جھوٹا ہونے کے لئے یہ کافی ہے

عاجز: محمد زکریّا اچلپوری الحسینی  

الحمدلله رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی آلہ و الصحابہ اجمعین 

مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے 

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَفَی بِالْمَرْئِ کَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ (صحیح مسلم، حدیث :۷ باب النھی عن الحدیث بکل ما سمع) 

ترجمہ:

عبیداللہ بن معاذ عنبری ، محمد بن مثنی ، عبدالرحمن بن مہدی ، شعبہ ، خبیب بن عبدالرحمن ، حفص بن عاصم ، حضرت ابوہریرہ ؓ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کر دے ۔

ہمارے معاشرہ میں ایک بڑی بیماری یہ ہوگئی ہے کہ بس میڈیا (فیس بک، واٹس ایپ، انسٹا گرام وغیرہ) پر دھڑال سے غلط بات سینڈ کی جارہی ہے مزید یہ کہ وہ بات رسولﷺ کی طرف منصوب بھی ہوتی ہے جب کہ وہ جھوٹی اور غلط ہوتی ہے 

دوسری بیماری ہمارے ان خطیبوں میں ہے (جو علماء کے پیچ بیان کررہے ہوتے ہیں) جو نہ عالم ہوتے ہیں نہ حافظ کرسیوں پر بیان کرنے ایسے بیٹھتے ہیں جیسے ان کی کوئی پکڑ ہی نہیں ہوگی (اور افسوس در افسوس تو اس بات کا ہے کہ ایک عامی آدمی کے بیان میں علماء بھی ہوتے ہیں لیکن کوئی پکڑ ہی نہیں کرتا ) اور اللہ تعالیٰ جانے وہ کتنی ہی ایسی بیانی کرتے ہیں جو سنی سنائی ہوتی ہیں اگر کوئی ان کی اصلاح بھی چاہے تو وہ آدمی ان کو دشمن نظر آتا ہے 

اس حدیث پاک کا منشا بھی یہی ہے کہ آدمی کو جھوٹ سے بچنے کے لئے ہر سنی ہوئی بات کو بیان کرنے سے پرہیز کرنا ضروری ہے ، اگر کوئی ہر سنی ہوئی بات کو نقل کرنا شروع کردے گا تو یقینا جھوٹ میں مبتلا ہوگا اور اس جھوٹ میں پھنسنے کا ذمہ دار وہ خود ہوگا اوروہ گنہگار ہوگا ، اس لئے ہر سنی ہوئی حدیث کو بیان کرنے سے پرہیز کرنا ضروری ہے، صرف وہی حدیث بیان کی جائے جس کا حدیث ہونا معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہو ۔

ملا علی قاری ؒ دارقطنیؒ میں تحریر فرماتے ہیں کہ : 

 توعد علیہ الصلاۃ والسلام بالنار من کذب علیہ بعد امرہ بالتبلیغ عنہ ففی ذلک دلیل علی انہ انما امر ان یبلغ عنہ الصحیح دون السقیم والحق دون الباطل لا ان یبلغ عنہ جمیع ما روی عنہ لانہ قال علیہ الصلاۃ والسلام ’’کفی بالمرء اثما ان یحدث بکل ما سمع‘‘۔

دار قطنی ؒ فرماتے ہیں کہ : آپ ﷺ نے اس شخص کو آگ کی دھمکی دی ہے جو آپ پر جھوٹ بولے جبکہ آپ ﷺ نے حدیث پہنچانے کا بھی حکم دیا ہے ، پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ کا حکم یہ ہے کہ آپ سے صحیح اور معتبر احادیث پہنچائی جائیں اور غیر صحیح اور باطل سے احتراز کیا جائے ، نہ یہ کہ جو کچھ سنا ان سب کو نقل کردیا جائے اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’کفی بالمرء اثما ان یحدث بکل ما سمع‘‘ آدمی کے گنہگارہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ ہر سنی ہوئی بات کو نقل کردے۔

(الاسرارالمرفوعۃ ۷۲)

پھر اس کے بعد لکھتے ہیں :

ثم من روی عن النبی ﷺ حدیثا وھو شاک فیہ : أصحیح ام غیر صحیح؟ یکون کاحد الکذابین لقولہ ﷺ’’ من حدث عنی حدیثا وھو یری انہ کذب… ‘‘حیث لم یقل وھو یستیقن انہ کذب۔ (الاسرار۷۳)

’’پھر جوشخص اللہ کے نبی ﷺ سے کوئی حدیث روایت کرتا ہے اور اس کو اس کے متعلق شک ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے یا نہیں وہ بھی جھوٹوں میں شامل ہوگا آپ ﷺ کے اس ارشاد کی وجہ سے ’’ من حدث عنی حدیثا وھو یری انہ کذب… ‘‘ بایں طور کہ آپ ﷺ نے یہ نہیں کہا کہ ’’جھوٹ کا یقین ہوتے ہوئے ’’بلکہ یہ کہا ہے کہ‘‘ جھوٹ کا گمان ہوتے ہوئے ‘‘نقل کرنیوالا بھی جھوٹوں میں شامل ہوگا ‘‘۔ 

شاہ صاحب ؒ حجۃ اللہ البالغہ میں تحریر فرماتے ہیں :

وجب الاحتیاط فی الروایۃ لئلا یروی کذبا۔

’’حدیث بیان کرنے میں احتیاط ضروری ہے تاکہ جھوٹ کے طور پر حدیث بیان نہ ہوجائے‘‘ ۔

حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ رقمطراز ہیں:

فمن خشی من الاکثار الوقوع فی الخطأ لا یُؤمَن علیہ الاثم اذا تعمد الاکثار۔ (فتح الملھم ۳۳۱)

’’جس شخص کو کثرت روایت سے اس بات کا اندیشہ ہو کہ اس سے غلطی ہوجائے گی اگر ایسا شخص روایتیں زیادہ بیان کرنے کا ارادہ کرے گا تو وہ گناہ سے بے خوف نہیں ہوسکتا یعنی وہ گنہگارہو سکتا ہے‘‘۔

حاصل یہ کہ حدیث بیان کرنے میں تحقیق ضروری ہے ، شریعت کے کسی حکم کا بیان کرنا یا کسی عمل پر فضائل یا وعیدیں بتانا بہت بڑی ذمہ داری کی بات ہے ، بغیر تحقیق کے بیان کرنا شریعت کے سامنے جرأت کرنا ہے ، ایسی جرأت کو کون ذی فہم اچھا سمجھ سکتا ہے ؟

ملا علی قاری ؒ حافظ عراقی ؒ سے نقل کرکے فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے صحیح اور موضوع کی پہچان کے بغیر کوئی حدیث بیان کی تو وہ گنہگار ہوگا اگر چہ اتفاق سے اس کی بیان کردہ حدیث صحیح بھی ہو ، ان کے الفاظ یہ ہیں:

ثم انھم (یعنی القصاص) ینقلون حدیث رسول اللہ ﷺ من غیر معرفۃ بالصحیح و السقیم قال:

وان اتفق انہ نقل حدیثا صحیحا کان آثما فی ذلک لانہ ینقل ما لاعلم لہ بہ۔( الاسرارالمرفوعۃ ۷۴)

’’پھر یہ قصہ گو مقررین احادیث کو صحیح اور غیر صحیح کی معرفت کے بغیر نقل کر دیتے ہیں ، آگے فرمایا کہ اگر ان میں سے کسی نے کوئی صحیح حدیث نقل کی تب بھی وہ اس میں گنہگار ہوگا کیوں کہ وہ اس حدیث کو نقل کرتا ہے جس کے متعلق اس کو علم نہیں ہے ‘‘۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر تحقیق کے ہر سنی ہوئی بات کو نقل کرنا باعث گناہ ہے۔

احتیاط کا طریقہ

احتیاط کا طریقہ یہ ہے کہ معتبر کتابوں سے احادیث بیان کرنے کی عادت ڈالی جائے، غیر معروف کتابوں سے حدیث نقل نہ کی جائے جب تک کہ اس کی تحقیق نہ کرلی جائے،ہر ایک کتاب سے نقل کرلینا اور کسی بھی کاغذ، فیس بک،واٹس ایپ، میں لکھی ہوئی حدیث کو روایت کرلینا اچھا نہیں ہے، اگر کتابوں کی حالت سے واقفیت نہیں ہے تو جاننے والے علماء سے پوچھ کر کتابوں کا انتخاب کرنا چاہئے۔

اسی طرح باصلاحیت اور محتاط علماء کی بیان کردہ روایات پر اعتماد کرے ، اور انہیں سے سنی ہوئی روایات کو بیان کرے، باقی غیر محتاط اور غیر معروف واعظوں سے سن کر اسے روایت کرنے سے پر ہیز کیا جائے جب تک کہ اس کی تحقیق نہ ہوجائے، پہلے تحقیق کی جائے پھر اسے بیان کیا جائے، تحقیق سے پہلے ایسا خیال کیا جائے کہ اس مضمون کی کوئی حدیث میرے پاس نہیں ہے، وعظ کی کرسیوں پر اس کے برعکس معاملہ نظر آتا ہے، کہیں چلتے چلتے کوئی حدیث کانوں میں پڑ گئی، کچھ بوسیدہ کاغذوں میں کوئی روایت نظروں سے گزر گئی معلوم نہیں کونسی کتاب ہے کون مصنف ہے، کسی محفل میں تھے کہ کسی نامعلوم مقرر کی کوئی روایت دوست کے موبائیل میں سن لی اب یہ ساری روایات کرسی پر بیٹھتے ہی یاد آجائیں گی، اور روایات کا سلسلہ جاری ہوجائے گا، یہ طرز ہرگز پسندیدہ نہیں ہے اور نہ اس میں تساہل کی گنجائش ہے۔

نیز جو روایت پختہ یاد ہو اسے ہی بیان کیا جائے، بہت پہلی کی پڑھی ہوئی روایت جو کچھ یاد ہے کچھ حصہ ذہن سے نکل گیا، یا کوئی روایت اچھی طرح یاد نہیں ہے، ان کو بیان کرنے سے پرہیز کیا جائے۔

محدث کبیر حضرت مفتی سعید احمد صاحب دامت برکاتہم ’’رحمۃ اللہ الواسعہ‘‘ میں شاہ صاحب کی عبارت کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :

حدیث میں کذب بیانی کبیرہ گناہ ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ بعد کی صدیوں تک دین کے پہنچنے کی راہ بس روایت ہی ہے پس اگر روایات میں فساد در آئے گا تو دین کیسے محفوظ رہے گا ؟ اس لئے روایت حدیث میں غایت درجہ احتیاط ضروری ہے ، اور احتیاط کی دو صورتیں ہیں (۱)راوی خود روایت حدیث میں بے احتیاطی نہ برتے ، پورے تیقظ کے ساتھ روایت بیان کرے (۲) برخود غلط قسم کے لوگوں کی حوصلہ افزائی نہ کرے ، بلکہ ان کی حوصلہ شکنی کی جائے ۔ 

(رحمۃ اللہ الواسعہ ۳؍۱۳۰) 

اللہ کے نبی ﷺ کی طرف ایسی بات منسوب کرنا جو آپ ﷺ نے ارشاد نہ فرمائی ہو نہ صرف گناہ بلکہ بڑے وبال و عذاب کا سبب ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

 مجھ پر جھوٹ مت بولو کیونکہ جو مجھ پر جھوٹ باندھے وہ دوزخ میں داخل ہو گا۔

(صحیح البخاری ۱۰۶ باب اثم من کذب علی النبی ﷺ )

اللہ تعالیٰ ہم تمام کی حفاظت فرمائے 

آمین یارب العالمین

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔