*⚖سوال و جواب⚖*
*????مسئلہ نمبر 924????*
(کتاب العقائد، باب مشاجرۃ الصحابہ)
*صحابہ نے غلطی کی تو اسے کیوں نہ بیان کیا جائے*
*سوال:* صحابہ کرام سے غلطی ہوئی ہے تو انہیں کیوں نہ بیان کیا جائے؟ لوگ کیوں منع کرتے ہیں اس سے؟ (عامر جاوید اصلاحی، کلکتہ)
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*الجواب وباللہ التوفیق*
صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جمیع امت کے درمیان ایسا واسطہ ہیں کہ اگر انہیں نکال دیا جائے یا ان کی ذات کو مشکوک کردیا جائے تو اسلام کی عمارت ڈھیر ہوجائے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت پر اگر کسی کا سب سے زیادہ احسان ہوسکتا ہے تو وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں، انہوں نے جانی مالی اور ہر طرح کی قربانی میں ذرہ برابر دریغ نہیں کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک دین اسلام کی شعاعیں عرب کے مخصوص خطوں تک محدود رہیں؛ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد "بلغوا عنی ولو آیۃ" پر عمل کرتے ہوئے صحابہ کرام نے پورے عالم میں دین پہنچانے کا بیڑا اٹھایا، اور انہیں کی سعی مسعود کی برکت ہے کہ دنیا کا کوئی خطہ اسلام اور مسلمانوں سے خالی نہیں، اس لئے اولا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ ہر صحابی کو خواہ کسی بھی درجے کا ہو اپنا محسن سمجھے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے یقیناً خطائیں ہوئیں؛ کیونکہ وہ معصوم عن الخطاء نہیں تھے، لیکن انکی خطائیں اجتہادی تھیں، ان میں سے ہر ایک اپنے جذبے کے اعتبار سے مخلص اور دین کی خدمت کے تئیں اپنے کو برحق سمجھتا تھا، جیساکہ اکابر محدثین و فقہاء نے اپنی کتب میں صراحتاً لکھا ہے، اور ظاہر ہے کہ جب اجتہادی خطاؤں پر عند اللہ مواخذہ نہیں ہے تو بندوں کو مواخذے کا کیا حق ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اہل سنت والجماعت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مشاجرات صحابہ اور اور خطاء صحابہ پر کف لسان واجب ہے۔
دوسری بات یہ مد نظر رہے کہ متعدد احادیث میں دوسروں کے عیوب اور خطاؤں کو چھپانے کی فضیلت وارد ہوئی ہے اور اجر عظیم کا وعدہ کیا گیا ہے، جب عام مسلمانوں کے بارے میں یہ اجر ہے تو صحابہ کرام کی اجتہادی خطاؤں کو ظاہر نہ کرنا یقینا بڑے اجر کا باعث ہوگا۔
تیسری بات یہ کہ اگر تاریخی حیثیت سے ان چیزوں کو بیان کرنے کی ضرورت بھی ہو تو اس کے لیے درجے ہیں، دینی ادارے ہیں، تحقیقی شعبے ہیں، وہاں ان پر تاریخی اعتبار سے بات کی جائے، عوام میں ان مسائل کو اٹھانا عوام کو صحابہ سے بدظن کرنے کے مترادف ہے، اور جس کے نہایت خطرناک اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
چوتھی بات جو سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ صحابہ ہمارے ہیں اور ہم صحابہ کے ہیں، اگر ہمارے گھر میں کسی سے کوئی غلطی ہوجائے تو بیچ چوراہے پر لا کر اسے ظاہر کرنا دانشمندی ہے یا حتی الامکان اسے چھپانا اور اس کے بارے میں خاموش رہنا؟؟ ظاہر ہے کہ دانشمندی یہی ہے کہ اسے چھپایا جائے اور اپنی عزت کو اپنی حد تک محدود رکھا جائے، بیچ چوراہے پر بیان کرکے کچھ حاصل ہونے کا نہیں؛ اس لئے صحابہ کرام کو اپنا جانتے ہوئے ان کے بارے میں بالکل خاموش رہنا چاہیے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
*????والدليل على ما قلنا????*
(١) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا، إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". (صحيح مسلم رقم الحديث ٢٥٩٠ كِتَابٌ : الْبِرُّ وَالصِّلَةُ وَالْآدَابُ | بَابٌ : بِشَارَةُ مَنْ سَتَرَ اللَّهُ تَعَالَى عَيْبَهُ فِي الدُّنْيَا)
عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً ". (سنن أبي داود رقم الحديث ٤٨٩١ أَوْلُ كِتَابِ الْأَدَبِ | بَابٌ : فِي السَّتْرِ عَلَى الْمُسْلِمِ)
واعتقاد اہل السنۃ تزکیۃ جمیع الصحابۃ رضی اللہ عنہم وجوبا باثبات اللہ انہ لکل منہم والکف عن الطعن فیہم والثناء علیہم کما اثنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ واثنی علیہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وما جری بین معاویۃ وعلی من الحروب کان مبنیا علی الاجتہاد لا منازعۃ فی الامامۃ . (المسامرہ بشرح المسایرہ ص259 باب الرکن الرابع الاصل الثامن )
والظن بالصحابۃ فی تلک الحروب انہم کانوا فیہا متاولین وللمجتہد المخطی اجر واذا ثبت ھذا فی حق احادی الناس فثبوتہ للصحابۃ بالطریق الاولیٰ . (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ :ج7ص312الشاملہ )
نحب اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولا نفرط فی حب احد منہم ولا نتبرا من احد منہم و نبغض من یبغضہم وبغیر الخیر یذکرہم ولا نذکر ہم الا بخیر وحبہم دین وایمان و احسان وبغضہم کفر و نفاق وطغیان . (شرح العقیدہ الطحاویہ ص704 ج2 بیروت )
اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ تزکیۃ جمیع الصحابۃ والثناء علیہم کما اثنی اللہ ورسولہ علیہم وما جری بین علی و معاویۃ کان مبنیا علی الاجتہاد . (شرح الفقہ الاکبر مطبوعہ مجموعۃ الرسائل السبعہ حیدر آباد دکن 1948)
یعنی وان صدر علی بعضہم بعض ماہو فی الصورۃ شر فانہ اما کان عن اجتہاد ولم یکن علی وجہ فساد من احرار و عناد بل کان رجوعہم عنہ الی خیر میعاد بناء علی حسن ظن بہم. (شرح الفقہ الاکبر ص153 اردو مکتبہ رحمانیہ لاہور)
*كتبه العبد محمد زبير الندوي* دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا مورخہ 19/1/1441 رابطہ 9029189288
*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔