے ہیں اور امن سے رہ رہے ہیں تو دنیا آپ کو امن سے رہنے دے گی ۔ نہیں ! ایسا نہیں ہوسکتا ۔ دنیا جتنی بھی مہذب ہو جائے ، اگر آپ کے پاس طاقت نہیں اور آپ طاقت کا جائز استعمال نہیں جانتے ( جو صرف قتال فی سبیل اللہ کی شکل میں ممکن ہے ) تو آپ یہ خیال دل سے نکال دیں کہ "صلح و آشتی کے علمبردار " آپ کو امن سے رہنے دیں گے ۔ آپ جنگ کے خوگر ہوں یا اس سے نفرت کریں ، آپ صلح پسند ہوں یا جنگجو مزاج ، امن کی فاختاؤں کی اڑان آپ کو اچھی لگتی ہو یا جنگی لڑاکا مرغوں کا زوردار ٹکراؤ ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ یقین رکھیں کہ آپ کے وسائل ، وطن ، اقتدار اور آخر میں جان و مال اور عزت و آبرو بھی ہر لمحے ، ہر گھڑی طالع آزماؤں کی زد پر ہیں ۔ ان کی ہوسناک نظریں آپ کے پاس موجود کسی قابل ذکر یا قابل رغبت چیز پر اس وقت تک جمی رہیں گی اور آپ کی صلح کی خواہش اور امن کی چاہت کو اس وقت بےدردی سے پامال کرتے رہیں گے، جب تک آپ کی کمزوری اور بے بضاعتی کے سامنے ہے۔ امن کی فاختائیں اڑان بھرتی ہی اس وقت ہیں جب فریق مخالف کو سیر کاسوا سیر ملتا یا اینٹ کے جواب میں پتھر آتا دکھائی دیتا ہے۔

*باتوں سے کوئی بات بنی ہے نہ بنے گی

اٹھتے ہیں مجاہد تو بدل جاتی ہے تقدیر

میدان جدل کی دنیا کا یہ دستور پرانا ہے

سر بھی گرا ساتھ اس کا جس کے ہاتھ سے تلوار گری*

حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام کی شجاعت بھری عسکریت اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی وفاداری و جانثاری پر مشتمل ناموں کا تذکرہ اہل اسلام کو خیر القرون میں مسلمانوں کی شان و شوکت کا راز یاد دلانے اور عظمت گم گشتہ کی حصول کے واحد اور یقینی راستے کی طرف لوٹنے کا بہترین اور مفید ترین دریعہ ہے۔ "عظمتوں کی کہانی" اس عظیم ورثے کی اگلی نسل تک منتقلی کی کوشش ہے، اس جزبے کی آبیاری کی جدوجہد ہے جس نے ہمارے اسلاف کو اوج ثریا تک پہنچایا تھا۔ اس طرز زندگی کی طرف لوٹنے کی دعوت ہے جسے چھوڑ کر آج ہم پستی کی حسرتناک گردش میں حیران و سرگرداں ہے۔

*اسلام اور ایمان کی پہلی یہی شرط

میدان میں کفن سر پر لپٹے ہوئے آئیں

سر پہلے ہتھیلی پر ہو پھر نو سناں پر

نظارہ بھر اک بار یہ دنیا کو دکھائیں*

حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی حیات مبارک میں ستائیس جنگوں میں بذات خود شرکت فرمائی ۔ ان کی مختصر روئیداد یعنی ماہ و سال ، اعداد و شمار ، اسباب و نتائج جنگ کتاب کے آخر میں ایک جدول میں دیے گئے ہیں ۔ ان ستائیس میں سے نو میں قتال کی نوبت آئی :(1) بدر (2) احد (3) خندق (احزاب) (4) بنو قریظہ (5) بنو المصطلق (6) خیبر (7) فتح مکہ (8) حنین (9) طائف ۔ کتاب کے متن میں ( تمام کا نہیں ) صرف انہی مشہور غزوات کا تذکرہ ہے۔

یہ تذکرہ نہ تمام غزوات کا تفصیلی تعارف ہے نہ اس میں تمام ذیلی واقعات کو لیا گیا ہے۔ اس میں صرف اہم غزوات کا تذکرہ ہے۔ ذیلی واقعات "شزرات " کے نام سے الگ سے ایک باب میں جمع کر دیے گئے ہیں۔ گویا اس کتاب میں دو باب ہیں:غزوات اور شزرات۔ پہلے میں عمومی اوت دوسرے میں خصوصی واقعات ہیں۔خصوصی واقعات سے مراد وہ دلچسپ جہادی تذکرے ہیں جو غزوات کی تحریر کے لیے کتابوں کی ورق گردانی کے دوران ملے۔ کوشش کی گئی ہے کہ ان ابواب میں قارئین کو دو چیزیں دیکھنے کو ملیں:

(1) تحقیق و ادب کا امتزاج یعنی اعداد و شمار اور واقعات جنگ کو حتی الامکان مستند ترین مآخذ سے لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی زبان و بیان کو ٹھیٹھ تاریخی اسلوب یا صحافتی انداز پر رکھنے کے بجائے اس میں کسی قدر ادب کی چاشنی کی آمیزش کی گئی ہے تاکہ جہادی شخصیات کہ تذکرے میں بعض معاصر عسکریت نگاروں نے زیب داستان کے لیے جو واقعات عشق و محبت داخل کر دیے تھے، ان کا متبادل مہیا ہوجائے، ذہن سازی کا عمل پرکشش بنیادوں پر قائم ہو اور فکری تخریب سے بچتے ہوئے تعمیری فکر کی آبیاری ممکن ہوسکے۔

(2) عسکری تجزیہ نگاری: عسکریت کی دنیا کا مشہور اصول ہے کہ کسی بھی جنگ کو بیان کرنے کے لیے لکھی گئی عسکری تحریر کو چار چیزوں پر مشتمل ہونا چاہیے:

(1) جنگ کے اسباب، پس منظر

(2) فریقین کے اعداد و شمار، اسلحہ و آلات، سہولتیں اور مشکلات

(3) روئیداد جنگ، یعنی آغاز جنگ سے اختتام تک کے اصلی یا ضمنی، اجتماعی و انفرادی واقعات

(4) جنگ کے نتائج، اثرات اور مضمرات

قارئین ملاحظہ فرمائیں گے کہ کتاب میں ان چاروں کا الگ سے واضح عنوان تو نہیں لیکن بغیر عنوان کے ان کا تذکرہ سطور یا بین السطور میں ان شاءاللہ مل ہی جائے گا۔

آخر میں نوجوانان ملت سے یہ عرض کرتے ہوئے اجازت چاہیں گے کہ اس دنیا میں کسی کو "زر" یا "زاری" سے انصاف ملا ہے، نہ مذاکرات نے کسی کو اس کا حق دلوایا ہے،اور نہ ہی صلح جوئی اور امن خواہی کسی کی عزت کے ضامن بن سکے ہیں۔ دنیا میں فریب اور دھوکہ بری چیز ہے لیکن جو دھوکہ اور فریب خود اپنے آپ کو دیا جائے اس سے بری کوئی چیز نہیں۔ خدا کے لئے! خود فریبی کے بھنور سے نکلیے اور حقیقت شناس آنکھوں سے اس کائنات کے سب سے بڑے پیامبر امن صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کا مطالعہ کرکے یہ سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسےالصادق الامین، خادم الفقراء والمساکین، کو ان کی اپنی قوم نے، ان کے چاہنے والے سگے رشتہ داروں نے نے تلوار کے بغیر جینے کا حق نہیں دیا...........تو...........ہم کیونکر قتال فی سبیل اللہ کے بغیر ظلم سے بھری اس دنیا میں اور دشمنوں سے اٹے ہوئے اس دور میں کسی معزز حیثیت کی توقع یا درگزر کیے جانے کی امید کر سکتے ہیں ؟؟؟؟

واقعہ یہ ہے کہ جب بدی نیکی کو منہ چڑاتی دندناتی پھرے ............. اور جب باطل حق کی گھاٹ میں ہو اور نیکی منہ چھپاتی پھرے ............... وہاں جہاد کے علاوہ کوئی علاج کارگر ہے نہ قتال کے سوا کوئی دوسرا نسخہ کار آمد ہوسکتا ہے

*عروس سلطنت کے منہ پر رونق جس سے آتی ہے

شہیدوں کے جمال افزا لہو کا غازہ ہوتا ہے*

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مصنف اور قارئین کو ایسا جذبہ جہاد اور شوق شہادت عطا فرمائے جو دنیا کی فانی لذتوں کی جھوٹی چاہت چھوڑ کر جنت کی دائمی نعمتوں کا سچا عاشق اور دیدار الہی کا دیوانہ وار طلب گار بنادے۔ آمین

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔