غزوۂ بدر اور ہماری موجودہ ذمہ داری

غزوۂ بدر اور ہماری موجودہ ذمہ داری

غزوہ بدر مسلمانوں کی طرف سے کوئی باقاعدہ جنگ نہیں تھی، بلکہ قریشِ مکہ کے اہم تجارتی قافلے کو روکنا مقصود تھا، یہ فیصلہ چونکہ فوری ہوا تھا جس کی وجہ سے کچھ صحابہ کرامؓ کو اس کا علم ہی نہیں ہوسکا اور کچھ مختلف شرعی وجوہات کی بنا پر شریک نہ ہوسکے، جیسے اس موقع پر آپ ﷺ کی لختِ جگر حضرت رقیہؓ بیمار تھیں، جواسی بیماری میں فوت ہوگئی تھیں، ان کی تیمارداری کے لئے آپ ﷺ کے حکم سے حضرت عثمانؓ مدینہ منورہ میں ہی رک گئے تھے اور غزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکے، لیکن اس کے باوجود آپﷺ نے انہیں بھی مالِ غنیمت سے حصہ عطا فرمایا (1).

غزوۂ بدر چونکہ باقاعدہ جنگ نہیں تھی ، اس لئے جو صحابہ کرامؓ مختلف اسباب کی بنا پر شریک نہ ہوسکے تو ان سے کسی قسم کی کوئی باز پرس نہیں کی گئی، بخاری شریف کی حدیث نمبر3951 میں حضرت عبداللہ بن کعبؓ فرماتے ہیں کہ میں غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوسکا اور جو لوگ اس میں شریک نہ ہوسکے ان میں سے کسی پر اللہ نے عتاب نہیں کیا کیونکہ آپ ﷺ لڑنے کے بجائے قریش کے قافلے کو تلاش کرنے کے لیے نکلے تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے اچانک مسلمانوں کی دشمنوں سےجنگ کرادی(2).

اسی طرح بخاری شریف کی حدیث نمبر2805 میں حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ میرے چچا حضرت انس بن نضرؓ غزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکے(بزدلی کی وجہ سے نہیں)، جس پر انہیں بہت افسوس تھا اور پھر احد کی جنگ میں وہ بے مثال بہادری سے لڑے اور ان کی لاش کو ان کی بہن نے انگلیوں کی مدد سے شناخت کیا، جس پر تلواروں، نیزوں اور تیروں کے تقریباً اسی (80) سے زیادہ نشانات تھے(3).

صحابہ کرامؓ ایسی پاکیزہ جماعت تھی، جس سے اللہ راضی تھے اور وہ اللہ سے راضی تھے، سورت توبہ کی آیت نمبر 100 میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ’’ اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہوگیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے‘‘۔ (آسان ترجمۂ قرآن)(4)

ایسے پاکیزہ، بہادر اور جانثار اصحابِ رسول ﷺ کا تذکرہ خوشبو سے بھی زیادہ معطر الفاظ میں کرنا چاہئے، اگر کسی سے نادانستگی میں بھی غیرمحتاط الفاظ نکل جائیں تو اس پر فوراً توبہ و استغفار کرنا ضروری ہے اور اگرایسی غلطی کھلے عام ہو تو معافی بھی کھلے عام مانگنی چاہئے تاکہ مسلمانوں کے دل آزاری کا ازالہ ہوسکے. ہمارے محترم وزیرِ اعظم جناب عمران خان صاحب نے اپنے بیان میں غزوہ بدر کے صحابہ کرامؓ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ’’ جب جنگ بدر ہوئی تھی تو صرف 313 تھے لڑنے والے، باقی ڈرتے تھے لڑنے کےلئے‘‘ جو کہ بالکل درست بات نہیں ہے، اسی طرح غزوہ احد کا تذکرہ نامناسب الفاظ میں کرتے ہوئے کہاکہ ’’جنگ اُحد ہوئی تو سرکارِمدینہ نے جو تیر کمان والوں کو کہاکہ اپنی پوزیشن نہیں چھوڑنی، جب لوٹ مار شروع ہوئی وہ چھوڑ کر چلے گئے، سرکارِمدینہ کا حکم نہیں مانا‘‘ یہاں مالِ غنیمت کا لفظ استعمال کئے بغیر اس کو لوٹ مار سے تعبیر کیا گیا، اسی طرح تیراندازوں کا اپنے ٹیلے کو چھوڑنا اجتہادی خطا تھی جسے نافرمانی کے انداز میں پیش کیا گیا، جن صحابہ کرامؓ سے اللہ تعالیٰ راضی ہوچکا ہے ا ن کے بارے میں سیاق و سباق سے ہٹ کراس انداز میں بات کرنا جیسے وہ ڈرپوک اور لوٹ مارکرنے والے تھے ہرگز زیب نہیں دیتا.

محترم جناب وزیرِ اعظم صاحب نے یقیناً یہ بات قصداً توہین کی غرض سے نہیں کہی ، بلکہ یہ سلپ آف ٹنگ یا دین سے نا واقفیت وغیرہ جیسا معاملہ ہے، لیکن صحابہ کرامؓ کے عالی مقام و مرتبہ کی نسبت سے ان الفاظ کا استعمال کسی طرح سے درست اور قابل تائید نہیں ہیں، جس پر مسلمانوں کی دل آزاری بھی ہوئی ہے، اس لئے غیر ارادی طور پر ادا کئے گئے ان الفاظ پراعلانیہ توبہ و استغفار ضروری ہے اور آئندہ دینی معاملات میں درست رہنمائی لیکر بات کرنے کا اہتمام کرناچاہئے، اور دوسری طرف اس کی وجہ سے گستاخ کہنا بھی درست نہیں ہے.

تمام مسلمانوں پر ضروری ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور اصحابِ رسولﷺ کی محبت کو ہر چیز پر ترجیح دیں، ہمارے بعض بھائی نادانستگی میں سیاق و سباق سے ہٹ کر بعض تحریروں سے اس بات کو ڈیفنڈ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ان سے عاجزانہ درخواست ہے کہ پلیز ہر معاملہ میں دین کو مقدم رکھیں، سیاست جماعت کے بجائے آپ ﷺ کی جماعت کی محبت کو ترجیح دیں، سیاست یا اس کی محبت کی وجہ سے آخرت خراب کرنا خسارے کا سودا ہے، بالخصوص پی ٹی آئی ورکرز کو چاہئے کہ وہ اس پر مؤثر احتجاج کرکے یہ ثابت کریں کہ ہمارے لئے ہمارا دین اپنی سیاست سے زیادہ عزیز ہے اور آپ کے اپنے مؤثر احتجاج کے بعد کسی دوسری جماعت کو اس ایشو پر سیاست کا موقع بھی نہیں ملے گا. ... دینی طبقے سے عاجزانہ التماس: دینی طبقے اور جے یو آئی کے کارکنوں سے عاجزانہ درخواست ہے کہ اس قسم کے لغزشوں پر سیاست کے بجائے اصلاح کیجئے کیونکہ یہی حکمِ ربانی ہے، جوشیلے، طنزیہ اور کاٹ دار جملے اصلاح نہیں کرتے بلکہ جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کرتے ہیں، اگرآپ کے ایسے طنزیہ و کاٹ دار جملوں کی بنا پر بعض مسلمان بھائی اصحابِ رسول ﷺ کے بجائے وزیرِاعظم صاحب کی بات کو ڈیفنڈ کرنے میں مشغول ہوگئے توان کا مجرم کون ہوگا اور روزِ محشر اللہ کے سامنے اپنے طنزیہ جملوں کے بارے میں کیا جواز پیش کرو گے؟؟؟ استاذ محترم جناب مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم اسباق اور بیانات میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی ؒ کے حوالے سے فرماتے ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی بات میں تین شرطیں پائی جائیں تو وہ فائدہ دیتی ہے: 1۔ بات حق و سچ ہو۔ 2۔ بات کرنے کا موقع درست ہو۔ 3۔ صحیح طریقے سے بات کی جائے۔ یعنی حق و سچ بات کو موقع محل کی مناسبت سے اچھے انداز سے پیش کیا جائے تو اس کا فائدہ یقینی ہوتا ہے اور اگر ان تینوں میں سے کوئی ایک شرط بھی کم ہو تو اس بات کا فائدہ نہیں ہوتا، اسی طرح ایک بار نصیحت فرمائی کہ اپنی زبان سے ہر لفظ سوچ سمجھ کر اس طرح نکالیں کہ اگر اسے عدالت میں ثابت کرنے کی ضروت پرجائے تو اسے عدالت میں ثابت کرسکو. تمام مسلمانوں بالخصوص دینی طبقہ اور سیاست میں آپ حضرات سے عاجزانہ التماس ہے کہ دینی معاملات میں اپنے سیاسی مخالفین کو غصہ دلانے کے بجائے ان کی اصلاح کی فکر کیجئے، جس میں حق و سچ بات کیلئے بھی اصلاح کا طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے ورنہ ہمارے غیرشرعی طرزِ عمل کی وجہ سے بے شمار لوگ دین سے بدظن ہوتے جارہے ہیں جس کا جواب روزِ محشر ہم سے ہی ہوگا۔ نوٹ: کمنٹس آپ کی شخصیت اور تربیت کو واضح کرتے ہیں، اگر آپ کوئی بات کرنا چاہتے ہیں تو سلیقہ سے خود تحریر کریں، کاپی پیسٹ سے اجتناب کریں. ... تخریج: (1)في المعجم الكبير (1/ 88): فإني كنت أمرض رقية بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى ماتت ولقد ضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم بسهم ومن ضرب له رسول الله صلى الله عليه و سلم بسهم فقد شهد وفي المعجم الكبير (22/ 434): ...وتخلف عن بدر عليها بإذن رسول الله صلى الله عليه و سلم وضرب له رسول الله صلى الله عليه و سلم مع سهمان أهل بدر قال : وأجري يا رسول الله قال : وأجرك ... (2)صحيح البخاري (1/ 153): ...أني تخلفت عن غزوة بدر ولم يعاتب أحد (يعاتب الله أحدا) تخلف عنها إنما خرج رسول الله ﷺ يريد عير قريش حتى جمع الله بينهم وبين عدوهم على غير ميعاد ... (3)صحيح البخاري (1/ 39): عن أنس رضي الله عنه قال غاب عمي أنس بن النضر عن قتال بدر فقال يا رسول الله غبت عن أول قتال قاتلت المشركين لئن الله أشهدني قتال المشركين ليرين (ليراني) الله ما أصنع فلما كان يوم أحد وانكشف المسلمون قال اللهم إني أعتذر إليك مما صنع هؤلاء يعني أصحابه وأبرأ إليك مما صنع هؤلاء يعني المشركين ثم تقدم فاستقبله سعد بن معاذ فقال يا سعد بن معاذ الجنة ورب النضر إني أجد ريحها من دون أحد قال سعد فما استطعت يا رسول الله ما صنع قال أنس فوجدنا به بضعا وثمانين ضربة بالسيف أو طعنة برمح أو رمية بسهم ووجدناه قد قتل وقد مثل به المشركون فما عرفه أحد إلا أخته ببنانه قال أنس كنا نرى أو نظن أن هذه الآية نزلت فيه وفي أشباهه [من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه] إلى آخر الآية ... (4)وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ [التوبة: 100]

محمد عاصم ، فاضل و متخصص جامعہ دالعلوم کراچی Mohammad Asim

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔