???? *صدائے دل ندائے وقت*????(809)
*گوڈسے کے ماننے والے موجود ہیں __!!*
*جب گاندھی جی کو قتل کیا گیا تو ٣٠/ جنوری کی تاریخ تھی، جامعہ ملیہ سے ٹھیک دس کلومیٹر دور راج گھاٹ کا مقام تھا، لیکن کل ٣٠/جنوری ٢٠٢٠ء کو ہی جامعہ ملیہ میں ٹھیک ویسا ہی واقعہ پیش آتا ہے، ایک سرپھرا اپنے آپ کو رام کا بھکت ک??تے ہوئے دیسی کٹا نکالتا ہے اور دہلی پولس کی موجودگی میں ان پر فائرنگ کر دیتا ہے، پولس ہاتھ باندھے کھڑی رہتی ہے، وہ تماشہ دیکھتی ہے، یہاں تک وہ گولی چلا کر ایک طالب علم کو زخمی کر دیتا ہے، یہ سارا قصہ ٹھیک ایک خاص تاریخ کو ہوتا ہے، جس دن کہ گاندھی جی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے اور ان کی روح سے ہندوستان کی مرتی روح کے بارے میں شکایت کرنے کیلئے جامعہ سے طلبہ کا ایک ریلا نکلتا ہے، آخر کیا وجہ ہے کہ اس نے یہی تاریخ چنی ہے، کیا یہ کوئی اتفاق ہے؟ ممکن ہے کہ اسے اتفاق کہہ کر آگے بڑھ جائیں؛ لیکن سچ یہ ہے کہ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے، یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے، یہ اس فکر کا عملی نتیجہ ہے جو موجودہ سیاست نے اسے دیا تھا، انوراگ ٹھاکر نے کہا تھا کہ دیس کہ غداروں کو گولی مارو سالوں کو... ٹھیک اس سرپھرے نے گولی مارتے ہوئے یہی کہا تھا یہ لو آزادی__! ملک کے وزیر داخلہ بھی کہہ چکے تھے کہ ایسے کمل کے پھول پر بٹن دبانا کہ شاہین باغ میں کرنٹ لگے، ایک اور نیتا شاہین باغ کو شیطان باغ کہہ چکے ہیں.*
*جبکہ ایک نے انہیں ملک مخالف کہتے ہوئے یہاں تک کہا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے گھروں میں گھس جائیں گے اور تمہاری ماں بہن کی عزت تار تار کر دیں گے. شاہین باغ وہاں سے صرف لگ بھگ دو کلومیٹر پر ہے، تو کیا اب اس کی باری ہے؟ گولی چلانے والے کا دعویٰ ہے کہ وہ رام بھکت ہے، اسی لئے موقع واردات پر اس نے رام کا نعرہ بھی لگایا تھا، اور ٹھیک گاندھی جی پر جب کئی گولیاں داغی گئی تھیں، تو صرف ان کے منہ سے "ہے رام" نکل پایا تھا اور جان سدھار گئی تھی، تو یہ کونسا رام بھکت تھا، جو کبھی گولی سے چھلنی ہوگیا اور یہ کونسا رام بھکت ہے جو آج بہتر سال بعد زندہ ہوگیا ہے، اور اس کے پاس رام کے نام کی بنوق بھی آگئی ہے، دراصل یہ ساوارکر کا رام ہے جس کا ماننا تھا کہ یہاں کے ہر ایک باشندے کو ہندو بنا دیا جائے، اور ہر ایک ہندو کو ہندو سینانی بنا دیا جائے، ہندوتو کا زیر تو گھول دیا ہے، اب وہی زہر قوت کے بل بوتے باہر نکل رہا ہے، ادھر سیاسی گلیاروں سے خواہش ظاہر ہوتی ہے تو ادھر کوئی اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اسے انجام تک پہونچا دیتا ہے، اور اسے اس قدر ہمت دے دیتا ہے کہ سترہ سالہ نوجوان جسے جوانی سنبھالتے نہیں بنتی ہے وہ کٹا سنبھال لیتا ہے اور اپنے جنون میں تمام پولس اہلکار کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کسی کا قتل کرنے پر بھی آمادہ ہوجاتا ہے، حد تو یہ ہے کہ اسے فیس بک پر لائیو بھی کرتا ہے، اور وہاں پر موجود تمام بھیڑ اسے صرف دیکھتی ہے، گویا اس کی حوصلہ افزائی کر رہی ہوتی ہے، یا یہ کہ اس کے رام نام پر زبان سل لیتی ہے!!*
*اس حادثے سے بے جے پی کے ذریعے تین باتیں بڑی صاف ہوگئی ہیں، جسے وہ اکثر ثابت کرنا چاہتے ہیں، شاید یہ ٹریگر کے طور پر ہے کہ لوگ اسے قبول کرلیں. پہلی بات یہ کہ ہندوستان ہندو اکثریت ملک ہے، یہاں وہی ہوگا جو ایک ہندو چاہے گا، دوسری بات یہ کہ بی جے پی کو تشدد سے کوئی فرق نہیں پڑتا؛ بلکہ اس کی راہ ہی وہی ہے، تیسری بات یہ کہ یہاں موجود اقلیت دوسرے درجے کے شہری ہیں، خاص طور پر مسلمانوں کو دوسرا درجہ ہی دیا گیا ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ گاندھی جی کا قتل کرنے والے یہی لوگ ہیں، ہندو مہا سبھا کے لوگ ہی تھے، جنہوں نے عدم تشدد کی پہچان کو ختم کیا تھا، ان کی دقت یہ ہے کہ یہ ہر فرد کو خونریز بنا دینا چاہتے ہیں، ہندو راشٹر کا خواب لئے ان کی تمنا یہی ہے کہ کوئی بھی رام کے نام پر تشدد کر جائے؛ لیکن ہماری برتری قائم رہے، یہی وجہ ہے کہ اس شخص کو پکڑ لئے جانے کے باوجود کوئی خاص ایکشن نہیں لیا گیا، میڈیا میں سناٹا پسرا ہوا ہے، وہ انہیں سرپھرا کہہ رہے ہیں، ذرا سوچیں__! اگر یہی واردات کسی مسلم نام سے کی گئی ہوتی اور وہاں پر رام کے بجائے اللہ اکبر کے نعرہ لگائے گئے ہوتے تو اب تک کیا کچھ ہوچکا ہوتا، اس دیس میں دہشت گردی کا لیبل صرف مسلمانوں پر لگا دیا گیا ہے اور ایک ایسی شبیہ بنیادی گئی ہے؛ کہ جس کے ساتھ وے کچھ بھی کر سکتے ہیں، یہ ملک "ہے رام" سے ہو کر "جے رام" تک جا پہونچا ہے، یہ عقیدت نہیں بلکہ ان کے اندر موجود اسی رام کیلئے فساد و تشدد ہے، یہ اپنے سینہ کی آگ میں پورے ملک کو جھونک دینا چاہتے ہیں، ان کی سرپرستی وہ طاقتیں کر رہی ہیں، جنہیں اپنے ووٹ بینک کا گھمنڈ ہے، جن کی عافیت ہی اسی میں ہے کہ ہر سینہ میں آگ دہکتی رہے، اور ہر دل یونہی جلتا رہے، یہ گاندھی کے بعد سجائے گئے ہندوستان کو وہی ہندوستان بنا دینا چاہتے، جو منوسمرتی میں ہے، جہاں شودر اور عورتیں غلام ہوں اور صرف ایک معمولی طبقہ پوری آبادی کیلئے آقا کا کردار ادا کرے، لیکن ہمیں یقین ہے کہ ہمیشہ کی طرح یہ اب بھی ناکامی سے دوچار ہوں گے اور ان کی سوچ میں یہ خود مرجائیں گے، ہندوستان سب کیلئے ہے اور سب کیلئے رہے گا.*
✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
31/01/2020