آو مل کر سامان سفر تازہ کریں

*آو مل کر سامان سفر تازہ کریں*

*محمد قمرالزماں ندوی* *مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*نہ سمجھو گے تو مٹ جاو گے اے ہندی مسلمانو* *تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں*

*بڑے* اور وی آئی پی طبقہ کا نفسانی تعیش ،عیش پرستی ،موج و مستی اور طاؤس و رباب میں انہماک اور مذھبی قیادت کا باہمی اختلاف و انتشار ،بحث و مباحثہ اور مذھبی جھگڑوں میں الجھنا کسی قوم کی بربادی اور زوال و پستی کی علامت ہے ۔ تاریخ شاہد ہے اس کے صفحات بتاتے ہیں کہ ہر دور میں ہر دانشور گروہ اپنے مد مقابل کی اس کمزوری سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے بلکہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے فریق اور مد مقابل کو ان دو کمزوریوں میں مبتلا کر دے ،اس کام کے لئے حکومتیں اور ذہین قومیں بڑی بڑی رقمیں صرف کرتی ہیں اور اس کے لئے باقاعدہ پلانگ اور منصوبے بناتی ہیں، ادارے اور شعبے قائم کئے جاتے ہیں ،فریق مخالف کے درمیان اپنے آدمی اور جاسوس چھوڑے جاتے ہیں،اور ان کے ذریعہ اپنی من کی بات لوگوں تک پہنچواتے ہیں اور اپنے لئے راہ ہموار کراتے ہیں اور غلط پالیسیوں کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔(افسوس کہ آج بہت سے نام نہاد مسلمان میر جعفر اور میر صادق کا رول چند دنیاوی مفاد اور عہدے کے لیے ادا کر رہے ہیں اور ظالم کے ظلم میں معاونت کر رہے ہیں)۔اس ادارے اور محکمے میں اعلی صلاحیت کے افراد متعین کئے جاتے ہیں اور ان کو تمام سہولیات کے ساتھ خطیر تنخواہیں دی جاتی ہیں اس شعبے میں کام کرنے والے اعلی وفاداری کا ثبوت دیتے ہیں بظاہر ان کے اخلاق و کردار اور گفتار و انداز ایسے نہیں ہوتے کہ کوئی ان پر شبہ کرے کہ یہ کسی خاص مذہب اور طبقہ کے لئے پری پلانگ کر رہے ہیں ۔ قومیں اگر ان کمزوریوں سے اپنے کو محفوظ نہیں رکھ سکتیں تو فریق مقابل ان کو آسانی سے برباد کر دیتا ہے اور لقمئہ تر بنا لیتا ہے ، اس کو اپنا محکوم اور غلام بنا لیتا ہے اور اس کی حیثیت اور شناخت کو ختم کر دیتا ہے ۔ *سلطان صلاح الدین ایوبی رح* نے بھی اپنے زمانے میں *عیسائی* قوم کی ان دو کمزوریوں کو پکڑ لیا تھا اور اس سے فائدہ اٹھا کر ایک ہی حملہ میں *صلیبی* فوجوں کے قدم اکھاڑ دئیے تھے اور ان کی انیٹ سے اینٹ بجا دی تھی ۔ *آئیے* اس کی تفصیل اور صلاح الدین ایوبی کی اس حکمت عملی کو تاریخ کے روشن اور زریں صفحات میں تلاش کرتے ہیں ۔ *عیسائیوں* کا مشہور جنگ باز *جرنیل رچرڈ* فوج کا ایک ٹڈی دل کے ساتھ *صلاح الدین ایوبی* کے مقابلہ کے لئے نکلا، *صلاح الدین ایوبی* ان دنوں بیمار تھا اور اس کی ٹانگ میں بال توڑ پھوڑا ہوگیا تھا،جس کی وجہ سے یہ مجاہد بہادر ایک کروٹ پلنگ پر پڑا رہتا تھا ۔ معالج نے مکمل آرام کا مشورہ دے رکھا تھا ۔ صلاح الدین نے اپنے کمانڈروں کو بلایا اور انہیں رچرڈ کے مقابلہ پر جانے کی ترغیب دی ۔ صلاح الدین نے ان سے بات چیت کے بعد جب یہ محسوس کیا کہ میرے بیمار پڑ جانے کی وجہ سے میری فوج کے حوصلے پست ہوگئے ہیں تو اس نے دو جاسوسوں کو طلب کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ رچرڈ کے لشکر کے حالات سے آگاہ کریں ،جاسوس حالات کا تفصیلی جائزہ لے کر جب واپس آئے تو انہوں نے خبر دی کہ ہم نے عیسائی لشکر کے خیموں میں دو باتیں خاص طور پر دیکھی ہیں ۔ ایک یہ دیکھی کہ فوجی شراب و کباب میں مست ہیں اور رنگ ریلیاں منا رہے ہیں ۔ دوسری بات یہ دیکھی کہ پادری مباحثے اور مناظرے میں مصروف ہیں اور آپس میں اس مسئلہ پر بحث کر رہے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا پیشاب پاخانہ پاک تھا یا ناپاک ؟ صلاح الدین ان جاسوسوں کی بات غور سے سنتا رہا اور ایکدم جوش میں آکر کھڑا ہوگیا اور اپنے فوجی جرنیلوں سے مخاطب ہوا ۔ *قسم ہے خدا کی ! جو قوم اپنے مذھبی پیشوا کے بارے میں بحث و مباحثہ کرتی ہے، خدا تعالی اسے رسوا کردیتا ہے عیش پرستی اور ہوس رانی بھی کسی قوم کی ہلاکت کے لئے کافی ہے* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہہ کر اسی تکلیف کی حالت میں اپنی فوج کو لے کر رچرڈ کے مقابلہ میں آگیا اور ایک ہی حملہ میں صلیبی فوج کے قدم اکھڑ گئے ۔ ( مستفاد چراغ راہ صفحہ ۲۷۳) ہم مسلمان اس وقت جن حالات و مشکلات سے گزر رہے ہیں اور مخالف ٹولی اور موجودہ حکومت وقت اور اس کے کارندے جس طرح ہمیں مٹانے اور ہمیں ملک سے بے دخل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ ان حالات میں ہم تازہ دم، اور ہوکر متحد ہوکر سامان سفر تازہ کریں اور اپنی تہذیبی شناخت کی بقا اور اپنی حیثیت عرفی کو قائم رکھنے کے لئے نئے عزم اور جذبہ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں اور ان کمزوریوں سے اپنے آپ کو بچائیں جن سے زوال جھانکتا ہے اور اپنی شناخت کے مٹنے کا خطرہ ہوتا ہے ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے اس واقعہ سے یہ پیغام ملتا ہے ،اور یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر قیادت مضبوط ہو اور قائدین مخلص ہوں باہم متحد ہوں، اور ان کے عزائم بیدار ہوں ، تو محاذ کا جیتنا اور میدان کو فتح کرنا اور مقصد میں کامیابی حاصل کرنا کوئ مشکل کام نہیں ہوتا ،آسانی سے کامیابی مل جاتی ہے اور قافلہ منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت ہمیں شکوہ ہے بعض ان قائدین ملت سے جو شہریت ترمیمی بل کو ایک عام اور معمولی سا واقعہ سمجھ رہے ہیں اور اس کی خطرناکی سے معلوم نہیں کیوں غافل ہیں کن سے ڈر رہے ہیں یا کیوں وہ اس کی کھل کر مخالفت کرنے سے کترا رہے ہیں ۔ میں انہیں گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ شہریت سے محروم کر دیا جانا یہ دنیا کا سب سے بڑا انسانی المیہ اور ٹریجڈی ہے ،کیونکہ شہریت ( فرد کا کسی ملک یا ریاست سے سیاسی رشتہ ) ہی ہے جو فرد کو بین الاقوامی سطح پر نسلی ثقافتی اور قومی شناخت عطا کرتی ہے ۔ شہریت کا چھن جانا بہت ہی سنگین معاملہ ہے اور اس کے جو دور رس اور بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں اور آئیں گے اس سے کلیجہ کانپ جائے گا اور زندگی جہنم بن جائے گی ۔ اس لئے اس کو معمولی سمجھنا اور حکومت کے غلط بہکاوے میں آکر اس کے خلاف احتجاج اور پروٹسٹ سے مسلمانوں اور اقلیتوں کو روکنا اور حکومت کے غلط عزائم اور منصوبوں کی تاویل کرنا یہ منافقت ہے یہ بزدلی ہے یہ عیش پسندی اور بے جا مصلحت پسندی ہے ۔ اس لئے خواب خرگوش سے بیدار ہوجائیے بلبل و طاؤس کی تقلید سے توبہ کیجئے اور یاد رکھئیے کہ یہ جنگ ہمارے وجود و بقا کی جنگ ہے اگر ہم اس کے لئے طبیعت کو خطر پسند نہیں بنائیں آرام طلبی کو نہیں چھوڑیں گے تو مٹا دیئے جائیں گے ۔ *خطر پسند طبیعت کو ساز گار نہیں* *وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد* جب حالات اس قدر سنگین ہیں کہ مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھائے جارہے ہیں ان کے مکانات کی خانہ تلاشی ہورہی ہے جائدادیں قرق کی جارہی ہیں درون خانہ پردہ نشینوں کی عزتوں سے کھلواڑ کیا جارہا اور مسلمانوں کو کھلے عام ملک سے نکل جانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ان کی دکانوں کو لوٹا جارہا ہے اور وہ سب کچھ کیا جا رہا جو اس کے نئے اسرائیلی آقا چاہ رہے ہیں ۔مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے شکتی پردرشن کیا جارہا ہے ایسے نازک وقت میں مزاحمت اور احتجاج کے سوا کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آرہا ہے ان حالات میں بند کمرے اور آرام دہ گدے پر بیٹھ کر صرف کاغذات کی درستگی کا مشورہ دینا سادہ لوحی کے سوا کچھ نہیں ۔ اس لئے ان قائدین سے درخواست ہے کہ اب بھی میدان عمل میں آجائیں اور قوم و ملت کی رہنمائی کریں آپ کے اندر قائدانہ صلاحیت ہے لوگوں کی نطر میں اب بھی اس کے اہل ہیں اس لئے خدا را قوم کی آواز پر لبیک کہئیے اور ان کی ڈوبتی کشتی کو ساحل تک پہنچائیے ہم آپ کو پھر آواز دیتے ہیں اور شاعر کے اس شعر کے ذریعے سے پکارتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ *ہزار کام ہیں مردان حر کو دنیا میں* *انہیں کے ذوق عمل سے ہیں امتوں کے نظام* اور عوام الناس سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ حالات کے مقابلے کہ لئے اٹھ کھڑے ہوئیے اپنے قائدین پر بھروسہ کیجئے آپسی اختلاف کو ختم کیجئیے سیسہ پلائی دیوار بن جائیے ۔ اگر آپ متحد نہیں ہوئے ایک نہیں ہوئے اور اختلاف ختم کرکے باہم شیروشکر نہیں ہوئے، مستقبل کے بارے میں فکر مند نہیں ہوئے تو یاد رکھیئے کہ ۔۔۔۔۔ *نہ سمجھو گے تو مٹ جاو گے اے ہندی مسلمانو!* *تمہاری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں*

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔