شورش قول و قلم

اگر خدا تعالی نے آپ کو علم و فہم اور فکر و شعور کی قوتیں بخشی ہیں اگر اللہ رب العزت نے آپ کو ظاہری و باطنی اسباب و وسائل کی طاقت و صلاحیت سے نوازا ہے جس کے ذریعہ آپ قوم کے مسائل کا ادراک کر سکتے ہیں اور ان کے حل کے لئے کوئی موثر اقدام کرسکتے ہیں تو پھر آپ کی ذمہ داری بہت کچھ بڑھ جاتی ہے اور یہ ذمہ داری محض اتنی ہی نہیں رہتی کہ آپ صرف قول و قلم کی جولان گاہ میں اپنے جوہر دکھاتے رہیں اور عملی اقدامات کی ذمہ داریاں اپنے قارئین اور سامعین پر ڈالتے رہیں اور چند حضرات کی طرف سے وصول ہونے والی خشک تعریفی و توصیفی داد تحسین پر خوش اور مطمئن ہوکر بیٹھ جائیں ۔۔ اور بس ۔۔۔۔۔۔ آپ کا فرض ادا ہوگیا ؟؟؟؟

جی نہیں ۔۔۔ آپ قوم کے لئے کچھ سوچتے ہیں تو بلاشبہ آپ قوم کا بیش قیمتی سرمایہ ہیں اور قوم مسلم کی آخری امید بھی آپ ہی سے وابستہ ہے اگر مالک الملک نے آپ کو اس کا اہل بنایا ہے کہ آپ قوم کے لئے کچھ کرسکتے ہیں اور بہت کچھ کرسکتے ہیں تو میرے جیسے ایک عامی کو آپ سے یہ کہنے کا حق ہے کہ آپ اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانیں اور اپنی ذمہ داری اور فرض کا احساس کریں اور اس حقیقت کو سمجھیں کہ محض تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ قوموں کی تقدیریں نہیں بدلی جا سکتیں بلکہ کسی بھی تغیر و انقلاب کے لئے تحریروں اور تقریروں کے ساتھ عملی تحریک ایک لازمی شئی ہے ۔۔ آپ کے اسلاف کی سیرت اس کی بین دلیل اور آپ کےلئے بہترین نمونہ ہے ۔۔

لیکن بہرحال ۔۔۔

ملت کے حالات و مسائل سے متعلق ارباب فکر و دانش کی تجزیاتی تحریریں کم از کم اس بات کی واضح علامت ہیں کہ یہ قوم ابھی زندہ ہے ابھی مری نہیں ہے حالات کیسے ہی پر تاریک اور مایوس کن کیوں نہ سہی لیکن آج بھی اس قوم کے اندر کچھ ایسے زندہ دل اور بیدار مغز افراد موجود ہیں جو موجودہ پر ہیبت تاریکیوں میں بھی بکھرے ہوئے جگنووں کی طرح اپنے وجود کا مسلسل احساس دلارہے ہیں اور یہی طبقہ اس قوم کا سب سے قیمتی جوہر ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اگر یہ متفرق اور منتشر روحیں ایک جگہ جمع ہوجائیں تو یہ ایک روشن چراغ کی شکل اختیار کر سکتی ہیں اور اپنے وجود سے اپنی قومی ذندگی کو جگمگا سکتی ہیں

جہاں تک میری ناقص سی فہم ہے یہ ایک بالکل امکانی عمل ہے ۔۔۔

تو کیا آپ جیسے مخلصین اور دردمند دل رکھنے والے حضرات بھی ایک جگہ جمع ہوکر کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے نہیں کر سکتے ؟؟؟؟

اگر تھوڑا گہرائی سے جائزہ لیں تو یہ امید افزا حقیقت واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ یہ قوم "من حیث القوم" نہ مفلوج ہے نہ اپاہج نہ یتیم ہے اور نہ بے سہارا بلکہ اس کے اندر وہ تمام تر قوت و صلاحیت موجود ہے جو کسی زندہ قوم کے اندر ہوسکتی ہے مگر اس کے باوجود اگر یہ قوم رو بزوال و انحطاط ہے تو اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس قوم کے رہنماؤں سے اس کی رہنمائی میں کہیں نہ کہیں جانے انجانے میں کوئی لغزش ہورہی ہے اور یہی اس قوم کی اصل بیماری ہے قوم کی قیادت جن طبقات کے ہاتھوں میں ہے ان میں ایک طبقہ وہ ہے جسے اتفاقا یا کسی موروثی نسبت کی بدولت موجودہ غلامی اور محکومی کے حالات میں زندگی کی عیش و عشرت کے کچھ اچھے مواقع میسر آگئے ہیں لہذا وہ اسی نہج پر اور اسی محدود دائرے میں رہکر ملت کی رہنمائی کر رہا ہے اور کرنا چاہتا ہے جہاں اس کی عیش و عشرت میں کوئی خلل واقع نہ ہو شاید ملت کی تباہی و بربادی ہی اس طبقہ کی پسندیدہ غذا ہے اور شاید اس کی خود ساختہ پیشوائی کی بنیادیں ہی اس قوم کی غلامی اور محکومیت پر قائم ہیں بدترین ناسور ہے قوم کا یہ طبقہ اور جب بھی کوئی مخلص رہنما قومی قیادت کے لئے اٹھا ہے یہی بہادر طبقہ اس کا سر کاٹنے کے لئے سب سے پہلے میدان میں آیا ہے اس طبقہ سے ملت کے تئیں کسی خیر کی امید تو چھوڑئے اگر یہ قوم صرف اس کے شر و ضرر سے بھی بچ جائے تب بھی اس قوم کو ایک نئی زندگی میسر آسکتی ہے ایک دوسرا طبقہ ہے جس کے پاس طاقت ہے وسائل ہیں اور وہ قوم کی تعمیر نو میں بہت بڑا کردار ادا کرسکتا ہے لیکن اس کے اندر فکر و شعور کی وہ قوت نہیں ہے جس کے ذریعہ وہ قوم کے مسائل کا ادراک کرسکے اور ان کے حل کے لئے کوئی راہ متعین کرسکے ایک اور طبقہ ہے جس کے اندر علم ہے شعور ہے قوت ہے صلاحیت ہے مگر وہ حالات سے اس قدر مرعوب ہے کہ وہ ملت کے حقیقی مسائل پر گفتگو تو کرتا ہے مگر ان کا حقیقی اور عملی حل پیش کرنے سے نہ صرف گریزاں نظر آتا ہے بلکہ وہ دانستہ طور پر وہی راہ اختیار کرنا چاہتا ہے جہاں اس کا باطل کے طاقتور نظام سے کسی طرح کا کوئی ٹکراو اور تصادم نہ ہو ۔ ایک چھوٹاسا طبقہ اور ہے جس کے سینے کے اندر ایک درد ہے ایک چبھن ہے ایک بے چینی ہے اس کے اندر ہمت بھی ہے حوصلہ بھی ہے اسے بہت حد تک قومی مسائل کا ادراک بھی ہے اور ان کا حقیقی حل بھی اس کے ذہن میں محفوظ ہے مگر اس کی کچھ کمزوریاں ہیں اور کچھ مجبوریاں ہیں جن کے سبب وہ چاہ کر بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے عمل نہیں لاپارہاہے اور اپنی قوم کے لئے کچھ نہیں کرپا رہا ہے ۔

اول الذکر طبقہ ہمارا مخاطب نہیں ہے ہم صرف موخر الذکر طبقات سے مخاطب ہیں اور ان سے کہنا چاہتے ہیں کہ آپ اپنی تمام فکری قوتوں کے ساتھ ایک جگہ جمع ہوں سرپر منڈلا رہے طوفانوں کا احساس کریں مستقبل کے خطرات کو سمجھیں اپنی دینی و ملی سرگرمیوں اور ان کے مایوس کن نتائج پر غور کریں طاغوتی قوتوں کا خوف دل سے نکالیں اور ملت کی تعمیر نو کے لئے کسی عملی جدوجہد کے لئے کوئی راہ متعین کریں یہ محض دوسروں کو مشورہ ہرگز نہیں بلکہ یہ تمام بہی خواہان ملت کی خدمت میں ہماری گزارش ہے کہ ہر وہ شخص جو قوم کے لئے کچھ کرسکتاہے اور کرنا چاھتاہے وہ مزکورہ طبقات پر مشتمل دردمندان ملت کو یکجا کرنے کی جدوجہد کرے یا پھر ایسا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرے ۔۔ ذرا سوچئے ۔ اور سنجیدگی سے غور کیجئے ۔

کب تک آپ غلامی اور محکومیت کے زیر سایہ ذلت و رسوائی کی زندگی جیتے رہیں گے کب تک آپ اس کشتی میں اپنی سمت قبلہ تلاش کرتے رہیں گے جو مسلسل آپ کی منزل کی مخالف سمت میں رواں دواں ہے کب تک آپ اس غلامی کے پنجرے میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتے رہیں گے جہاں خیر امت کی حیثیت سے آپ کی کوئی جگہ ہی نہیں بنتی کب تک آپ ان طاقتوں سے اپنے حقوق کی بھیک مانگتے رہینگے جو آپ کے حقوق تو چھوڑئے آپ کے وجود کو بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کب تک آپ اس نام نہاد جمہوری نظام میں اپنی بقاء اور تحفظ کی ضمانت کو ڈھونتے رہیں گے جو صرف اکثریت کے ہاتھوں قوت و اقتدار کی تفویض کو عین حق و انصاف قرار دیتا ہے اور جو اقلیتوں کے حقوق پر شب خون مارنے کا قانونی ذریعہ ہے قوموں کی حیات کچھ فطری اصولوں (قانون دفاع اور قانون اعداد) سے وابستہ ہے قرآن کہتا ہے ولولا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لفسدت الارض الخ اگر اللہ تعالی بعض شریر اور ظالم انسانوں کا دفاع بعض نیک اور شریف انسانوں کے ذریعہ نہ کراتا تو یہ کرہ ارض شروفساد سے بھرجاتا ۔ دوسری جگہ ارشاد ہے واعدو لہم ماستطعتم من قوہ و من رباط الخیل ترھبون بہ عدوا اللہ وعدوکم الخ اور تم حسب استطاعت وقت کی قوتوں کے ساتھ تیار رہو تاکہ اللہ کے اور تمہارے دشمن تم سے مرھوب اور خوف زدہ رہیں غالبا ہر ذی روح مخلوق اپنے تحفظ کے اس فرض حیات سے واقف ہے پھر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ یہ خیر الامم اور افضل ترین امت جس کو عالم انسانیت کا محافظ بناکر بھیجا گیا تھا وہ خود اپنے تحفظ کے فرض سے کیوں کر غافل ہوگئ ۔ اور غفلت بھی ایسی ویسی نہیں بلکہ اگر کوئی دیوانہ اس فرض کو یاد دلانے کےلئے اٹھتا ہے تو اس کو اجنبی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے ۔۔۔ وا ۔۔اصفا آپ کے پاس اگر انسانیت کے تحفظ اور انسانوں کی خیر و فلاح کے لئے نیکی اور بھلائی پر مشتمل کوئی نظریہ اور منشور ہے تو فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ نظریہ اور منشور بدی اور برائی پر (خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو) غالب ہونا اور رہنا چاہیئے ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ الخ

ہم اپنی بزدلی اور نامردی کو چھپانے کے لئے حکمت و مصلحت اور مصنوعی تاویلات کا سہارا لیکر "اظہار علی الدین کلہ " کے عظیم انقلابی فرض سے روگردانی کرتے رہیں مگر باطل پر حق کے غلبہ کےلئے عملا جدوجہد کرنا اہل اسلام کا وہ دائمی فرض ہے جس کی ادائیگی ہی میں اس قوم کی حیات ہے نجات ہے فلاح ہے کامیابی ہے عزت ہے وقار ہے غلبہ ہے اور حاکمیت ہے اور جس سے چشم پوشی اور روگردانی میں موت ہے ہلاکت ہے ناکامی ہے بربادی ہے ذلت ہے رسوائی ہے غلامی ہے اور محکومی ہے ۔۔۔۔۔ کفر اور اسلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ چل ہی نہیں سکتیں ایک مسلمان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ کفر کے زیر تسلط اور کسی باطل نظام کے ماتحت رہکر اسلام کے تقاضوں کو پورا کرسکے لہذا پوری تاریخ اسلام میں حق اور باطل کے درمیان غلبہ اور استیلاء کی یہی کشمکش اور معرکہ آرائی نظر آتی ہے اور ہر مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ باطل پر حق کے غلبہ کےلئے حتی المقدور کوشش اور جدوجہد کرے کہ یہی اس امت کا فرض منصبی ہے اور یہی اس کیلئے حقیقی راہ نجات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔