"؛؛ گنبد خضراء کی طرف دیکھ "؛؛؛
از ؛ محمد ہارون قاسمی بلند شہر یوپی فون ۔ 9412658062
ہمارے ایک عزیز دوست نے ہمارے مضامین پر مثبت تبصرہ کرتے ہوئے ایک سادہ سا سوال کیا ہے انہوں خاص طور پر ہمارے مضمون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
* از غلامی فطرت آزاد را رسوا مکن *
کی آخری سطروں کو دہراتے ہوئے پوچھا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"؛؛ ایسا تو نہیں ہے کہ مسلمانوں کے لئے کچھ ہو نہیں رہا ہے ملک کے اندر ہر شعبہ میں کچھ نہ کچھ کام تو ہورہا ہے بڑے بڑے مدارس چل رہے ہیں بڑے بڑے کالج اور یونیورسٹیاں بھی موجود ہیں ۔ بہت بڑے پیمانے پر دعوت و تبلیغ کا کام بھی ہو رہا ہے مسلمانوں کی سیاسی پارٹیاں بھی ہیں اور علماء کی محنت اور جدوجہد بھی ہے ۔۔ لیکن اس سب کے باوجود ملت کے اجتماعی حالات پر اس کے کوئی مثبت اثرات ظاہر نہیں ہورہے ہیں ۔۔۔۔۔ آپ کی نظر میں اس کی وجہ کیا ہے ؟؟؟ اور ہمیں ایسا کیا کرنا چاہیئے جس کے کچھ بہتر نتائج سامنے آسکیں ؟؟؟
---------------------------------------------سوال پر آپ بھی غور کیجئے اور بار بار غور کیجئے ۔۔۔
بظاہر یہ ایک بالکل سادہ سا سوال معلوم ہوتا ہے مگر یہ کوئی عام یا سادا سوال نہیں ہے بلکہ یہ بڑا اہم سوال ہے اور اپنے اندر بڑی گہرائی لئے ہوئے ہے ۔ یہی وہ سوال ہے جو آپ کے فکر و ذہن کو ملت کے حقیقی مرض تک لےجا سکتا ہے ۔ یہی وہ سوال ہے جو آپ کو بتا سکتا ہے کہ ملت کے معالجین سے ملت کے علاج میں غلطی کیا اور کہاں ہورہی ہے ۔ جس کے سبب ان کا کوئی علاج موثر اور کارگر ثابت نہیں ہورہا ہے ۔
اور اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اس سوال کے جواب کے اندر ملت کی زندگی کا راز پوشیدہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ موجودہ دور میں دین و ملت کے نام پر جو زبردست سرگرمیاں دکھائی گئی ہیں اور دکھائی جارہی ہیں اگر صرف انہیں کا قبلہ درست ہوجائے تو نتائج بہت بہتر ہوسکتے ہیں ۔۔۔
اور سچائی یہ ہے کہ ہم بھی اپنی ناقص سی سعی کے ذریعہ اسی سوال کو نکھارنا اور اجاگر کرنا چاہتے ہیں اور اس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ہمیں خوشی ہے کہ ابھی اس قوم کے اندر کچھ ایسے افراد موجود ہیں جن کی فکر زندہ ہے اور وہ اس بنیادی سوال تک پہنچنا چاہتے ہیں کہ آخر ہماری مشینری میں وہ کونسی بنیادی خرابی ہے جس کے سبب ہماری تمام دینی و ملی کوششیں اور سرگرمیاں ملت کے حق میں مفید اور موثر ثابت نہیں ہورہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سوال کی دو شقیں ہیں
پہلی شق یہ ہے کہ قوم کے حق میں ہماری اجتماعی جدوجہد بارآور ثابت کیوں نہیں ہورہی ہیں ؟؟؟ اور دوسری یہ ہے کہ ہمیں وہ کیا کرنا چاہیئے جس کے ذریعے ہماری قوم موجودہ انحطاط کے بحران سے باہر نکل سکے ؟؟؟
سوال کے اس دوسرے حصے پر ہم پھر کبھی گفتگو کرینگے انشاءاللہ کیوں کہ مرض کی تشخیص سے قبل علاج کی تجویز کے کوئی معنی نہیں ہوسکتے ۔
سردست ہم صرف اس سوال کے پہلے حصے یعنی ملت کے مرض کی کنایتہ بات کرنا چاہیں گے ۔۔۔
تو آئیے اس سوال کے حل تک پہنچنے اور اس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک صاحب اپنے گھر کے باہر روڈ پر کچھ تلاش کررہے تھے ان کے ایک دوست نے ان سے پوچھا کہ حضور کیا تلاش کررہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میرا ایک روپیہ گرگیا تھا اس کو تلاش کررہا ہوں انہوں نے پوچھا کہاں گرا تھا کہا کہ گھر کے اندر گرا تھا ۔۔۔ انہوں نے پوچھا کہ جب روپیہ گھر کے اندر گرا ہے تو آپ یہاں روڈ پر کیوں تلاش کررہے ہیں گھر کے اندر تلاش کیجئے تو انہوں نے کہا کہ گھر کے اندر اندھیرا ہے ۔۔۔۔۔ اس لئے یہاں روڈ پر اجالے میں تلاش کر رہاہوں ۔۔۔۔۔۔۔( ماخوذ )
ظاہر ہے ۔ قیامت تک یہ صاحب اپنا روپیہ تلاش نہیں کرسکتے ان کے ہوش و حواس اگر درست ہیں اور وہ روپیہ کی تلاش میں سنجیدہ ہیں تو انہیں گھر کے اندر جانا ہوگا گھر کے اندر اجالا کرنا ہوگا اور پھر روپیہ تلاش کرنا ہوگا تب انہیں اپنا وہ کھویا ہوا روپیہ مل سکتا ہے ۔۔۔
شاید یہ بدیہی سی بات سمجھنے میں کسی فرد ملت کو کوئی دشواری نہیں ہونی چاہئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تقریبا یہی صورت حال آج اس مسلمان قوم کی ہے اس کی بیماری کچھ اور ہے اور علاج کچھ اور ہو رہا ہے اس کے مسائل کہیں اور ہیں اور ان کا حل کہیں اور تلاش کیا جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پچھلی ایک صدی کے اندر تمام تر دینی و ملی سرگرمیوں اور بے پناہ قربانیوں کے باوجود ملت کے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید الجھتے چلے جارہے ہیں ان میں کمی ہونے کے بجائے مزید اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔۔۔۔ اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہیگا جب تک ہم ان مسائل کی جڑ اور ان کی تہ تک نہیں پہنچیں گے ۔۔۔۔۔۔
اب سوال یہ ہے کہ اس قوم کی اصل بیماری ہے کیا ؟ اور اس کے مسائل کی جڑ کہاں ہے ؟؟؟؟
یہی در اصل وہ نکتہ ہے جہاں بڑے بڑے اہل علم بڑے بڑے مفکرین اور بڑے بڑے دانشوروں کے دماغ چکرا رہے ہیں اور وہ ملت کے مرض کہن کی صحیح تشخیص کرنے میں کامیاب نہیں ہوپارہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ نہایت اہم اور تفصیل طلب موضوع ہے جس پر ہم انشاءاللہ وقتا فوقتا گفتگو کرتے رہیں گے ۔۔۔۔
آج ہم صرف اجمالا اس نکتہ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں جو در اصل اس قوم کے تمام تر مسائل کا سر چشمہ ہےجس کے لئے آپ کو تھوڑا پیچھے مڑ کر دیکھنا ہوگا
اصل میں ہوا یہ ہے کہ ہم اپنی تمام تر اندرونی خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود سو سال پہلے تک سیدھے راستے پر چل رہے تھے لیکن اچانک ایک دو راہے سے ہم راستہ بھٹک گئے ۔
ہماری منزل مقصود گنبد خضرا تھی ۔ اور ہمیں رائٹ میں جانا تھا ۔ لیکن بدقسمتی سے ہم لیفٹ میں عجم کے بتخانوں کی طرف مڑ گئے اور اس راہ پر ہم اتنا دور نکل گئے کہ ہمیں وہ دوراہا نظر آنا بھی بند ہوگیا جہاں ہم نے ٹھوکر کھائی تھی اور جہاں سے ہم راہ بھٹکے تھے
ہمیں سو سال ہوگئے اسی راہ پر اپنی منزل تلاش کرتے ہوئے لیکن منزل ملنا تو دور رہا ہم مسلسل اپنی منزل سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ جس راہ پر ہم سرپٹ دوڑے چلے جارہے ہیں اس پر سرے سے ہماری منزل موجود ہی نہیں ہے ۔۔۔ ہر شخص بس آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی نہ کسی کو فرصت ہے اور نہ ضرورت ۔۔۔ اور آج صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ ہمارے اندر یہ احساس تک باقی نہ رہا کہ ہماری منزل مقصود کیا ہے اور جس راہ پر ہم چل رہے ہیں اس کی آخری منزل کیا ہے ۔۔۔ اس راہ کے ہم اس حد تک خوگر ہوگئے کہ ??س پر رکھے ہوئے جمہوریت اور سیکولرازم جیسے لات و ہبل کی بندگی پر ہمیں فخر محسوس ہونے لگا ہمارے مذہبی رہنما اور سیاسی قائدین مختلف جھنڈوں کے ساتھ اسی راستےاور اس راستے سے نکلنے والی مختلف گلیوں اور پگڈنڈیوں کے فضائل بتا بتا کر قوم کو مسلسل ان کی طرف دھکیل رہے ہیں ۔۔۔ اور قوم ہے کہ ہر گزرتے وقت کے ساتھ اپنی منزل سے دور سے دور تر ہوتی چل جارہی ہے ۔ اگر ہم اپنی منزل کی تلاش میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں بہرحال اپنا رخ بدلنا ہوگا اور پیچھے مڑ کر دیکھنا ہوگا ۔۔۔ اور اسی مقام پر واپس آنا ہوگا جہاں سے ہم راستہ بھولے ہیں اور اسی راستہ کو اختیار کرنا ہوگا جو راستہ گنبد خضراء کی طرف جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون *
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔