ہندوستان کوئی نہیں آنا چاہتا

*ہندوستان کوئی نہیں آنا چاہتا___!!!!*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*

*ہندوستان کو اپنی قدامت، تہذیب و ثقافت اور تاریخ پر ناز ہے، یہ عین ممکن بھی ہے، یہاں کی سرسبزی و شادابی اور کلچر سے پوردی دنیا متاثر ہے، اسی لئے ہر زمانے میں یہاں دور دور سے لوگ آتے رہے ہیں_ لیکن یہ ہندوستان اب وہ ہندوستان نہیں ہے، موجودہ ملکی حالات کے سامنے سب کچھ ختم ہوتا جارہا ہے، ابھیNRC اور CAA کے ذریعے اس کی وہ آخری ڈور بھی کاٹ دی گئی ہے، جس نے اس ملک کو دوسرے ممالک میں ممتاز رکھا تھا، مذہب کے نام پر اور تشدد کے سہارے افغانستان، پاکستان اور بنگلادیش کی اقلیت کو جگہ دینا اور صرف مسلم قوم کو اس فیصلہ سے باہر کردینا اس کی قدیم تہذیب کے خلاف ہے، آئین کے بھی برعکس ہے، چنانچہ ملک میں احتجاج کی بہار ہے، پوری دنیا میں ۲۰۱۹ کا سب سے بڑا احتجاج ہندوستان میں درج کیا گیا ہے، ملک میں اسی قدر نقصانات بھی ہوئے ہیں، اور عالمی میڈیا میں اس کی تھو تھو ہوئی ہے، الجزائر سے لیکر سی این این اور بی بی سی نے اس کی روح فرساں کوریج کی ہے، جنہیں دیکھ کر انسانیت سے یقین اٹھ جائے، جو محافظ تھے وہی جلاد بن گئے ہیں، آئین کی شپتھ لینے والے اسی کا دھجیاں اڑا رہے ہیں، اور کھلے عام ہندوستانی شبیہ پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں_* *چنانچہ یہ دیکھتے ہوئے متعدد ممالک نے یہ ایڈوائزری جاری کی ہے؛ کہ ان کے باشندے ہندوستان کا سفر نہ کریں، امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا جیسے اہم ممالک اس میں شامل ہیں، کئی ممالک نے تجارتی رشتے توڑ دینے کی بات بھی کہی ہے، بلکہ بات یہاں تک نوبت آگئی ہے؛ کہ دوسرے مسلم ممالک میں آباد ہندوں کو بھی وہاں سے نکالا جا سکتا ہے، ملیشیا کے مہاتیر محمد نے کچھ اس طرف اشارہ کیا ہے، نیز ابھی ٹورزم کا وقت ہے، کرسمس کا تیوہار اور پھر نئے سال کی آمد کی وجہ سے اس واقعے نے بڑا گہرا اثرا ڈالا ہے، کروڑوں کا نقصان بتلایا جاتا ہے، خود ہندوستان میں بہت سے صوبوں نے بھی یہ ایدوائزری جاری کی ہے؛ کہ وہ میگھالے، ناگالینڈ، آسام، اتراکھنڈ___ وغیرہ کا سفر نہ کریں، یہ سب سیاحتی جگہیں ہیں اور اس کی وجہ سے نقصانات کا اندازہ لگایا جایا جا سکتا ہے____ ان سب بحثوں میں اس بات کو جلی طور پر پیش کیا جارہا ہے کہ مذکورہ تین ممالک کے لوگ ہدوستان آتے ہیں اور وہ یہاں پر آباد ہونا چاہتے ہیں_ جنہیں موجودہ حکومت سٹیزن شپ دینا چاہتی ہے_ دراصل یہ محض دھوکہ ہے، یہاں کا رخ کرنے والے عموما مزدور طبقہ ہے، وہ بھی یہ اس زمانے کی بات ہے جب بنگلادیش پاکستان سے الگ ہوا تھا، ایک افرا تفری کا ماحول تھا، ایسے میں کون کہاں گیا اور کس کے ساتھ کیا ہوا_ ؟ اس کا اندازہ بھی مشکل ہے۔* *یہ پرانی بات ہے، فی الوقت کیفیت یہ ہے کہ ان تینوں ممالک میں تقریبا تین کروڑ ہندو آباد ہیں، اور وہ یہاں کے ہندوں سے کہیں بہتر ہیں، ہمیں شاذ و نادر قصوں سے انکار نہیں؛ لیکن عموم ایسا نہیں ہے، بی بی سی نے ایسے متعدد ہندو گھرانوں کا انٹرویو شائع کیا ہے جو پاکستان میں رہتے ہیں_ ان کے بیان کے مطابق وہ یہاں سے کہیں بہتر صورت حال میں ہیں_ وہ کبھی بھی ہندوستان نہیں آنا چاہتے ___ اگر اس بیان کو نہ بھی مانا جائے، تو بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے؛ کہ جن ممالک کی حیثیت معیشت کے اعتبار سے ہندوستان سے کہیں بہتر ہو_ بھوک مری میں وہ ہندوستان سے بہتر پوزیشن میں ہوں_ وہ کیونکر ایسے ملک میں آنا چاہیں گے، جہاں کی معیشت آخری سانس لے رہی ہے، سخت شٹ ڈاون کا خطرہ منڈلا رہا ہے، ان ممالک میں نوکریوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے، اس فہرست میں اگرچہ پاکستان کو الگ کردیجئے__ لیکن افغانستان میں مواقع فراہم کئے جارہے ہیں، امریکی افواج کے کمزور ہوجانے کے بعد وہاں ترقی کی نئی لہر چلی ہے، وہ تو دنیا کے سامنے نئی طاقت بن کر رونما ہورہے ہیں، ہر کوئی مانتا ہے کہ وہاں کا مستقبل تاباں ہے؛ نیز وہاں ہر ایک تجارتی میدان میں تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے اور ایک وسیع میدان کا بند وبست کیا جاتا ہے، کہ کسی بھی طرح تجارتی معاملات میں پیچیدگی نہ آئے_* *خاص طور پر بنگادیش کی معاشی انڈکس آٹھ فیصد سے زائد ہے، تو وہیں وہاں نوکریوں کی کوئی کمی نہیں ہے؛ بلکہ ابھی کچھ دنوں پہلے کی بات ہے کہ وہاں اقتدار پر براجمان شیخ حسینہ کی حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا تھا؛ کہ یہاں سے کوئی ہندوستان نہیں جاتا، بلکہ وہاں سے لوگ یہاں آتے ہیں اور ہم ان کا استقبال کرتے ہیں، انہیں نوکری دیتے ہیں اور انہیں تمام سہولیات سے بہرہ ور کرتے ہیں_ ہندوستان میں نوکری کی صورت حال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، چالیس سال میں سب سے زیادہ بے بسی کی کیفیت ہے، بلکہ حد تو یہ ہے کہ دو کڑور لوگوں کی نوکریاں جا چکی ہیں، پرائیوٹ سکٹر میں دو لاکھ سے زیادہ بے روزگار ہوگئے ہیں_ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے کڑورپتی بیرون ملک بھاگ رہے ہیں، تقریبا تین کڑور ہندوستانی بیرون ملک میں بس چکے ہیں، تعلیم کے نام پر باہر نکلنے والے واپس ہی نہیں آتے_ عجیب بات ہے کہ ہندوستانی حکومت کو شرم نہیں آتی کہ وہ دوسروں کو سٹیزن شپ دینے کیلئے مر رہے ہیں؛ لیکن کوئی یہاں آنا چاہتا ہی نہیں ہے اور نا ہی یہاں بسنا چاہتا ہے اور یہاں موجود ہیں انہیں NRC کے دائرے میں لاکر باہر کا راستہ دکھانا چاہتے ہیں، اگر بفرض محال یہ مان بھی لیں کہ کوئی آنا چاہتا ہے تو آخر آپ کس بات پر جگہ دیں گے_؟ جگہ اگر دے بھی دیں تو ان کی زندگی کا کیا ہوگا_؟_ صحیح بات تو یہ ہے کہ یہ سب محض سیاسی چالیں ہیں اور کچھ نہیں_ دیکھتے ہیں وقت اور کیا کیا رنگ دکھاتا ہے۔!!*

Mshusainnadwi@gmail.com 7987972043 29/12/2019

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔