
قرآن ایک معجزہ ہے
عائش بنت محمد
قرآن ایک معجزہ ہے، جو خدا کے منکرین اور کفار کو بھی ایک سحر میں مبتلا کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے مکہ کے سرکش سردار بھی چھپ چھپ کر قرآن سننے پر مجبور تھے، قرآن ایسے ان کے دلوں پر اثر کرتا کہ بے اختیار کبھی انگلیاں اپنے کانوں میں دیتے کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک پر ہاتھ رکھتے کہ مزید تلاوت نہ کریں تو کبھی بے اختیار سجدہ ریز ہوجاتے۔ قرآن اللہ کے وجود پر عقلی دلائل کے ساتھ یقین پختہ کرتا ہے، اور شیطان کے واروں کے راستے بند کرتا ہے۔ کبھی کہتا ہے آسمان کی طرف دیکھو، بغیر ستونوں کے اسے کون سنبھالے ہوئے ہے؟ کبھی کہتا ہے ہوا میں اڑنے والے پرندوں کو دیکھو، فضا میں انکو کون تھامے ہوئے ہے؟ کبھی کہتا ہے اپنے پینے والے پانی کو دیکھو، اسے تم اتارتے ہو یا ہم اتارنے والے ہیں؟ کبھی کہتا ہے زمین میں اگنے والے بیج کو دیکھو، اس سے کھیتیاں تم اگاتے ہو، یا ہم اگانے والے ہیں؟ کبھی کہتا ہے نطفہ کو دیکھو جو تم ڈالتے ہو، اس سے بچہ تم بناتے ہو، یا ہم بنانے والے ہیں؟کبھی کہتا ہے جو آگ تم سلگھاتے ہو، اسکے درخت کو تم نے پیدا کیا، یا ہم پیدا کرنے والے ہیں؟ کفار اعتراض کرتے کہ یہ کسی جادوگر کا کلام ہے، بڑے بڑے جادوگر آتے اور قرآن سن کر اسلام قبول کرلیتے، کفار کے دل میں آتا یہ کسی کاہن کا کلام ہے، قرآن جواب دیتا یہ کسی کاہن کی مخرفات نہیں کہ مگر تم بہت ہی کم غورو فکر کرتے ہو، کفار کبھی کہتے کہ یہ کسی شاعر کا کلام ہے محمد نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو قرآن کہتا، اچھا تو ایسی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ، اور اپنے مددگار جنوں انسانوں جس کو چاہے بلا لو، کفار سرتوڑ کوشش کے باوجود ایک سورت تو دور کی بات ایک آیت بھی نہ بنا سکے۔ قرآن کا یہ چیلنج آج بھی قائم ہے، اتنی صدیاں گزرنے کے باجود بھی کوئی اس چیلنج کو پورا نہ کرسکا۔ جو شخص بھی تعصب سے بالاتر ہو کر قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، راہ ہدایت ضرور پالیتا ہے، چاہے ملحد ہو یا یہودی، نصرانی۔ حدیث میں ہے "قرآن اللہ کی رسی ہے، جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے تو دوسرا بندے کے ہاتھ میں" جب اللہ کی رسی پر گرفت مضبوط ہوگی تبھی صراط مستقیم پر استقامت مقدر بنے گی۔ اللہ تعالی ہمیں قرآن سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دیں، آمیین
Mislami.com
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔