*جمہوریت میں سیاسی پرت سمجھنا مشکل ہے.* ✍ *محمد صابر حسین ندوی*
*سیاست اپنے آپ میں کوئی مشکل امر نہیں، بلکہ یہ تو حکومت سے عوام کے حقوق کی بحالی کا ایک راستہ ہے؛ لیکن جمہوریت میں سیاست کی پرت اتنی زیادہ تہ بتہ ہوتی ہے کہ اسے جتنا نکالتے جائیں گے، وہ اتنا ہی نکلتا جائے گا، پیاز کی پرت کے مانند یہ ہر سیاسی داؤ ہر ایک پرت کے ساتھ نیا پن لے آتا ہے، اس کا سب سے اوپری حصہ وہ ہے جسے ہم اور آپ سمجھتے ہیں، ایوان بالا، ایوان زیریں، مقننہ، بیوروکریسی، ماسک کمیونیکیشن وغیرہ..... یہاں کیا ہوتا ہے اور کیسے ہوتا ہے؟ ان کا سمجھنا بہت حد تک آسان ہے، دوسری گہری پرت ہوتی ہے سرحدی علاقوں کی گرمیاں، جہاں سے پورے ملک کی سیاست متاثر ہوتی ہے، بالخصوص کشمیر جیسے علاقوں کے پیچیدہ مسائل... لیکن ان کا سمجھنا آسان نہیں ہے، ایک تیسری پرت وہ ہوتی ہے جہاں خود سیاست دان بھی غچہ کھجاتے ہیں، کون کس کے ساتھ ہے؟ کس کی کیا حیثیت ہے اور کیا حقیقت ہے؟ اسے کوئی نہیں جانتا، انہیں میں وہ جاسوسی ایجنسیاں ہوتی ہیں، وہ افراد ہوتے ہیں جو سیاست کے پیادہ ہوتے ہیں، وہ ہم اور آپ کے درمیان رہتے ہیں، ان کی صبح و شام میں کوئی فرق نہیں ہوتا، لیکن کوئی انہیں سمجھ نہیں پاتا ان کی اصلیت کیا ہے_؟ پردے کے پیچھے کونسا چہرہ پوشیدہ ہے اس کا پتہ کرنا بھی محال ہے.* *کہا جاتا ہے کہ کسی بھی معاشرے کا سب سے پہلا جاسوس تو وہ ہوتا ہے، جو صبح صبح سڑکوں پر جھاڑو لگانے آئے، جہاں سے انفارمیشن نکالی جاتی ہے، ان میں وہ نائی بھی ہوتے ہیں، اور وہ سب جو عموما عوام میں خلط ملط ہوکر رہتے ہیں، جنہیں سوسائٹی بھی قابل توجہ نہیں جانتی، اور ان پر کوئی شبہ بھی نہیں کرتا، اس بیچ وہ اپنا کام بڑی ہوشیاری کے ساتھ کرجاتے ہیں. کل بتاریخ (١٣/٠١/٢٠٢٠) کو DSP دیوندر سنگھ کو جموں کشمیر سے پکڑا گیا، جو دو آتنک وادیوں کو لیکر دہلی بھیجنے کی تیاری میں تھا، اس نے فوجی اڈے کے قریب ہی میں اپنا گھر بھی بنایا ہے، جہاں حزب المجاہدین کے دو شخص بھی تھے، مانا جاتا ہے کہ انہیں دہلی کے علاوہ پنجاب بھیجنے کی کوشش تھی اور یوم. جمہوریہ کے موقع پر کسی خدشہ کو انجام دینے کی تیاری تھی، یہ خود ایک محافظ کے عہدے پر فائز ہے، کہتے ہیں کہ وہ اپنی کارکردگی میں میڈل بھی پا چکا ہے، اس کے متعلق سب سے پہلے افضل گرو نے خلاصہ کیا تھا؛ کہ اسی نے پارلیمنٹ پر ٢٠٠١ میں حملہ کرنے کیلئے کسی محمد حسین نامی شخص کو بھی کرایہ بھی لیا تھا اور اسے جموں سے دہلی بھیجا تھا، عجیب بات ہے کہ جن تین افراد کو پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کے جرم میں مشکوک مانا گیا تھا، ان میں سے ایک قلبی دورہ کی وجہ سے فوت ہوگیا؛ جبکہ افضل گرو کو پھانسی ہوگئی، اور یہ کہتے ہوئے پھانسی دی گئی کہ ثبوت تو ناکافی ہیں، لیکن عوام میں ایک سوچ بن گئی ہے کہ وہ دہشت گرد ہے، اس لئے پھانسی دی جائے گی.* *تو وہیں تیسرے فرد دیوندر سنگھ کو چھوڑ دیا گیا تھا، اب وہ خود پکڑا گیا ہے، اسے کیا سمجھا جائے___!!! آخر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کسی بھی مسلمان کو آنا فانا پھانسی دیدینے کا کونسا شوق ہوگیا ہے، اور دلیل بھی ایسی دی جاتی ہے؛ کہ قانون کا ایک معمولی طالب علم بھی ہنس پڑے، اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر سوالیہ نشان لگادے_! دیوندر سنگھ کے متعلق یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اس کے خلاف افضل گرو نے ایک حلف نامہ بھی داخل کیا تھا؛ لیکن کسی نے شنوائی نہ کی، چونکہ وہ فوج سے متعلق تھے اس لئے ان کی ہر بات پر یقین کیا گیا تھا، انہوں نے اس وقت خوب ڈرامہ رچا تھا، اور افضل گرو کے خلاف ہی بیان بازی شروع کردی تھی، انہیں بھوندو تک کہا تھا. بہر حال اب آئینہ خود بخود صاف ہوگیا ہے، کون دہشت گرد ہے اور کس نے وادی کے ساتھ ساتھ ملک میں کشیدگی پھیلا رکھی ہے اس کا بھی اندازہ ہوگیا ہے، بعضوں نے اسے پلوامہ حملے سے بھی جوڑنے کی. کوشش کی ہے، تو وہیں دہلی میں جاری احتجاج کو ناکام کرنے اور ملک میں ایک نیا شوشہ چھوڑ کر موجودہ کوفت کو دور کرنے اور اپنے مقصد کو انجام دینے کی بھی بات کہہ رہے ہیں.* *حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک بھر میں جاری CAA. NRP. NRC کے احتجاجات میں اسے دبانے کی کوشش کی جاری ہے، خاص طور پر میڈیا نے اپنی زبان کاٹ لی ہے، یاد پڑتا ہے کہ افضل گرو کو پھانسی دینے سے پہلے ہی میڈیا نے اسے پھانسی کی سزا سنا دی تھی، دہشت گردی کا تھپہ لگادیا تھا، اس کی موت پر خوب پرائم ٹائم کئے گئے تھے؛ لیکن جب سے دیوندر سنگھ پکڑا گیا ہے سبھی کے منہ پر تالے پڑ گئے ہیں، میڈیا ہاؤس میں کوئی بحث نہیں ہے، اگر شوشل میڈیا کا زمانہ نہ ہوتا تو شاید اس خبر کو اب تک دفن کردیا گیا ہوتا، دراصل یہ ہندوستان کی سیاست کا کالا سچ ہے، جسے چھپانے کی کوشش ہے، یہ کشمیر کے ساتھ سوتیلا پن کا کھلا ثبوت ہے، جسے دبانے کی سازش ہورہی ہے، پورا ملک اس گندی سیاست سے اوب چکا ہے، عوام اپنے ہی رہنماؤں سے اکتا چکی ہے، ہر ایک سڑکوں پر ہے، اور جاہلوں کے ہاتھ سے سیاست کی باگ ڈور چھین لینے اور ان کی جگہ تعلیم یافتہ افراد کو بٹھانے کی انتھک کوشش ہورہی ہے، انقلاب کی آمد ہے، ظلم کا خاتمہ ہے، دیوندر سنگھ کی گرفتاری بھی اس مہم کو آگے بڑھائے گی، سیاست اور سیاست دانوں کا مکروہ چہرہ مزید کھل کر سامنے آجائے گا، اور طوفان کی رفتار سے بڑھتا ہوا ملک گیر احتجاج مزید تقویت پاجائے گا، موجودہ حکومت کی ناکامی کھل کر سامنے آجائے گی اور متحدہ محاذ کو تازہ غذا نصیب ہوجائے گی.*
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔