گم ہوتی اردو

اردو: ایک ایسی زبان جس کی گود میں غالب کا قلم پروان چڑھا، میر کی آنکھوں میں آنسو لرزے، اقبال کے خواب بیدار ہوئے، اور سرسید کی فکر جوان ہوئی۔ یہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک تاریخ، اور ایک احساس ہے۔ آج ہم اسی اردو کو زندہ کرنے کی سعی کر رہے ہیں مشاعرے منعقد کئے جا رہے ہیں، "اردو ہفتہ" منایا جا رہا ہے، اور اسکولوں میں اس کی اہمیت پر تقاریر ہو رہی ہیں۔

 

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اردو کو زندہ کر رہے ہیں، یا صرف ایک دفن شدہ زبان کی قبر پر پھول چڑھا رہے ہیں؟

 

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم نے اردو کو اس وقت دفن کر دیا تھا جب ہم نے اپنے بچوں کا داخلہ انگریزی میڈیم اسکولوں میں کروایا، جب ہم نے اردو کو محض ایک "اختیاری مضمون" سمجھ کر نظر انداز کیا، جب ہم نے اسے صرف گھر کی چاردیواری تک محدود کر دیا۔ ہم نے ترقی اور روشن خیالی کے نام پر اپنی تہذیبی زبان کو قربان کر دیا۔

 

ہم نے بچوں کو ABCD سکھانے میں تو کوئی کسر نہ چھوڑی، لیکن 'الف، ب، پ' ان کے ذہنوں سے کب محو ہو گئے، ہمیں خبر ہی نہ ہوئی۔ موبائل، ٹی وی اور انٹرنیٹ کی چکاچوند نے اردو کو صرف بزرگوں کی زبان بنا کر رکھ دیا۔ ہم یہ بھول گئے کہ اردو صرف زبان نہیں، ہماری روح کی آواز، ہمارے ورثے کا آئینہ، اور ہماری فکری پہچان ہے۔

 

آج ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ زبان محض رابطے کا ذریعہ نہیں، بلکہ قوم کی فکری اساس اور تہذیبی ستون ہے۔ جن اقوام نے اپنی زبان کو پسِ پشت ڈالا، تاریخ نے ان کی شناخت کو مٹا دیا۔ اردو کوئی فرسودہ یا کمزور زبان نہیں، بلکہ اس میں وہ قوت موجود ہے جو اقوام کو جوڑتی ہے، سوچوں کو وسعت دیتی ہے، اور جذبات کو مٹھاس بخشتی ہے۔

 

اردو کو زندہ رکھنے کے لیے صرف کتابی محبت یا رسمی مشاعرے کافی نہیں، بلکہ ہمیں اپنے گھروں میں، روزمرہ گفتگو میں، بچوں کی تعلیم میں اردو کو عملی حیثیت دینی ہوگی۔ ہمیں اپنے موبائل، کمپیوٹر، اور سوشل میڈیا پر اردو کو عام کرنا ہوگا۔ ہمیں اردو ادب کو نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ انداز میں پیش کرنا ہوگا۔

 

آج کتنے لوگ ہیں جن کے موبائل میں اردو ہے؟ کتنے نوجوان ایسے ہیں جو روانی سے اردو لکھ اور پڑھ سکتے ہیں؟ جب ہمارے بڑوں کا یہ حال ہو چکا ہے، تو آنے والی نسلوں کا کیا مستقبل ہوگا؟

 

اردو تب پھولے پھلے گی جب ہم اپنے بچوں کو اردو سکھائیں گے، اسے زندگی کا حصہ بنائیں گے، اور اس زبان سے محبت کا مظاہرہ صرف لفظوں میں نہیں عمل سے کریں گے۔ تب جاکر وہ دن آئے گا جب اردو دوبارہ اپنے اصل مقام پر فائز ہو گی وہی مقام جہاں غالب کا قلم، اقبال کی فکر، اور ہماری پہچان ایک ساتھ بسا کرتے تھے۔ 

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔