حرمت والے مہینے

از: ظفر احمد خان ندوی 
      چھبرا، ڈاکخانہ  دھرم سنگھوا بازار 
 ضلع سنت کبیر نگر یو پی  272154
             Mob No: 9421590170

اللہ رب العزت نے بعض چیزوں کو بعض پر فضیلت و رتبہ سے نوازا ہے۔ جیسا کہ مدینہ منورہ کو تمام شہروں پر فضیلت حاصل ہے، وادیِ مکہ کو تمام وادیوں پر، بئر زمزم کو تمام کنوؤں پر، مسجد حرام کو تمام مساجد پر، سفرِ معراج کو تمام سفروں پر، ایک مؤمن کو تمام انسانوں پر، ایک ولی کو تمام مؤمنوں پر، صحابی کو تمام ولیوں پر، نبی کو تمام صحابہ پر، رسول کو تمام نبیوں پر اور ر??ولوں میں تاجدارِ کائنات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاص فضیلت کے حامل ہیں۔
اللہ رب العزت نے اسی طرح بعض دنوں کو بعض پرفضیلت دی ہے۔ یوم جمعہ کو ہفتہ کے تمام ایام پر، ماہ رمضان کو تمام مہینوں پر، قبولیت کی ساعت کو تمام ساعتوں پر، لیلۃ القدر کو تمام راتوں پر فضیلت و عظمت بخشی ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے سال کے بارہ مہینوں میں سے چار مہینوں کو حرمت والے قرار دیا ہے جیسا کہ ارشاد ہے "بے شک اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جس دن سے اللہ نے زمین اور آسمان پیدا کیے، ان میں سے چار عزت والے ہیں، یہی سیدھا دین ہے، سو ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو، اور تم سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔(التوبہ: آیت:36)۔ حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالی نے چار مہینوں کو حرمت وا حترام کے ساتھ خاص کر رکھا ہے ، ان کی حرمت کو بڑھا دی ہے ، ان میں گناہ کےکام کو بڑا جرم اور نیکی کے کام کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے ۔
اس آیت مبارکہ سے اس مہینہ کا دوسرا اہم کام یہ معلوم ہوا کہ مسلمان آپسی اتفاق و اتحاد پر توجہ دیں اور جس طرح دیگر قومیں ان کے خلاف متحد ہیں انہیں بھی چاہئے کہ ان کے مقابلہ کےلئے متحد ہوجائیں ۔
اس آیت مبارکہ کے خاتمہ پر ایک اور بڑے اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی گئی کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ اللہ کے خوف اور تقوی کو لازم پکڑیں کیونکہ تقوی وہ اہم نیکی ہے جس کی وجہ سے بندے کو اللہ کی مدد اور اس کی معیت حاصل ہوتی ہے ۔ 
     حرمت والے مہینے:  سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ زمانہ اپنی اصل حالت پر گھوم کر آ گیا ہے؛ اس دن کی طرح جب اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا. دیکھو! سال کے بارہ مہینے ہوتے ہیں: چار ان میں سے حرمت والے مہینے ہیں. تین لگاتار ہیں: ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم، اور چوتھا رجب مضر جو جمادی اور شعبان کے بیچ میں پڑتا ہے. پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا یہ کون سادن ہے؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو بہتر علم ہے. اس پر آپ ﷺ خاموش ہو گئے. ہم نے سمجھا شاید آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے. لیکن آپ نے فرمایا: کیا یہ یوم النحر(قربانی کا دن) نہیں ہے؟ ہم بولے کہ کیوں نہیں. پھر دریافت فرمایا اور یہ مہینہ کون سا ہے؟ ہم بولے کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ بہتر علم ہے۔ پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے. ہم نے سمجھا شاید اس کا کوئی اور نام آپ ﷺ رکھیں گے، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ بلد حرام(مکہ) نہیں ہے؟ ہم بولے کیوں نہیں (یہ مکہ ہی ہے) پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا اور یہ دن کون سا ہے؟ ہم بولے کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ بہتر علم ہے، پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا شاید اس کا آپ ﷺ اس کے مشہور نام کے سوا کوئی اور نام رکھیں گے، اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: پس تمہارا خون اور تمہارا مال۔ محمد (راوی حدیث) نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا، اور تمہاری عزت تم پر اسی طرح حرام ہے جس طرح اس دن کی تمہارے اس شہر اور تمہارے اس مہینے میں حرمت ہے اور تم بہت جلد اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا. خبردار،  میرے بعد تم گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو. ہاں اور جو یہاں موجود ہیں وہ ان لوگوں کو پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں، ہو سکتا ہے کہ جسے وہ پہنچائیں ان میں سے کوئی ایسا بھی ہو جو یہاں بعض سننے والوں سے زیادہ اس کو یاد رکھ سکتا ہو. محمد بن سیرین جب اس حدیث کا ذکر کرتے تو فرماتے کہ محمد ﷺ نے سچ فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو کیا میں نے پہنچا دیا۔ آپ ﷺ نے دو مرتبہ یہ جملہ فرمایا.(بخاری کتاب التفسیر)۔ان مہینوں کی عظمت و برتری اسلام کے آغاز سے پہلے بھی تھی اور اسلام سے پہلے دوسری آسمانی مذاہب میں تسلیم کی گئی ہے یہاں تک کہ مکہ کے مشرکین کفر و شرک کی حالت میں بھی ان مہینوں کے عظمت و فضیلت کے قائل تھے اسلام کے آغاز تک ان مہینوں میں جہاد و قتال بھی منع تھا اور ساتھ ہی مہینوں میں عبادات و اتحاد کی خاص فضیلت رکھی گئی تھی اور اب بھی ان مہینوں میں عبادت وہ تعداد کی فضیلت پر خرار ہے لہذا جو شخص ان مہینوں میں عبادت و اطاعت کرتا ہے وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں خاص فضیلت و اہمیت کی شان رکھتی ہے
     حرمت کا مطلب:
           حرمت سے مراد کسی چیز کو محترم کر دینا ہے اللہ تعالی نے جن چیزوں کو محترم قرار دیا ہے انہیں شعائراللہ بھی کہتے ہیں حرمت والے ان چار مہینوں کی فضیلت سال بھر کے دوسرے مہینوں پر فوقیت رکھتی ہے سوائے رمضان کے کیوکی رمضان ماہ صیام بھی ہے اور نزول قرآن کا مہینہ بھی ہے کسی چیز کے احترام کے آداب کا تعین بھی خود اللہ تعالی نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے چنانچہ نماز محترم ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ اس کے آداب اور شرائط کا خیال رکھا جائے اس کا برے الفاظ میں اور نفرت و تحقیر کے انداز کی بجائے بڑی محبت عزت اور دلی رغبت کے ساتھ اس کا اہتمام اور اس کا ذکر کیا جائے اللہ تعالی کا ارشاد ہے اے ایمان والو اللہ کے شاعر کی بے حرمتی نہ کرو نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ پٹے والے جانوروں کی اور نہ ہی ان لوگوں کو تنگ کرو جو بیت اللہ کی طرف اپنے رب کی رضا اور فضل کی تلاش میں جا رہے ہیں اس آیت میں حج و عمرہ کے متعلق پانچ چیزوں کا نام لے کر ان کے حرمت قائم رکھنے کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے شعایر اللہ حرمت والے مہینے قربانی کے جانور وہ جانور جن کے گلے میں ایسی علامت لگادی گئی ہو جس سے پتہ چلتا ہوں کہ یہ جانور اللہ کے گھر کی طرف قربانی کے لیے بھیجا جا رہا ہے جو حج اور عمرہ کی نیت سے بیت اللہ کا سفر کر رہے ہوں.
       ان مہینوں کو حرمت والے قرار دیے جانے کی وجہ:
         جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ حرمت والے مہینے چار ہیں تین تو اس میں سے مسلسل ہے اور ایک الگ ہے تاکہ حج و عمرہ کے مناسک کو ادا کیا جا سکے حج سے پہلے ایک مہینے یعنی ذی القعدہ کو اس لیے حرمت والا قرار دیا گیا تاکہ وہ اس مہینے میں جنگ و جدال سے باز رہیں ذی الحجه کو اس لیے حرمت والا مہینہ قرار دیا تاکہ وہ مناسک حج ادا کرسکیں اور اس کے بعد ماہ محرم کو اس لیے حرمت والا قرار دیا تاکہ امن و سکون سے اپنے اپنے علاقوں میں لوٹ جائیں اور سال کے درمیان میں ماہ رجب کو اس لئے فروخت والا قرار دیا تاکہ جزیرۃ العرب کے دور دراز کے علاقوں میں سے آکر اگر کوئی عمره کرنا چاہے تو اس سے فارغ ہو کر اپنے وطن لوٹ جائے ارشاد باری تعالی ہے یہی سیدھا دین ہے یعنی یہی شریعت مستقیم ہے کہ اللہ تعالی کے حکم کی اطاعت کی جائے اور اس کے مقرر کردہ حرمت والے مہینوں کی حرمت کا پاس کیا جائے اور اس سلسلے میں اللہ تعالی نے روز اول سے جو مقرر ہے اس کی پابندی کی جائے(تفسیر ابن كثیر:۳).
         صاحب معارف القران فرماتے ہیں ،ان مہینوں کو حرمت والا دو معنی کے اعتبار سے کہا گیا، ایک تو اس لیے کہ ان میں قتل وقتال حرام ہے، دوسرے اس لیے کہ یہ مہینے متبرک اور واجب الاحترام ہیں۔ ان میں عبادات کا ثواب (دیگر ایام کے بالمقابل) زیادہ ملتا ہے، ان میں سے پہلا حکم تو شریعتِ اسلام میں منسوخ ہوگیا، مگر دوسرا حکم احترام وادب اور ان میں عبادت گزاری کا (خصوصی) اہتمام، اسلام میں بھی باقی ہے۔(معارف القرآن:4)
         حرمت والے مہینوں کے ناموں کی وجہ تسمیہ:
        ذوالقعدہ: عربی میں قعدہ کے معنی بیٹھنے کے آتے ہیں عرب کے لوگ زمانہ جاہلیت میں اس مہینے میں قتل و قتال کو گناہ اور حرام سمجھتے تھے اور اسلحہ وغیرہ رکھ دیتے تھے کوئی کسی کو قتل نہیں کرتا تھا اور اگلے مہینے آنے ذوالحجہ میں بہت سے لوگ حج کرتے تھے یعنی وہ لڑائی جھگڑے اور سفر و استغفار سے الگ ہوکر اس مہینے میں بیٹھ جایا کرتے تھے اس مناسبت سے اس مہینے کا نام ذلقعدہ رکھا گیا یعنی بیٹھنے والا مہینہ (ماہ ذیقعدہ اور حج کے فضائل و احکام مفتی محمد رضوان خان)
           ذوالحجه: الحجه کی معنی ایک بار حج کرنا اور سال کو بھی کہتے ہیں چونکہ سال میں صرف ایک ہی بار حج ہو سکتا ہے جو اسی ماہ میں کیا جاتا ہے اس لیے اسے ذوالحجه رکھا گیا دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کے اختتام پر ایک ہجری سال مکمل ہوتا ہے اس لیے اسے ذوالحجه کها گیا تیسری وجہ یہ ہے کہ اس مہینے میں فریضہ حج ادا کیا جاتا ہے اس لیے اسے ذوالحجہ کہا گیا(اسلامی مہینے اور ان کا تعارف محمد ارشد کمال)
           محرم: ابو علی احمد بن محمد الاصفہانی کہتے ہیں کہ محرم کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں لوگ قتال کو حرام سمجھتے تھے علامہ علیم الدین سخاوی لکھتے ہیں کہ محرم کو اس کی تعظیم و تقدیس کی بنا پر محرم کہتے ہیں لیکن میرے نزدیک اسلام کی وجہ اس کی حرمت کی تاکید ہے کیونکہ لوگ دور جاہلیت میں اس کے ساتھ کھیلتے تھے کبھی لڑائی کے لیے حلال کر ڈالتے تھے اور کبھی حرام کرلیتے تھے (اسلامی مہینے اور ان کا تعارف محمد ارشد کمال)
       رجب: علامہ رافعی لکھتے ہیں کہ رجب کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ عرب لوگ اس مہینے کی تعظیم کیا کرتے تھے اور اس میں لڑنا حرام سمجھتے تھے رجب کی جمع ارجاب ہے بس اوقات ماہ شعبان کو اس کے ساتھ ملاتے ہوئے دونوں کورجبین بھی کہتے ہیں  دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ماہ رجب کی وجہ تسمیہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا اس میں شعبان اور رمضان کے لئے بہت ساری خیر تیار کی جاتی ہے یعنی رجب تیاری کے معنی میں ہے ابو الحسن ابن الحسین ابن علی المسعودی کے مطابق رجب کو رجب کہنے کی وجہ اس مہینے میں کوئی خوف تھا وہ رجب کو خوف کے معنی میں لیتے تھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے مطابق ماہ رجب کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں فرشتے بکثرت اللہ تعالی کی تسبیح تحمید اور تقدیس میں مشغول رہتے ہیں ابوزید یحی ابن صیاد کے مطابق رجب کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس ماہ میں لوگ کھجوروں کے خوشوں کو سہارا دے کر رکھتے تھے اور شاخوں کے ساتھ پتے باندھ دیتے تھے تاکہ ہوا سے ٹوٹ نہ جائیں اسی سے یہ محاورہ ہےرجبت النخلة ترجیبا میں نے کھجور کے اردگرد سہارے کھڑے کردیے (اسلامی مہینے اور ان کا تعارف محمد ارشد کمال).رجب کو رجب مضر کیوں کہا گیا:
       آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ ان میں سے تین مہینے تو متواتر ہیں ذوالقعدہ ذوالحجہ محرم اور چوتھا مہینہ رجب مضر ہے جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہے رجب كی مضر کی طرف اضافت اس لئے کی تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بیان فرما دیں کہ یہ بات صحیح ہے کہ جب سے مراد وہ مہینہ ہے جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہے نہ کی جو شعبان اور شوال کے درمیان ہے جیسا کہ خاندان ربیعه کا خیال تھا کیونکہ شعبان اور شوال کے درمیان وہ مہینہ ہے جسے آج کل رمضان کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ رجب سے مراد وہ مہینہ ہے جس سے مضرنے رجب قرار دیا ہے نہ کہ وہ مہینہ جس سے ربیعه نہ جب قرار دیا ہے ۔
       
  نیکیوں کے اجر اور گناہ کی سزا میں اضافہ:
 محققین کے مطابق ان مہینوں میں گناہوں سے بطور خاص بچنا اور ترک معاصی کا اہتمام کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کے مالک ہیں اور اوقات و ایام بھی ان کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے جس طرح بعض ایام کو یہ خاصیت بخشی ہے کہ ان میں نیکی کا اجر و ثواب بڑھا دیا جاتا ہے جیسے عشرہ ذی الحجہ، رمضان المبارک، یوم عاشور وغیرہ۔ اسی طرح ان کا فیصلہ ہے کہ بعض ایام میں گناہوں کے وبال اور شناعت کو بھی بڑھا دیا ہے۔ جس طرح بندے فضیلت والے ایام میں نیکیوں پر کمر بستہ ہوتے ہیں اور خوب محنت، رغبت اور تندہی کے ساتھ انہیں کمانے کی فکر کرتے ہیں، اسی طرح انہیں تاکید کی گئی ہے کہ یہ چار مہینے ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں خاص عزت و حرمت والے ہیں ،ان میں اگر کوئی گناہ کیا جائے تو وہ سال کے دیگر ایام کی نسبت اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ بُراشمار کیا جاتا ہے اور اس پر زیادہ ناراضگی کا خطرہ ہے لہٰذا ان میں خاص محنت کے ساتھ گناہوں سے بچا جائے لیکن جب پہلے عرض کیا کہ اس خاص حکم پر عمل موقوف ہے اس بات پر کہ ان مہینوں کا علم تو ہو۔ علامہ قرطبی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مایہ ناز تفسیر ’’الجامع لاحکام القرآن‘‘ میں اس بات کو وضاحت اور مثال کے ساتھ تحریر فرمایا ہے:’’تم ان مہینوں میں گناہوں کا ارتکاب کرکے اپنے آپ پر ظلم نہ کرو کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جب ایک جہت سے کسی شئے کو عظیم بنا دیتا ہے تو اس کے لیے ایک حرمت ہوجاتی ہے اور جب وہ اُسے دو جہتوں سے یا کئی جہتوں سے عظیم بنا دے تو پھر اس کی حرمت بھی متعدد ہوتی ہے، پس اس میں بُرے عمل کے سبب سزا دوگنا کردی جاتی ہے اور اسی طرح عمل صالح کے سبب ثواب بھی دوگنا کردیا جاتا ہے کیونکہ جس نے حرمت والے مہینے میں بلد حرام میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی تو اس کا ثواب اس آدمی کے ثواب کی مثل نہیں ہوگا جس نے حلال مہینے میں بلد حرام میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے حلال مہینے میں شہر حرام میں اس کی اطاعت کی اس کا ثواب اس کے ثواب کی مثل نہیں ہوگا جس نے حلال مہینے میں بلد حلال میں اس کی اطاعت کی‘‘(القرطبی)
 تخصیص کی وجہ:
اب سوال یہ ہے کہ ظلم تو مطلقاً حرام ہے۔ پھر یہاں پر ان چار مہنیوں کی تخصیص کی کیا وجہ ہے کہ ان مہینوں میں ظلم نہ کیا جائے؟ تو اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گناہ کرنا کسی وقت اور کسی مقام پر بھی حرام ہے مگر حرم شریف میں اس کا ارتکاب زیادہ سنگین اور دوہری سزا کا موجب ہے۔ اسی طرح عام گلی، بازار میں گناہ کرنے سے مسجد میں گناہ کرنا زیادہ سنگین جرم ہے۔ اس کی ایک مثال سورۃ بقرہ میں یوں آتی ہے : حج کے مہینے معلوم ہیں ، پس جو کوئی ان مہینوں میں حج کا احرام باندھ لے پھر وہ نہ کوئی شہوانی بات کرے، نہ گناہ کا ارتکاب کرے اور نہ جھگڑا فساد کرے۔ یہاں بھی یہی بات ہے کہ جھگڑا فساد اور معصیت تو ہر وقت حرام ہے، پھر احرام کی حالت میں اسی کی تخصیص اس لیے کہ گئی ہے کہ ان ایام میں گناہ کی سنگینی بڑھ جاتی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺسے دریافت کیا، حضور!بڑا گناہ کونسا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اللہ کے ساتھ شریک بنائو۔ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ عرض کیا اس کے بعد بڑا گناہ کونسا ہے؟ آپؐ نے فرمایا : کہ تو اپنے پڑوسی کے گھر پر ڈاکہ ڈالا جائے تو اس کی سنگینی میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ پڑوسی کا ایک دوسرے پر بڑا حق ہوتا ہے اگر ایک پڑوسی دوسرے کی غیر حاضری سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کی عزت کی حفاظت کی بجائے اسے برباد کرتا ہے تو عام حالات کی نسبت اس کے جرم کو نوعت بڑھ جاتی ہے بہرحال اللہ نے فرمایا کہ حرمت والے مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔
      
  ان مہینوں میں جنگ کی ممانعت:
          امام ابن ابو حاتم نے حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو قائد مقرر کیا، جب وہ روانہ ہونے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق کی وجہ سے رونے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جگہ پر عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنه كومقرر کردیا اور انہیں ایک دستاویز لکھ کر دیا اور فرمایا، اس دستاویز کو فلاں  مقام پر پہنچنے سے پہلے نه پڑھنا اور آپ نے یہ بھی فرمایا اپنے ساتھیوں میں سے كسی کو اپنے ساتھ جانے پر مجبور نہ کرنا، جب انہوں نے دستاویز کو پڑھا تو انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھنے لگ گئے اور کہنے لگے کہ اللہ اور اس کے رسول کا فرمان سر آنکھوں پر، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں کو صورتحال سے آگاہ کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھ کر سنایا تو ان میں سے دو آدمی واپس آگئے اور باقی ان کے ساتھ رہ گئے ابن الحضرمی سے ان کی ملاقات ہوئی تو اسے انہوں نے قتل کردیا اور انہیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ دن رجب کا ہے یا جمادی کا، مشرکوں نے مسلمانوں سے کہا کہ تم نے تو حرمت والے مہینے میں لڑائی کی ہے تو اس پر اللہ تعالی نے آیت نازل فرمائی(تفسیر ابن کثیر ج1)۔ "اے نبی لوگ آپ سے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، آپ کہہ دیجئےان میں لڑنا بہت بڑا گناہ ہے اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (خانہ کعبہ) میں جانے سے روکنا اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے اور فتنہ انگیزی خوں ریزی سے بھی بڑھ کر ہے"(البقرہ:217)۔ یعنی اگر تم نے حرمت والے مہینے میں لڑائی کی ہے تو انھوں نے تمہیں اللہ کے راستے سے روکا اور اس کے ساتھ کفر بھی کیا ہے، نیز انہوں نے تو تمہیں مسجد حرام سے روکا اور اس سے نکالا ہے حالانکہ تم تو مسجد حرام والے ہو اور یہ سب باتیں اس کے قتل سے بڑی ہے جسے تم نے قتل کیا ہے، یعنی یہ لوگ تو مسلمانوں کو اس قدر فتنہ انگیزی میں مبتلا کر دیتے تھے کی بعض ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف لوٹ جاتے تھے اور یہ بات اللہ تعالی کے ہاتھ قتل سے بھی بڑھ کر ہے لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے حتی کہ اگر ان کے بس میں ہو تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں یعنی یہ لوگ تو بہت خبیث اور بہت بڑی بات پر قائم ہیں،  اس سے توبہ بھی نہیں کرتے اور نہ ہی اس کو ترک کرتے ہیں 
اس لئے اگر مسلمانوں سے لاعلمی میں غلطی ہوگئی تو اس پر واویلا مچانے کا کوئی مطلب نہیں، ساتھ ہی اللہ تعالی نے یہ بھی اجازت دے دی کہ اگر حرمت والے مہینوں میں کافر مسلمانوں پر حملہ کرنے میں پہل کریں تو مسلمان اپنا بھرپور دفاع کر سکتے ہیں اللہ تعالی کا ارشاد ہے "حرمت والے مہینے حرمت والے مہینوں کے بدلے میں ہے اور حرمت ادلے بدلے کے ہیں جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر اسی طرح کی زیادتی کرو جتنی زیادتی تم پر کی گئی ہے اللہ سے ڈرتے رہا کرو جان لو کہ اللہ تعالی متقیوں کے ساتھ ہے"(البقرہ:194)
          اس آیت میں مسلمانوں کو اللہ تعالی نے حکم دیا کے حرمت والے مہینوں کی حرمت کا خیال رکھیں رشتے کی کافر بھی حرمت کا خیال رکھیں کیونکہ یہ بے حرمتی بدلے ہیں میں ملحوظ رکھی جاسکتی ہیں اگر مقابل علمت کا خیال رکھتے ہوئے تم سے لڑائی پر آمادہ ہو جائے تو تمہیں بھی اپنا دفاع ضروری کرنا چاہیے اور اگر حرمت والے مہینوں كو سامنے رکھتے ہوئے جنگ بندی کردے تو تم بھی جنگ بندی کر دو۔ مختصریہ کی جنگ و جدال اور قتال ان مہینوں میں ہمیشہ کے لئے حرام ہے مگر جب کفار ان مہینوں میں حملے كی  ابتداکریں تو دفاع کے لیے مسلمانوں کو بھی قتال کی اجازت ہے چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہرحرام میں اس وقت قتال نه کرتے تھے جب تک كه قتال کی ابتدا کفار کی طرف سے نہ ہو جائے۔
ان مہینوں میں روزوں کی فضیلت:
  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا صبر یعنی رمضان کے مہینے کے روزے رکھوں اور ہر مہینے میں ایک دن کا روزہ رکھ لیا کرو ان صحابی نے عرض کیا کہ مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے لهذا میرے لیے اور اضافہ فرما دیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مہینے میں دو دن روزہ رکھ لیا کیجیے پھر ان صحابی نے عرض کیا کہ میرے لیے اور اضافہ فرما دیجئے کیونکہ مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مہینے میں تین دن کا روزہ رکھ لیا کرو پهران صحابی نے عرض کیا کہ میرے لیے اور اضافہ فرما دیجئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااشهرحرم یعنی ذوالقعدہ ذوالحجہ  محرم اور رجب کے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑو آپ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی اور آپ نے اپنی تین اگلیو سے اشارہ فرمایا ان کو ساتھ ملا دیا پھر چھوڑ دیا یعنی کین مہینوں میں تین دن روزہ رکھو پھر تین دن نا کرو اور اسی طرح کرتے رہو (ابوداود)
       امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اور مہینوں میں روزوں کے لیے رمضان کے بعد افضل و عظمت والے مہینے ہیں یعنی ذو القعدہ ذی الحجہ محّرم اور رجب کے مہیینے (روضۃ الطالبین) لہذا ان خرمت والے مہینوں میں جس قدر ممکن ہو روزے رکھنے چاہیے۔
ان مہینوں کی انفرادی خصوصیات:
ماہِ ذی قعدہ:
ماہ ذی القعدہ  اسلامی کیلینڈر  کا گیارہواں مہینہ ہے۔ یہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے اور اشھرحرم(حج کے مہینوں) کا درمیانی مہینہ ہے، یہ حج کی تیاری کا مہینہ ہے،اس مہینے کی عظمت و فضیلت کے لیے یہی کافی ہے کہ اس میں عام طور پر دُنیا بھر سے فرزندان توحید  حج جیسی عظیم الشان عبادت  کے لیے حرمین شریفین کی حاضری کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کا جو یہ واقعہ قرآن میں  موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نئی شریعت اور کتاب دینے کے لیے کوہِ طور پر پہلے تیس راتوں کا اعتکاف کرنے کا حکم فرمایا اور پھر مزید دس راتوں کا اضافہ فرما کر کل چالیس راتیں مکمل ہونے پر اُن کو شریعت اور کتاب (تورات) عطا فرمائی۔ ان چالیس راتوں کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ چالیس راتیں ذوقعدہ کے پورے مہینے اور ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی تھیں۔ چناں چہ امام ابن کثیرؒ لکھتے ہیں : ’’حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اعتکاف کی میعاد عیدالاضحی کے دن پوری ہوئی تھی اور اسی دن آپ ؑ کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف نصیب ہوا تھا۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر )
بعض نادان  ذی قعدہ کے مہینے کو خالی کا مہینہ کہتے ہیں، وہ شاید اس وجہ سے کہ یہ مہینہ اپنے سے پہلے اور بعد کے مہینوں کے برعکس عیدالفطر و عیدالاضحی وغیرہ سے خالی ہوتا ہے، اور خالی کا مطلب وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس مہینے میں کسی نیک عمل و طاعت کی بالکل ضرورت نہیں، یہ خیال بالکل غلط، فاسد اور سراسر لاعلمی پر مبنی ہے، اس سے بچنا چاہیے۔
اسی طرح بعض لوگوں کا یہ خیال بھی ہے کہ چوں کہ یہ خالی کا مہینہ ہوتا ہے اس لیے اس مہینے میں نکاح اور اور شادی وغیرہ بھی نہیں کی جاسکتی کہ کہیں وہ خیر و برکت سے خالی نہ رہ جائے، چناں چہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ ماہ شوال میں جلدی جلدی شادیاں کرکے فارغ ہوجاتے ہیں تاکہ کہیں ذی قعدہ کا مہینہ شروع نہ ہوجائے۔ حالاں کہ ماہِ ذی قعدہ سنہ پانچ ہجری میں رسول اکرمؐ نے اُم المؤمنین حضرت زینب ؓ سے نکاح فرمایا تھا۔ (البدایہ والنہایہ ) اسی طرح ماہِ ذی قعدہ سنہ سات ہجری میں آپؐ نے حضرت میمونہؓ سے نکاح فرمایا تھا۔ (سیر اعلام النبلاء) ال غرض ماہِ ذی قعدہ میں نکاح و شادی وغیرہ عبادات کرنے کو خیر و برکت سے خالی سمجھنا زمانۂ جاہلیت کی باتیں اور توہمات پرستی ہے، جن کا شریعت اور اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
            ذی الحجه: یہ مہینہ بھی حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک محترم اور بابرکت مہینہ ہے یہ اشهر حرم کا آخری مہینہ هے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چارعمروں میں سے ایک عمره اسی مہینے میں حجۃ الوداع کے ساتھ ادا فرمایا تھا یہ وہ عظیم اور بابرکت مہینہ ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے بیت اللہ شریف پہنچتے ہیں اور اسے ادا کرتے ہیں یہ اسلامی سال کا آخری مہینہ ہے اس کے اختتام پر اسلامی سال مکمل ہوتا ہے 
             ماہ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ قرآن و حدیث کے مطابق افضل ترین عشرہ ہے اللہ تعالی کا ارشادہے فجر کی قسم اور دس راتوں کی قسم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کا پہلا عشرہ ہے اللہ تعالی کا ان ایام کی قسم کھانا ہیں ان کی عظمت اور فضیلت کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ  رب العالمین کسی عظمت والی چیز ہی کی قسم اٹھاتا ہے عشرہ ذی الحجہ میں کیا جانے والا نیک عمل اللہ تعالی کو دوسرے دنوں میں کئے ہوئے نیک اعمال سے زیادہ پیارا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کو کوئی نیک عمل کسی دن میں اس قدر پیارا نہیں جتنا ان دنوں میں پیارا ہے یعنی ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں صحابہ نے کہا اے اللہ کے رسول کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں آپ نے فرمایا نہیں جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور پھر کچھ واپس نہ لایا ہوں یعنی شہید ہوگیا( ابو داود) ایک دوسرے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کے نزدیک عشرہ ذی الحجہ میں کیے جانے والے نیک اعمال جس قدر عظیم اور محبوب ہیں کسی اور دن کے نہیں لہذا ان میں تهلیل (لااله الاالله)  اور تحمید (الحمدللہ)كثرت سے کیا کرو حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں عشرے نہیں جا کے اس امتیازی شان کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بنیادی عبادات مسئلہ نماز روزہ صدقہ اور حج اكٹھی ہو جاتی ہیں جو ان کے علاوہ کسی اور دن میں جمع نہیں ہوتی اس ماہ کے گیارہویں  بارہویں اور تیرهویں تاریخ کو ایام تشریق کہتے ہیں اسی مہینے میں قربانی  جیسا عظیم عاشقانہ والہانہ اور بے حد فضیلت والا عمل انجام دیا جاتا ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یوم النحر یعنی عید الاضحی کے دن اولاد آدم کا کوئی عمل اللہ تعالی کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور قربانی والا جانور قیامت کے لیے اپنے سینگوں بالوں اوركهروں کے ساتھ آئے گا قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالی کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے پس اے اللہ کے بندو پوری خوشدلی کے ساتھ قربانی کیا کروں (ترمزی) اسلام کے دو تہواروں میں سے ایک عیدالاضحیٰ اسی ماہ کی دس تاریخ کو منائی جاتی ہے 9 ذی الحجہ کی فجر کی نماز سے لے کر13 ذی الحجہ کے عصر کی نماز تک ہر فرض نماز کا سلام پھیرتے ہی ایک مرتبہ بلند آواز سے تکبیرات تشریق کہنا واجب ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عرفہ کے دن کا روزہ میں اللہ تعالی سے امید رکھتا ہوں کہ اس کے بعد والے سال اور پہلے والے سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا (ترمذی) عیدالاضحیٰ اور اسکے بعد تین دن ایام تشریق کے روزے رکھنا جائز نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب دل کی جگہ کا چاند نظر آجائے اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کا ہو تو اس کو چاہئے کہ قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ تراشے (مسلم)
                محرم الحرام : ماہ محرم ان چار مقدس و محترم مہینوں میں سے ہے جنہیں اللہ اور رسول نے محترم قرار دیا ہے اس کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہوئے اللہ کا مہینہ کہا گیا ہے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ماہ رمضان کے بعد سب مہینوں سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں( مسلم) اس مہینے کے نسبت اللہ تعالی کی طرف کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے حرمت اللہ تعالی کی طرف سے ہے کسی دوسرے کو اختیار نہیں کی اس کی حرمت کو تبدیل کرے جیسا کہ دور جاہلیت میں لوگوں سے لڑائی کے لیے حلال کر لیتے اور اس کی جگہ صفر کو حرام قرار دیتے تھے نئے اسلامی سال کی ابتدا اسی مہینے سے ہوتی ہے یہ منفرد فضیلت کسی دوسرے مہینے کو حاصل نہیں ہے   یہ لوگوں کے حج سے واپسی کا مہینہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان کے بعد افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نماز کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے (مسلم)  اس حدیث میں صرف محرم کے روزے کا ذکر ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فضیلت عاشورہ کے علاوہ محرم کے دوسرے دنوں کو بھی شامل ہے یعنی محرم کے پورے مہینے میں رکھے جانے والے روزے بھی بڑی فضیلت کے حامل ہیں  اس مہینے کی دسویں تاریخ کو یوم عاشورہ کہا جاتا ہے جو ایک بہترین دن ہے جس دن اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات عطا فرمائی اسی دن اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم سے نجات دی  موسی علیہ السلام اس دن شکرانے کے طور پر روزہ رکھتے تھے زمانہ جاہلیت میں قریش بھی اس دن روزہ رکھتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس دن روزہ رکھا اور رکھنے کا حکم دیا اسی دن خانہ کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا تھا۔
   رجب المرجب:  ماہ رجب اسلامی تقویم کا ساتواں مہینہ ہے یہ حرمت والے مہینوں میں سے ہونے کی وجہ سے انتہائی محترم ہے اس کے علاوہ اس مہینے سے متعلق کوئی مخصوص فضیلت مستند روایات سے ثابت نہیں ہے قاضی شوکانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں خاص طور پر جب کے متعلق کوئی صحیح ہیں یا کم ضعف والی سنت ثابت نہیں بلکہ اس سلسلے میں وارد تمام روایات منگھڑت یا شدید ضعف والی ہیں ماہ رجب کے مخصوص روزوں کی فضیلت سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ سے بھی کچھ ثابت نہیں ہے اسی طرح معاشرے میں ماہ رجب کے مخصوص روزے نماز یں من گھڑت باتیں اور فضیلتیں مشہور ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اسی مہینے میں لوگ شب معراج بھی مناتے ہیں لیکن یہ بھی ایک غیر شرعی جشن ہے لہذا ہمیں ان چیزوں سے بچنا چاہیے اور قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کرکے اپنی آخرت کو بنانا چاہیے۔
           آخری بات: حرمت و عظمت والے ان چار مقدس مہینوں میں ہمیں نفلی نماز اور روزوں کا اہتمام کرنا چاہئے لیکن اگر  نہیں کر سکتے توذکر، استغفار، توبہ اور صدقہ کرسکتے ہیں جو بالکل خاموشی سے ہو سکتی ہیں لیکن انسان کی روحانی صحت پر بہت خوش گوار اثر ڈالتی ہیں۔
صبح وشام کے فرض اذکار میں، فرض نمازوں کے بعد چپکے سے استغفار بڑھا دیں۔ اس کے لیے مصلے پر بیٹھا رہنا ضروی نہیں چلتے پھرتے ہو سکتی ہے۔
اسی طرح ذکراللہ کی عبادت عام کاموں کے دوران بھی ہو سکتی ہے۔ نئی دعائیں یاد کر لیں۔ نئی سورتیں حفظ کر لیں اس سے نماز میں تازہ لطف آئے گا۔
صدقے کے لیے بہت سے پیسے نہیں چاہئیں نہ ہی غریبوں کو ڈھونڈنے جانا ہے۔ صدقہ اپنوں پر سب سے پہلے ہوتا ہے۔وہ لقمہ جو آدمی اپنے گھروالوں کو کھلاتا ہے وہ بھی صدقہ ہے، لوگوں سے مسکرا کر ملنا بھی صدقہ ہے، اپنے بھائی کی ضرورت پوری کر کے اس کو خوش کر دینا بھی صدقہ ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا بھی صدقہ ہے، لوگوں کی نیکی کی طرف بلانا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ اپنے بچوں اور گھر والوں کو برائی سے روکنا آپ پر فرض ہے۔ ورنہ چھوٹی چھوٹی برائیاں بڑے عفریت بن کر گھروں کے سکون نگل جاتی ہیں۔ گھر میں حلال تفریح کو رواج دیں۔ ناچ گانے کی حرام تفریح کو نکال دیں۔
لوگوں کے حقوق آپ کے ذمے ہیں تو جلد دے دیں اس سے پہلے کہ موت ہم سے وہ اختیارات ہی چھین لے۔
ان مہینوں میں گناہوں سے بچنا بھی فرض ہے تو ہم ان گناہوں سے باہر نکلنے کی کوشش کر سکتے ہیں جن میں ہم برسوں سے پڑے ہیں اور وہ ہماری عادت بن چکے ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ ہماری آخرت خراب کر دیں ہمیں ان سے جان چھڑانی ہے۔ اس کابہترین طریقہ توبہ ہے۔ اس بابرکت وقت میں ہم سب کو توبہ کر کے اللہ سے دین پر ثابت قدمی مانگ لینی چاہیے۔

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔