جمہوریت آخری مرحلہ میں

???? *صدائے دل ندائے وقت*????(812) *جمہوریت آخری مرحلہ میں ___!!*

*انڈین آرمی کے آخری برٹش کمانڈر اینڈ چیف FM Sir Claude Auchinleck نے یہ لکھا تھا کہ مستقبل میں سکھ ایک الگ ملک بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں، اور شاید وہ اپنے اس کوشش میں کامیاب ہوجائیں گے، اور یہ انڈیا کے ٹوٹنے کی ایک شروعات ہوگی؛ کیونکہ ایک پنجابی مدراسی سے اتنا ہی الگ ہے جتنا ایک اسکاٹ اٹالین سے، چنانچہ مختلف ٹکڑوں continent سے ایک دیس بنانا تقریب ناممکن ہے. 1960 میں ایک امریکن اسکالر نے کتاب لکھی تھی اور اس کا ایک ذیلی عنوان تھا،?will the union survive یعنی کیا ہندوستانی اتحاد کام کارگر ہوپائے گا؟ اس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ جب نہرو چلے جائیں گے، تو انڈیا سے جمہوریت ختم ہوجائے گی، یہ سچ ہے کہ انڈیا کا ڈیموکریٹک ملک بنے رہنا کوئی عام بات نہ تھی؛ لیکن قسمت سے پچھلے ستر سالوں سے انڈیا ایک عظیم ڈیموکریٹک ملک بنا رہا، 1952 میں انڈیا کی اکثریت ان پڑھ ہونے کے باوجود الیکشن کئے گئے تھے؛ عام طور سے جن ممالک میں انتخابات ہوتے ہیں وہاں کی پارٹیاں اپنے نام سے متعارف ہوتی ہیں، مگر انڈیا میں جہالت ہی کی وجہ سے الیکشن میں پارٹی سیمبل استعمال کئے گئے تھے نہ کہ پارٹی کے نام سے__!* *اس کی اصل وجہ یہی تھی کہ بہت سارے لوگ انہیں پڑھ نہیں سکتے تھے، ساٹھ کی صدی کے علاوہ انڈیا میں الیکشن لگاتار ہوتے رہے ہیں، مگر جمہوریت کیلئے یہ صرف ایک علامت ہے، اور یہ ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ انڈیا کبھی پرفیکٹ جمہوریت نہیں رہی؛ کیونکہ کئی صوبوں کو صدر جمہوریہ کے ذریعہ ہٹا دیا گیا ہے، اور کئی صوبوں کو ظلم برداشت کرنا پڑا ہے؛ تاہم انڈیا نے ڈیموکریسی اسپرٹ جاری رکھی ہے، لیکن وہ پھر سے الٹے قدموں کی طرف جارہی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ڈکٹیٹر شپ کی طرف بڑھ رہی ہے؛ تاہم علامات کچھ اور ہی ہیں، جو اسے منفی پہلو کی طرف لے جارہے ہیں، جس کو فرید زکاریہ نے ان پڑھ جمہوریت کا نام دیا تھا، یعنی illiberal democracy __ یہ ایسے ممالک کو کہتے ہیں، جس میں اب بھی انتخابات تو ہورہے ہیں؛ لیکن حکومت عوام کو پورے حقوق نہیں دیتی، بلکہ دھیرے دھیرے وہ خود ایک طاقت بن جاتی ہے، کچھ دن پہلے EIU نے اپنی ڈیموکریٹک فہرست جاری کی تھی، اس میں انڈیا دس پائیدان نیچے اتر آیاتھا، یہی نہیں بلکہ متعدد اخبار و رسائل نے اس کی تائید کی ہے اور یہ مانا ہے؛ کہ انڈیا کی گورنمنٹ بہت زیادہ اتھارٹیکل یعنی تمام طاقت کا اپنی حد تک ارتکاز کررہی ہے، لیکن صرف یہ کہہ دینا کافی نہ ہوگا؛ بلکہ ہمیں چاہیے کہ انڈیا کی ڈیموکریسی کو ان بنیادوں پر چیک کریں جسے اپنا کر کوئی ملک پرفیکٹ ڈیموکریسی ملک بنتا ہے.* *ہارورڈ کے دو پالیٹیکل سانٹنس نے ایک کتاب لکھی تھی اس کا نام تھا ?How democracy die __ اس کتاب میں انہوں نے تین بنیادی باتیں نقل کی ہیں. پہلی بات یہ کہ اس میں اتھارٹی کنکشن کمزور کردیا جائے، جتنے بھی ثالث ہیں انہیں ختم کردیا جائے، کیونکہ یہی وہ ادارے ہوتے ہیں جو ایک ڈیموکریٹک ملک کو مضبوط کرتے ہیں، اور صرف ایک طاقت کو ابھرنے دینے سے روکتے ہیں، الیکشن کمیٹی، سی بی آئی، سپریم کورٹ وغیرہ. دوسری بات یہ کہ اپنے مدمقابل کو کمزور کردیا جائے، کیونکہ جمہوریت میں اگر اپوزیشن ختم ہوجائے تو پھر کچھ باقی نہیں رہتا، پھر تیسرا دور آتا ہے کہ قوانین تبدیل کردیئے جائیں....... اسے یوں سمجھے کہ جمہوریت ایک فٹبال کا میچ ہے، اسے ایک اتھارٹین لیڈر اپنے قبضے میں کرنے کیلئے کرتا یہ ہے؛ کہ سب سے پہلے میچ ریفری کو اپنی طرف کر لیتا ہے، اس کے بعد سامنے والی ٹیم کے کھلاڑیوں کو خرید لیتا ہے اور پھر بھی کچھ کمی رہ جائے تو کھیل کے قوانین ہی بدل دیتا ہے. اس طرح جمہوریت کی بنیادیں کھودی جاتی ہیں، اور اسے جڑ سے ختم کردیا جاتا ہے، یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صرف چناؤ کا ہوجانا جمہوریت نہیں ہے، اور ووٹ دیدینا جمہور میں ملک میں رہنے کی نشانی نہیں ہے، اگر ایسا ہے تو بہت سارے ممالک میں عوام کو ووٹ دینے کا حق ہے جیسے میانمار وغیرہ.* *اصل بات یہ ہے کہ جمہوریت یہ ایک طرز حیات ہے، کہ آپ سرکاریں بنائیں اور سرکار آپ ??ے حقوق کا تحفظ کرے؛ نیز جمہوریت ایسا بھی نہیں ہے کہ ایک دم سے ختم ہوجاتی ہے؛ بلکہ یہ دھیرے دھیرے ختم ہوتی ہے؛ چنانچہ ان قواعد کے ڈھانچہ میں اگر دیکھا جائے تو انڈیا کی ڈیموکریسی بہت ہی خطرناک موڑ پر ہے، یہاں کی تمام اتھارٹی موجودہ گورنمنٹ کے ہاتھوں میں ہے، اگر کوئی مان گیا تو ٹھیک ہے ورنہ اس کی جگہ پر اپنے لوگ بٹھائے گئے ہیں، الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ، سی بی آئی وغیرہ سب کے سب سکڑ کر رہ گئے ہیں، تو وہیں اپوزیشن اب نا کے برابر ہے، رہی بات قوانین بدلنے کی تو اب آئین کے خلاف قانون بن چکے ہیں، CAA اور NRC کے علاوہ الیکٹرانک بونڈ کے ذریعے قواعد بدل کر پوری دولت اپنے ہاتھ میں رکھنے کی سنک اور پھر آر ایس ایس کے ذریعے ہندو راشٹر کی للک موجود ہے، یہ کہنا مشکل ہے کہ کب جمہوریت کے خاتمہ کا اعلان ہوجائے، ایمرجینسی کی اطلاع دیدی جائے، اور پورا ملک فوج و پولس کے قبضے میں لیکر ایک نئے ملک کی بنیاد رکھ دی جائے، اگرچہ یہ آسان نہیں ہوگا؛ لیکن زمین تیار ہے، جن لوگوں کی سیاست پر نظر ہے وہ اس آہٹ کو سمجھ رہے ہیں، شاید اسی لئے بھری سردی میں لوگوں نے رضائیاں چھوڑ کر سڑکوں کی پناہ لی ہے، اب وقت بتائے گا کہ جمہوریت کب اپنی آخری سانس لیتی ہے؟ یا یہ کہ پھر کوئی تحریک اور انقلاب اسے سیاست کی گند سے نکال کر نئی جمہوریت عطا کرے گی.(تحقیق ماخوذ از: وکیپیڈیا. سوچ_ یوٹیوب چینل)*

✍ *محمد صابر حسین ندوی* Mshusainnadwi@gmail.com 7987972043 03/02/2020

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔