*ہندوستان کا کالا سچ صرف سیاست _!!* ✍ *محمد صابر حسین ندوی*
*ہندوستان کا کڑوا سچ یہی ہے کہ یہاں جمہوریت کے نام لیوا صرف سیاست کو ترجیح دیتے ہیں، وہ بھی ایسی سیاست جس کا نہ کوئی دین ہے اور نہ کوئی مذہب_ نہ کوئی فکر ہے اور نہ کوئی سوچ_ نہ کوئی جڑ ہے اور نہ کوئی بنیاد_ بلکہ سیاست کا دائرہ صرف اسی کے اردگرد گھومتا ہے؛ کہ اقتدار کیسے حاصل کرلیا جائے، حکومت کیسے پالی جائے، ایم، ایل، اے کیسے بن جائیں، سانسد کیسے ہوجائیں، وزیر اعظم اور ویز اعلی یا کیبینیٹ منسٹر کیسے بن جائیں، ساری طاقت اپنی مٹھی میں لیسے سمو لیا جائے، کیسے قوم کی جائداد پر اور یہاں کی نظم و تنطیم پر کنٹرول پالیا جائے، کیسے سبھی کو ہاتھوں کی کٹھپتلی بنا کر تماشہ کیا جائے_ اس خواہش بلکہ ہوس کی تکمیل کیلئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، دولت کی ندیاں، خون کی نہر اور انسانیت کا سمندر بہا سکتے ہیں، محبت کا گلا گھونٹ سکتے ہیں اور غربت و مفلسی کا مزاق بنا سکتے ہیں، لوگوں کے منہ سے دو وقت کی روٹی بھی چھین سکتے ہیں، نوکری اور مہنگائی کی چپیٹ میں لیکر پوری قوم کو احساس کہتری میں مبتلا کرسکتے ہیں، تعلیمی میدانوں میں بحران لا کر ہر ایک کو بے کس اور مجبور کر سکتے ہیں، اب معیار سے کوئی مطلب نہیں، صلاحیت اور قابلیت کا کوئی گزر نہیں۔* جرائم پیشہ کو بھی ٹکٹ دیا جا سکتا ہے، بلکہ کوئی دہشت گرد ہو یا دہشت گردی کے الزام میں ملوث ہو تو بھی وہ انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے، اور غضب یہ کہ وہ جیت بھی سکتا ہے، ایوان تک پہونچ سکتا ہے۔ اب حال یہ ہے کہ حکومت بنانے کیلئے جس پارٹی کو چاہیں توڑ دیں، جس جماعت کو چاہیں جوڑ لیں، جس ایم پی اور ایم ایل اے کو چاہیں خرید لیں_ اس میں کوئی فرق نہیں ہے، کوئی امتیاز نہیں، مہاراشٹر کے انتخابات اور نتائج کے بعد کیا ہوا، دو متضاد پارٹیوں نے اپنے افکار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے؛ ایک دوسرے سے ہاتھ ملا لیا، شیو سینا، نیشنل کانگریس پارٹی اور کانگریس نے ایک محاذ بنا لیا، اس سے پہلے کشمیر میں پی ڈی پی اور بی جے پی بھی سیاست کا مکروہ چہرا دکھا چکی ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں، خود نیشنل کانگریس پارٹی کے چیف شرد پوار نے بھی ایسا ہی کیا تھا، اور کانگریس سے الگ ہو کر اپنی ایک پارٹی بنا لی تھی۔ نیز یہ خبر بھی گردش میں تھی کہ سرکار بنانے کیلئے بی جے پی نے شرد پوار کو آفر دیا تھا؛ کہ انہیں صدر ہند بنا دیں گے اور ان کی بیٹی کو کیبینیٹ منسٹر کا عہدہ دے دیں گے_ یہ وہی پارٹی اور شرد پوار ہیں جنہیں بی جے پی نے سب سے کرپٹ پارٹی کا خطاب دیا تھا، لیکن کیا کیجئے_ سلطنت کے آگے سب جائز ہے، حکومت سازی کیلئے سب روا ہے، اقتدار کیلئے سب درست ہے۔ *غور کیجئے_! بہار میں انتخابات ہوئے لالو پرساد اور نتیش کمار کےگٹھ بندھن سے پورا صوبہ متفق تھا؛ لیکن تھوڑے ہی وقت میں بی جے پی نے نتیش کمار کو اپنی جھولی میں لے لیا اور دو مختلف فکر کے حاملین بغل گیر ہوگئے، اور جن کا خون ہی خراب تھا وہ بھی صاف و شفاف نظر آنے لگے، آپ یقین جانئے_! سیاست کا کالا سچ یہی ہے کہ بہر صورت حکومت میں آنا ہے، راج گدی کا لطف لینا ہے، چنانچہ دنیا کے سب سے مہنگے چناو ہندوستان میں ہوتے ہیں، ۲۰۱۹ء میں مرکزی چناو کا خرچ سب سے زیادہ تھا، کڑوروں روپئے اڑا دئے جاتے ہیں، تو وہیں پورے ملک میں اس انداز سے لائحہ بنایا گیا ہے؛ کہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی انتخاب رہے، اور پوری عوام صحیح کی تمیز سے پرے ہو کر انتخابات کے شور شرابے میں گم ہوجائے، اور نیتاوں کی گہما گہمی میں حقیقت دم توڑ دے، ابھی جھارکھنڈ میں چناو ہے، پھر دہلی_ بہار اور دوسرے متعدد صوبے قطار میں کھڑے ہیں، عوام کو پوری طرح ریلیوں میں الجھا کر اور اصل مدعا سے الٹ کر انتخابی جنون میں جھونک دیا جاتا ہے.* *سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ملک کا مغز اندھ بھکتی اور خود غرضی میں حق کی آواز کا گلہ دبا دیتا ہے، اور پھر دو کوڑیوں میں بکنے والے بے روزگار نوجوان کام پر لگ جاتے ہیں، دہشت، دولت اور محبت ہر طرح سے ماحول سازگار کرتے ہیں، اور پھر بھی کوئی کسر رہ جائے تو جناب جان لیجئے_! یہ جوڑ توڑ کی سرکار کا زمانہ ہے، اس قاعدے میں اب کوئی بھی فٹ ہوجاتا ہے، وقت وقت پر نئے نئے چوکھٹے بنا دئے جاتے ہیں، چنانچہ کبھی کانگریس کی ایک فکر تھی، اور بی جے پی کا سخت ہندوازم ہوا کرتا تھا؛ لیکن سیاست نے صرف یہی باقی رکھا ہے کہ سیاست کیجئے_! جب جہاں بھی فائدہ نظر آئے وہاں کی راہ لیجئے_ انتخابات کے وقت خواہ کتنی ہی باتیں ہوتی ہوں، مگر نتائج کے بعد کے وہ نمائندے وہیں نظر آئیں گے، جہاں انہیں فائدہ دکھائی دیتا ہے، عموما وہ فتح یافتہ جماعت میں شامل ہوجاتے ہیں، اور جیت کا ذائقہ چکھتے ہیں، اقتدار کا نشہ کرتے ہیں، سیاست گویا کوئی منڈی ہوگئی ہے، کوئی بازار ہوگیا ہے، جہاں ہر کوئی بکنے کو تیار یے، بس بولی لگانے والا چاہئے، وہ اپنی فکر اور اپنا تعارف بھی بیچ دیں گے_ صرف سیاست کی خاطر اور صرف حکومت کی غرض سے_ صرف قیمت لگا دیجئے_!* Mshusainnadwi@gmail.com 7987972043 17/12/2019
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔