*مختصر و جامع سوانح حیات* *مفتئ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی مُحمّد شفیع صاحب نوّر اللہ مرقدہ* *تاریخِ وفات ۔۔۔۔۔۔ 6 اکتوبر ۔۔۔۔۔۔ 1976ء*
آپ اپنے دور کے عظیم مفسّر و مُحدّث ، عالم بے بدل ، مدبر عصر ، فاضل اجل ، فقیہ الامت ، سلوک و تصوف کے امام ، عارف بِاللہ ، شیخِ کامل ، بلند پایہ علمی خاندان کے چشم و چراغ اور دارالعلوم دیوبند کے ممتاز عالم و مفتی تھے ۔ سلسلۂ نسب سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔ آپ قوی الاستعداد اور استحضار علم کے ساتھ فقہ و ادب میں خاص امتیاز رکھتے تھے ۔ آپ دیوبند کے زمانۂ قیام میں دارالافتاء کی مسند افتاء پر کئی سال فائز رہے ۔ قیامِ پاکستان کے قیام کے بعد دستور ساز اسمبلی کے بورڈ آف تعلیمات اسلام کے رکن کی حیثیت سے اسلامی دستور کی ترتیب میں بھی حصہ لیا اور بعد میں مفتئ اعظم پاکستان کے لقب سے مشہور ہوئے ۔ پاکستان کی سب سے بڑی اسلامی درسگاہ دارالعلوم کراچی کا قیام آپ ہی کی کوششوں کا مرہونِ منت ہے ۔
*ولادت : آپ کی ولادت شعبان 1314ھ مطابق 1896ء کی درمیانی شب میں قصبہ دیوبند ضلع سہارنپور میں ہوئی ۔ آپ کے والد ماجد حضرت مولانا محمد یاسین صاحب دیوبندیؒ ، دارالعلوم دیوبند میں فارسی کے مسلّمہ استاذ ، جید عالم دین ، صاحبِ نسبت بزرگ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے متوسّلین میں تھے ۔ اصلاً دیوبند کے رہنے والے تھے ۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے ہی آپ کا نام محمد شفیع تجویز فرمایا ۔
*تعلیم و تربیت : آپ نے ایک دینی ماحول میں آنکھ کھولی اور بچپن ہی سے جلیل القدر علماء کی صحبت میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا ، پانچ سال کی عمر میں حافظ محمد عظیم صاحبؒ کے پاس دارالعلوم دیوبند میں قرآن کریم کی تعلیم شروع کی ، فارسی کی تمام مروجہ کتب اپنے والد محترم سے دارالعلوم دیوبند میں پڑھیں ، حساب فنون ریاضی کی تعلیم اپنے چچا حضرت مولانا منظور احمد صاحبؒ سے حاصل کی ، سولہ سال کی عمر میں دارالعلوم دیوبند کے درجہ عربی میں داخل ہوئے ، آپ نے شروع سے لے کر آخر تک دارالعلوم دیوبند ہی میں تعلیم حاصل کی ۔ اور 1336ھ مطابق 1918ء میں 22 سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوئے ۔ جن عظیم المرتبت علماء امت سے آپ نے شرفِ تلمّذ حاصل کیا ان میں امام العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ ، مفتئ اعظم ہند ، حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰن عثمانیؒ ، شیخ الاسلام حضرت علامہ شبّیر احمد عثمانیؒ ، عارف باللہ حضرت مولانا سیّد اصغر حسین دیوبندیؒ ، فخرالعلماء حضرت مولانا حبیب الرحمٰن عثمانیؒ اور شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی امروہویؒ جیسے اکابر علماء شامل ہیں ۔
*درس و تدریس : زمانۂ طالب علمی میں آپ کا شمار نہایت ذہین اور محنتی طلباء میں ہوتا تھا اور امتحانات میں ہمیشہ امتیاز کے ساتھ کامیاب ہوتے تھے اسی لئے اساتذہ آپ سے بے حد شفقت و محبت کا سلوک کرتے تھے ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد 1337ھ مطابق 1919ء میں ہی دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ اور ذمہ داران نے آپ کے علم و استعداد پر اعتماد کرتے ہوئے آپ کو دارالعلوم دیوبند کے ابتدائی کتب کی تعلیم کے لئے استاذ مقرر فرمایا ۔ پھر آپ اپنی علمی قابلیت و لیاقت کی وجہ سے بہت جلد تدریسی ترقی کی منزلیں طے کرکے درجۂ علیا کے اساتذہ میں شامل ہوگئے اور تقریباً ہر علم و فن کی جماعتوں کو پڑھایا ۔ فقہ و ادب سے شروع ہی سے مناسبت رہی ۔ آپ کا درس ہمیشہ ہر جماعت میں مقبول رہا مگر دورۂ حدیث کی مشہور کتاب ابوداؤد شریف اور عربی ادب کی مشہور کتاب مقامات حریری کا درس تو ایسا ہوتا تھا کہ مختلف ملکوں کے علماء اور اساتذہ بھی شریک ہونا سعادت سمجھتے تھے ۔ دارالعلوم دیوبند میں تدریس کے دوران مختلف ملکوں انڈونیشیاء ، ملائشیاء ، سنگار پور ، برما ، برصغیر پاک و ہند ، افغانستان ، بخارا ، سمرقند وغیرہ کے تقریباً تیس ہزار طلباء نے آپ سے شرف تلمّذ حاصل کیا ، ان میں سے ہزاروں اب بھی مختلف ملکوں میں دین کی خدمت میں مصروف ہیں ۔ دارالعلوم دیوبند کی تدریس کے دوران حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰن عثمانیؒ نے فتویٰ کے سلسلہ میں آپ سے کام لینا شروع کیا ، وہ سوالات کے جوابات خود لکھتے اور آپ سے لکھواتے اور اصلاح و تصدیق کے بعد یہ روانہ کردئے جاتے ۔ 1350ھ مطابق 1932ء میں منصبِ افتاء پر فائز ہوئے اور آپ کے کمالِ استعداد کی بنا پر آپ کو دارالعلوم دیوبند کا صدر مفتی بنادیا گیا ۔ گویا حضرت مفتئ اعظم مولانا مفتی عزیز الرحمٰن عثمانیؒ کا قائم مقام بنایا گیا ، یہ سب آپ کی لیاقت اور قوت علمی کے آثار تھے ۔ آپ کو اس عظیم کام کی اہمیت کا بہت احساس تھا کیونکہ دارالعلوم دیوبند میں نہ صرف برصغیر کے کونے کونے سے استفتاء موصول ہوتے تھے بلکہ دنیا بھر کے ملکوں سے مسلمان مختلف مشکل فقہی مسائل کے بارے میں آخری فیصلوں کے لئے دارالعلوم دیوبند سے رجوع کیا کرتے تھے ، آپ اپنی جگہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ صدر مفتی کے منصب کا حق پوری طرح ادا نہیں کرسکیں گے تاہم حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ اور حضرت مولانا سید اصغر حسین دیوبندیؒ کی سرپرستی امداد و اعانت کے وعدے پر آپ نے یہ عظیم منصب قبول کیا ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ نے صدر مفتی کے عظیم منصب کا حق پوری طرح ادا کیا اور قیامِ پاکستان تک اس عظیم عہدہ پر فائز رہے ۔ آپ دو بار اس عہدہ سے سرفراز ہوئے ، پہلی مرتبہ 1350ھ مطابق 1931ء سے 1454ھ مطابق 1935ء تک اور دوسری مرتبہ 1359ھ مطابق 1940ء سے 1361ھ مطابق 1942ء تک ۔ آپ کے زمانے میں 26 ؍ ہزار کے قریب فتاویٰ لکھے گئے ۔ فتویٰ نویسی کے علاوہ دارالعلوم دیوبند میں درجۂ علیاء کی کتابوں کی تدریس بھی آپ سے متعلق رہی ۔
*راہِ سلوک : آپ ابتداء میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ سے بیعت ہوئے ، حضرت شیخ الہندؒ کی وفات کے بعد حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے رجوع فرمایا ۔ حضرت تھانویؒ کو آپ کے علم و فضل پر بڑا اعتماد تھا ۔ حضرت تھانویؒ نے آپ کی علمی و روحانی صلاحیتوں کو دیکھ کر اجازت و خلافت سے بھی سرفراز فرمایا ۔ آپ تعلیم ظاہر کے ساتھ تعلیم باطن میں بھی کمال کو پہنچے ؛ اسی لئے آپ کے متوسلین اور عقیدت مند بکثرت موجود ہیں اور مخلوق خدا کو فائدہ پہنچ رہا ہے ساری عمر دینی علوم کی تدریس و تصنیف کے ساتھ افاضہ باطنی میں بھی مصروف رہے ۔ حضرت حکیم الامت تھانویؒ کے خلفاء و مجازین میں آپ ( حضرت مفتئ اعظم ) کو ایک خاص مقام حاصل تھا ۔ حضرت حکیم الامت تھانویؒ آپ پر خاص توجہ فرمایا کرتے تھے آپ تقریباً 20 بیس سال تک حضرت حکیم الامت تھانویؒ کی صحبت میں رہے اور ان کی زیر نگرانی کئی عظیم تالیفات اپنے قلم فیض رقم سے تصنیف فرمائیں ، جیسے احکام القرآن ، حیلہ ناجزہ وغیرہ ، آپ پر حکیم الامت حضرت تھانویؒ کو ایک خاص اعتماد تھا ۔ حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ فرماتے ہیں کہ : "حضرت حکیم الامت تھانویؒ کو حضرت مفتی صاحبؒ کی علمی و فقہی بصیرت پر اس قدر اعتماد تھا کہ اپنے ذاتی معاملات میں بھی ان سے مشورہ لیتے اور فتویٰ طلب فرماتے اور اس پر عمل فرماتے تھے ، ایک مرتبہ حضرت حکیم الامتؒ نے فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ مفتی محمد شفیع کی عمر دراز کرے ، مجھے ان کی ذات سے دو خوشیاں ہیں ایک تو ان کی ذریعہ علم حاصل ہوتا رہتا ہے اور دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میرے بعد بھی کام کرنے والے موجود ہیں ۔" ( اکابر علماء دیوبند ) حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ فرماتے ہیں کہ : " حضرت مفتئ اعظم ہمارے شیخ حضرت حکیم الامتؒ کے علمی و روحانی جانشین اور ان کی تعلیمات و ارشادات کے عظیم ترجمان ہیں ۔" ( اکابر علماء دیوبند ) حضرت حکیم الامت تھانویؒ کے علاوہ دیگر اکابرین امت بھی آپ کی علمی و فقہی بصیرت پر مکمل اعتماد کرتے تھے ان میں حضرت علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ ، حضرت علامہ شبّیر احمد عثمانیؒ ، حضرت علاّمہ ظفر احمد عثمانیؒ ، حضرت مولانا سید اصغر حسین دیوبندیؒ ، حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ ، حضرت مولانا مفتی محمد حسن امرتسریؒ وغیرہم جیسے مشاہیر علم و فضل بھی ہر معاملے میں آپ سے رائے لیتے تھے اور آپ کو وقت کا محقق ، فقیہ ، مدبر ، مفسر اور مفتئ اعظم تسلیم کرتے تھے ۔
*پاکستان میں : حضرت مفتئ اعظمؒ نے دینی و علمی خدمات کے علاوہ سیاسی و ملی خدمات بھی انجام دی ہیں ۔ آپ نے اپنے شیخ و مربی حضرت حکیم الامت تھانویؒ کے ایماء پر تحریک پاکستان میں زبردست عملی حصہ لیا اور کھلم کھلا مسلم لیگ کے نظریات کی حمایت و تائید فرمائی ، حضرت حکیم الامتؒ کے حکم پر قائد اعظم کی دینی تربیت میں اہم کردار ادا کیا اور زعماء لیگ کی اصلاح کے لئے تبلیغ دین کا حق ادا کیا ۔ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور علامہ ظفر احمد عثمانیؒ کے شانہ بشانہ قیام پاکستان کے لئے کوشاں رہے ، مسلم لیگ کی حمایت میں ایک تاریخ ساز فتویٰ بھی جاری کیا جس کی تائید برصغیر کے اکابر علماء نے کی ، سرحد ریفرنڈم میں علامہ عثمانیؒ کے ہمراہ طوفانی دورہ کیا اور رائے عامہ کو مسلم لیگ کے حق میں کرنے کے لئے بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب فرمایا اور شب و روز محنت کرکے ریفرنڈم میں کامیابی حاصل کی ۔ تقسیم ملک کے بعد آپ نے پاکستان کی قومیت اختیار کی اور 1368ھ مطابق 1949ء میں دیوبند سے ہجرت فرماکر پاکستان تشریف لے گئے قیام پاکستان کے بعد شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی معیت میں قرارداد مقاصد کی ترتیب و تدوین میں اہم کردار ادا کیا ، پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے بورڈ آف تعلیمات اسلام کے رکن کی حیثیت سے اسلامی دستور کی ترتیب میں آپ کا تعاون لیا گیا ۔ اور پھر مملکت پاکستان کی اسلامی شناخت کے قیام و ترقی اور نفاذ اسلام کے لئے تاعمر کوشاں رہے اور جدو جہد فرماتے رہے ۔ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی رحلت کے بعد آپ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے صدر منتخب ہوئے اور بحیثیت صدر آپ نے ملکی و ملی کاموں میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے عظیم کارنامے انجام دئے ۔ علاوہ ازیں دینی تعلیم کے فروغ کے لئے 1370ھ مطابق 1951ء میں نہایت بے سرو سامانی کے عالم میں کراچی میں ایک دینی مدرسہ قائم فرمایا جو بہت جلد ایک مرکزی دارالعلوم کی شکل اختیار کرگیا ، جو اس وقت کراچی میں علوم اسلامیہ کا سب سے بڑا مرکز ہے اور آج پاکستان میں ثانی دارالعلوم دیوبند ہے ۔ دارالعلوم کراچی سے ایک جریدہ " البلاغ " جاری کیا گیا جو بین الاقوامی شہرت کا حامل ہے ۔ آپ نے افتاء و فقہ پر جتنا کام تن تنہا انجام دیا ہے وہ درحقیقت ایک جماعت کا کام تھا ۔ آپ کی انہیں خدمات کے باعث پاکستان میں آپ کو مفتئ اعظم پاکستان کا لقب دیا گیا جو یقیناً ان شایان تھا ۔ حضرت مفتی صاحبؒ پاکستان میں مسلک دیوبند کے عظیم داعی اور ترجمان تھے ۔ دارالعلوم کے ایک قیمتی جوہر اور عظیم فرزند تھے ۔ آپ اپنی ذاتی خوبیوں اور لیاقتوں کی بنا پر سارے ہی طبقۂ اہل علم کے معتمد تھے ۔
*آپ کا علمی کارنامہ : آپ کے سیکڑوں تلامذہ برصغیر کے علاوہ مختلف ممالک میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں ، آپ کا علم وسیع اور گہرا تھا ۔ تقریباً تمام متداول دینی علوم میں عمدہ صلاحیت کے مالک تھے اور بہت سی دینی کتابوں کے مصنف تھے ۔ آپ کو تصنیف کا ذوق ابتداء سے تھا ، آپ نے تعلیم و تدریس ، تبلیغ و اصلاح اور خدمت افتاء کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی جاری رکھا ۔ آپ کے قلم سے سیکڑوں تالیفات منظر عام پر آئیں ۔ آپ نے دو سو کے قریب کتابیں تصنیف فرمائیں ، تفسیر ، حدیث ، فقہ اور مناظرے میں نہایت مفید تصانیف کا ذخیرہ آپ کے قلم سے نکلا اور خواص و عوام کے لئے نہایت مفید ثابت ہوا ، شعر و شاعری کا ذوق بھی زمانۂ طالب علمی سے تھا ۔ عربی ، فارسی اور اردو میں نہایت عمدہ قصائد ، مراثی اور واقعاتی نظمیں لکھیں ہیں جن کا مجموعہ شائع ہوچکا ہے ۔ آخری دور میں تفسیر معارف القرآن لکھی جو علم تفسیر میں آپ کا بہت ہی زبردست عظیم الشان علمی کارنامہ ہے ۔ اور بقول حضرت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ آپ نے اس تفسیر کو تالیف فرماکر علماء کرام مفسرین کرام اور پوری ملت اسلامیہ پر احسانِ عظیم فرمایا ہے ۔ اگر آپ صرف ایک یہی خدمت انجام دیتے تو ان آپ کی عظمت و رفعت اور عند اللہ مقبولیت کے لئے کافی تھی ۔ لیکن اس کے علاوہ آپ کی علمی خدمت اپنی جگہ اتنی اہم اور نفع بخش ہے کہ خواص و عوام اس سے مستغنی نہیں رہ سکتے اور ہر اہل علم آپ کی علمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور ہے ۔ غرض دارالعلوم دیوبند کے مکمل ترجمان علماء حق کی سچی نشانی اور خانقاہِ تھانویؒ کے قابل فخر نمائندے تھے ۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ کی چھوٹی بڑی تصانیف کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد ہے جن میں اہم کتابوں کے نام یہ ہیں : ( 1 ) تفسیر معارف القرآن آٹھ جلدوں میں ( 2 ) امداد المفتین آٹھ جلدوں میں ( 3 ) جواہر الفقہ دس جلدوں میں ( 4 ) احکام القرآن مولفہ حضرت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ میں بھی تعاون کیا ۔ ( 5 ) آلاتِ جدیدہ کے شرعی احکام ( 6 ) اسلام کا نظامِ اراضی ( 7 ) قرآن میں نظامِ زکوٰۃ ( 8 ) احکام حج ( 9 ) مسئلہ سود ( 10 ) تنقیح المقال فی تصحیح الاستقبال ( 11 ) الارشاد الی بعض احکام الالحاد ( 12 ) مقادیر شرعیہ در اوزان ہندیہ ( 13 ) عائلی قوانین پر مختصر تبصرہ ( 14 ) ختم النبوۃ فی القرآن ( 14 ) ختم النبوۃ فی الحدیث ( 15 ) ہدیۃ المہدیین فی آیت خاتم النبیین ( 16 ) سیرت خاتم الانبیاء ( 17 ) آداب المساجد ( 18 ) آداب النبی ﷺ ( 19 ) نجات المسلمین ( 20 ) مقام صحابہؓ ( 21 ) دستور قرآنی ( 22 ) چند عظیم شخصیات ( 23 ) فتوح الہند ( 24 ) مجالس حکیم الامتؒ وغیرہم علمی شاہکار ہیں ۔ آپ کی ایک بڑی علمی یادگار دارالعلوم کورنگی کراچی ہے ۔ اس ادارہ نے بہت ہی قلیل عرصہ میں عالمِ اسلام میں دین کے مضبوط قلعہ کی شکل اختیار کرلی اور دیکھتے ہی دیکھتے طالبانِ علومِ نبوت اور داعیانِ حق کا مرکز بن گیا ۔ دارالعلوم کراچی اپنے وسیع رقبہ ، شعبہ جات اور کارکردگیوں کے پیشِ نظر صحیح معنوں میں ایک بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی بن چکا ہے ۔ اس ادارہ نے اب تک ہزاروں علماء و فضلاء ، مُحدّثین و مُفسّرین ، فقہاء و ادبا اور مُبلغین و مُجاہدین اسلام پیدا کئے ہیں ۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ کی ایک بڑی خوش نصیبی آپ کے لائق و فائق اور عالم و فاضل فرزندان گرامی ہیں جنھوں نے آپ کی علمی وراثت کو نہ صرف یہ کہ جاری رکھا بلکہ اس میں مزید چار چاند لگادئے ہیں ۔ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم ، دارالعلوم کراچی کے مہتمم اور مختلف کتابوں کے مصنف ہیں ۔ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم ، عالمِ اسلام کے ممتاز عالمِ دین ، قدیم و جدید علوم کے ماہر ، اسلامی اقتصادیات پر سند اور درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگر صاحبزادے بھی بہترین عالم و فاضل ہوئے ہیں ۔ بہر حال آپ ساری زندگی دین کی خدمت میں مصروف رہے اور مفتئ اعظم پاکستان کی حیثیت سے آخر دم تک مسلمانوں کی اصلاح و فلاح کا فریضہ انجام دیتے رہے ۔
*وفات : 11؍ شوال المکرّم 1396ھ مطابق 6؍ اکتوبر 1976ء کی درمیانی شب میں داعئ اجل کو لبیک کہا ۔ ایک لاکھ سے زائد عقیدت مندوں نے نماز جنازہ پڑھی اور دارالعلوم کراچی کے احاطہ میں تدفین ہوئی ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ( تاریخ دارالعلوم دیوبند : 130/2 ، دارالعلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ ص : 514 ، تذکرۂ اکابر ص : 185 ، سو بڑے عُلماء ص : 79 ، دارالعلوم دیوبند کی پچاس مثالی شخصیات ص : 174 ، ملت اسلام کی مُحسن شخصیات ص : 209 ، ملفوظاتِ مفتئ اعظم پاکستان ص : 43 ) *از : محمد طاھر قاسمی دھلوی*
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔