کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

   *کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ___!!!* ✍ *محمد صابر حسین ندوی*

       *عالمی رپورٹس کی مانیں تو ہندوستان ہر محاذ پر سطحیت کا شکار ہوتا جارہا ہے، حالیہ بھوک مری کے عالمی انڈکس میں ملک عزیز پاکستان اور تمام قرب وجوار کے ممالک سے پیچھے ہے، یہاں ہر روز بیس کڑور کی آبادی بھوکے پیٹ سوتی ہے، مہنگائی کی حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، اکثر شہروں کی اکانامی منی آرڈر اکانامی پر منحصر ہے، بہت سے مقامات پر پیاز کی قیمت دو سو روپئے تک پہونچ گئی ہے، اس کے علاوہ تمام سیکٹر میں گراوٹ ہے، آٹو موبائل سیکٹر سب سے زیادہ متاثر ہے، سرکاری محکموں میں سخت تنگی ہے، متعدد کمپنیاں بکنے کو تیار ہیں، بلکہ نقصان برداشت کرتے ہوئے فروخت کرنے کی نوبت ہے، غریب اور غریب ہوتا جارہا ہے، اور مالدار آسمان چھوتے جارہے ہیں، چنانچہ ملک کے تمام کاروبار تھپ ہوگئے لیکن شیر مارکیٹ پر کوئی اثر نہیں پڑتا_ کیونکہ پورے ملک کی پچاس فیصد ذرائع و وسائل پر صرف ایک فیصد مالدار قابض ہوگئے ہیں.*       *بہت سے ممتاز کڑورپتی جیسے امبانی اور اڈانی دیس سے بڑے ہوتے جارہے ہیں، اور عوام دانے دانے کو ترس رہی ہے، یوپی کے بعض گاوں میں سرکاری اسکول میں نمک روٹی اور پیاز کھانے کو دیا گیا تھا اور ایک مرتبہ مرے ہوئے چوہے بھی کھانے میں دیدئے گئے تھے_ اسی طرح لوگ اپنے آپ کو محفوظ محسوس نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ ملک کے کڑورپتی بیرون ممالک کی راہ لے رہے ہیں_ اگر پڑھنے جاتے ہیں تو دوبارہ واپس ہی نہیں آتے_ دراصل یہاں کا نظام ایسا ہوچکا ہے کہ پولس سے لیکر فوج تک غیر معتبر قرار پاگئے ہیں، یہ عوام کو ہی نشانہ بناتے ہیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک بھر میں نوجوانوں کے اندر بے کاری حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے، دو کڑور نوکریاں سرکار نے چھین لی ہیں، MTNL اور BSNL نقصان میں ہیں، ان کے کارندے بغیر تنخواہ کے کام کر رہے ہیں، اور مجموعی اعتبار سے بھی دیکھا جائے، تو ملک کی ترقی اور خوشحالی پر گہرا اثر پڑا ہے، GDP گر کر سبرامنیم کے مطابق صرف دو فیصد پر آگئی ہے، ایک SLOW DOWN کا خطرہ ہے، ماہرین خوف میں ہیں، اور یہ پیشن گوئی کر رہے ہیں کہ ہندوستان معاشی بحران سے گزر سکتا ہے، یہاں پر صدی کی سب سے بڑی معاشی SHUTDOWN ہو سکتا ہے۔*          *یہ بھی جگ ظاہر ہے کہ عورتوں کیلئے ہندوستان سب سے زیادہ خطرناک ملک بن گیا ہے، جبری ہتک ریزی کی شرح میں سب سے آگے ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے اور بنیادی سہولتوں سے بھی عاری کردینے میں اسے اولیت حاصل ہوگئی ہے، مگر ان تمام مسائل سے یہاں کی سیاست غفلت برت رہی ہے؛ بلکہ محض اپنا اقتدار جمائے رکھنے کیلئے معصوم عوام کو قربان کرنے پر آمادہ ہے، سٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ ہو یا نیشنل رجسٹریشن آف سیٹیزن ان کاقصد یہی ہے کہ لوگوں میں ہیجان پیدا ہوجائے، خود کو ہی ہر چیز کا قصور وار مان کر ملک کے اصل مسائل سے منہ پھیر لیں_ وہ صحیح اور غلط کی تمیز بھول جائیں.*        *بس ہر پل یہی کوشش ہے کہ باشندگان ہند کے اندر سوچنے اور سمجھنے کی قوت مضمحل ہوجائے اور وہ سوالات سے خالی ہو کر صرف اپنے دستاویزات اور خود کو ملک کا باشندہ ثابت کر نے میں مصروف ہوجائیں، ذرا سوچئے_! کیا زمانے میں کرنے کو یہی باتیں ہیں____؟ پورا ملک جھلس رہا ہے، یہاں کی املاک ضائع ہورہی ہیں، دنیا بھر میں رسوائی ہورہی ہے، گاندھی اور کلام کا ہندوستان اب صرف ساوارکر کا ہندوستان بن کر رہ جانے کو ہے، اب خود کو ہندوستانی کہنا کافی نہ ہوگا؛ بلکہ ہندوستانی مسلمان کہنا ضروری قرار پائے گا، ملک کا پیسہ بلکہ عوام کا ہی وہ پیسہ جو ٹیکس کے ذریعے ملکی اور انسانی رفاہ عام کیلئے استعمال ہونا تھا، ترقی اور تعمیر کیلئے لگایا جانا تھا، اسے ڈیٹینشن کیمپوں کیلئے استعمال کیا جائے گا، اپنے نوجوانوں کو نوکریاں نہ دے سکے اور پڑوس ممالک کے لوگوں کو بسا کر ان کا خرچ ڈھویا جائے گا، اب یہاں تعلیم سے زیادہ اور انسانیت سے زیادہ یہ اہم ٹھہرا ہے کہ تمہاری پہچان ہندو ہے یا مسلمان_!!! سچ تو یہ ہے کہ اب ہر ایک ہندوستانی کو سوچنا چاہئے کیا زمانے میں کرنے کو یہی باتیں ہیں___!!!*

Mshusainnadwi@gmail.com 7987972043 22/12/2019

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔