جب حکومت ہی حوصلہ شکن ہوجائے

*جب حکومت ہی حوصلہ شکن ہوجائے__!!* ✍ *محمد صابر حسین ندوی*

      *اگر انسان کے اندر مزاحمت کی قوت ختم ہوجائے تو وہ بیمار ہوجاتا ہے، یہ قوت مدافعت ہی ہے جو اسے تندرست اور صحت مند رکھتا ہے، عوام کی مدافعت جبکہ وہ حق و باطل کے درمیان ہو تو نہ صرف ایک صالح حکومت کا پتہ دیتی ہے؛ بلکہ اس سے ملک کا مزاج معلوم ہوتا ہے، لوگوں میں شعور اور بیداری کا اندازہ ہوتا ہے، اس سے ان کے اندر جی رہے انسانیت اور مروت کا پتہ چلتا ہے، اگر لوگوں کے اندر سے وہ مدافعت ختم کردی جائے، قوت فکر پر ضرب لگائی جائے، ان کے حوصلے توڑ دئے جائیں، انہیں بات بات پر نشانہ بنا کر کمزور کردیا جائے، ہر جرم میں اسے لعن و طعن کیا جائے، انہیں مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی جائے، تو نہ صرف ایک سماج بکھ??تا ہے، معاشرہ تتر بتر ہوجاتا ہے؛ بلکہ ملک بھی منتشر ہوکر رہ جاتا ہے، عوام میں ایک مردنی سی چھا جاتی ہے، وہ سست ہوجاتے ہیں، ہاتھ پیر باندھ لیتے ہیں، محدود دائروں تک خود کو سمیٹ لیتے ہیں، سارے کاموں سے خود کو الگ کر لیتے ہیں اور گوشہ عافیت کو ہی اپنا سب کچھ مان لیتے ہیں، بچنے اور بچانے کی فکریں ہونے لگتی ہیں، جی چرانے کے فارمولے ڈھونڈے جاتے ہیں، وقت گزاری کے اسباب تلاش کئے جاتے ہیں۔*        *ایسے میں سوالات بھی ختم ہوجاتے ہیں اور پھر ایک ایسی حکومت رونما ہوتی ہے، جو فرعون بن کر عوام و خواص کو کچل دینے کا منصوبہ رکھتی ہے، ان کے پیروں میں زنجیریں باندھ کر جیل خانوں میں ٹھونس دینے اور ان کے گلے میں غلامی کا پٹہ باندھ دینے کی تیاری ہوجاتی ہے، اس ملک کا ذہن بگڑتا ہے اور پھر ظلم کو بھی شہ مل جاتی ہے، بادشاہ اپنے ہر فیصلے کو صحیح سمجھتا ہے، اسے پوری قوت اور طاقت کے ساتھ نافذ کرنے اور لوگوں کے سینہ میں اتاردینے کی کوشش کرتا ہے، زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں، اور ہر طرف نامانوسیت اور ناامیدی عام ہونے لگتی یے، فرعون جیسے سینکڑوں ظالموں کی داستانیں پڑھئے_! ان سب میں فرعونیت کا عروج اسی وقت پایا جاتا ہے؛ جبکہ عوام کے اندر بھی پست ہمتی پیدا ہوجائے، چنانچہ حکومت کے لالچی حوصلہ توڑتے ہیں، پھر کمر توڑتے ہیں، تاکہ جان بھی نہ اٹھ پائے اور جان میں موجود امنگ بھی مٹ جائے، پھر آسانی کے ساتھ انہیں اپنا غلام بنایا جا سکے، اگر ان کے جسم آزاد بھی ہوں تو ان کی فکریں غلام ہوجائیں، وہ اسی میں خیر جانیں، اسی میں لطف پائیں، وقت کا تقاضہ اورصلحت و ضرورت جانیں۔*        *ہندوستان میں موجودہ حکومت کا یہی فارمولہ جاری ہے، یہ رہ رہ کر عوام کے حوصلہ پر حملہ کر رہی ہے، ان میں موجود قوت مدافعت کو توڑ رہی ہے، پہلے من مرضی احکام جاری کردئے اور اب ناراضی پر انہیں خوف و ہراس میں مبتلا کیا جارہا ہے، پولس کی بر برتا اور پھر سیاست دانوں کی جانب سے حوصلہ افزا بیان بازیاں بھی اسی کی دین ہیں، لوگوں میں پیدا ہوئی بیداری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش ہے، جس کیلئے قتل و قتال سے بھی گریز نہیں کیا جاتا، عوام کو بلا کسی تفریق کے جیلوں میں ٹھونسا جارہا ہے، ہر روز گرفتاریاں ہورہی ہیں، CAA، NRC اورNPR کے خلاف ہورہے ملک گیر احتجاجات کو ناکامیاب بنانے کی بھر پور کوشش ہے، چنانچہ شاہین باغ دہلی کی خواتین کے خلاف جو پر امن احتجاج کر رہی ہیں، ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے، افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں مسلمان سوسائٹی بھی شامل ہے، انہیں باہر کا بتایا جارہا ہے، انہیں مفسد عناصر کی طرح پیش کیا گیا ہے، ممکن ہے کہ اب ان کے ساتھ جانوروں کا سا سلوک کیا جائے گا، ان کے پر امن احتجاج میں دخیل ہو کر کاروائی کی جائے۔*        *یوپی میں حیوانیت تو پار کردی گئی ہے، ایک چودہ مہینہ کی بچی کو بغیر ماں کے تڑپتا ہوا چھوڑ دیا گیا، اس کے والدین احتجاج کرنے گئے تھے؛ لیکن اٹھا لئے گئے، بہت ساری عرضیاں داخل کی گئیں، تب کہیں جا کر پورے پندرہ دن کے بعد اس کی ماں کو چھوڑا گیا ہے، ایسے میں اس خاتون نے یہی بیان دیا: "اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ احتجاج سے جیل بھیج دئے جائیں گے، تو احتجاج میں جاتی ہی نہیں" _ نیز اور بھی بہت سے افراد کو چھوڑا گیا؛ لیکن اکثر و بیشتر پر سنجیدہ الزامات اور دفعات لگائے گئے ہیں_ یہ سب اسی پروسس کا حصہ ہے، کہ کسی بھی طرح عوام کی زبان سل دی جائے، ان کی فکر پر اور ان کے دماغ پر تالے ڈال دئے جائیں، پھر رفتہ رفتہ ہر قدم پر ان کی حوصلہ شنکی کی جائے، اور اس طرح سامراجیت کا دور واپس لایا جائے، برہمنیت کا عروج ہوجائے، چند فیصد لوگ ملک پر اپنا قبضہ جمالیں، اور پھر فرعونئت کا زمانہ دہرا دیا جائے_ لیکن وہ بھول گئے ہیں؛ کہ وہی فرعون اور سامراجی طاقتوں کو ان کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہیں، ان کے پاس خدا کی طاقت ہے، جس سے کسی قسم کی نا امیدی کا امکان نہیں، اس کے ہوتے ہوئے کوئی حوصلہ نہیں توڑ سکتا، تو پھر غلامی کیسی_؟ طوق و سلاسل کیسے_؟ زنجیریں کیسی_؟ ہم آزاد تھے اور آزاد ہی مریں گے، فرعون غرق ہوگا، کفار قریش کی ناک خاک آلود ہوگی، اور افق سے اندھیرا چھٹ کر کھلی فضا کی ابتدا ہوگی۔*

Mshusainnadwi@gmail.com 7987972043 09/01/2020

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔