ووٹ کی حیثیت واہمیت

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

اس روئے زمین پر ایک امن پسند معاشرے کے لئے، ملک کی خوشحالی اور ترقی کے لئے ،انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی حیات کی شاہ راہوں کو خوشگوار اور آسان بنانے کے لئے دو نظام حکومت متعارف اور رائج ہیں۔ایک ملوکیت دوسرے جمہوریت،

ملوکیت میں سارے اختیارات شخصی ہوتے ہیں، فرد واحد کے ہاتھوں میں پورے ملک کی باگ ڈور ہوتی ہے۔ قوانین وضابطے اسی کی پیداوار اور اسی ایک فرد کے حکم کا نتیجہ ہوتے ہیں، اصول اس کے نفس کے غلام اور قوانین اس کی خواہشات کی کنیز ہوتے ہیں۔ عوام پر اس کا کلی تسلط ہوتاہے، وہ ملک اور عوام کو جس طرح سے چاہتا ہے استعمال کرتاہے۔اس کے ارادے میں،اس کے منصوبے میں،اس کے قول و عمل میں کسی کو تنقید کرنے کا نہ اختیار ہوتاہے نہ حق ہوتاہے۔۔۔

اس کے برخلاف جمہوریت میں حکومت عوام کی ہوتی ہے،وزات عظمیٰ کی کرسی پر جلوہ افروز ہونے والا شخص ملک کے کسی بھی منصوبے میں کلی اختیار نہیں رکھتا ہے۔ملک مجلس اعلیٰ اور مجلس زیریں، کے مجوزہ قانون پر چلتا ہے'، حکومت عوام کی ہوتی ہے اقتدار اعلیٰ اس کا نمائندہ ہوتاہے،اس لئے کہ وہ عوام ہی کے انتخاب پر اس مقام پر پہنچتا ہے'، اس لئے جمہوریت میں عوام کی رائے بڑی اہمیت رکھتی ہے، کہ یہاں حکمرانی ایک مخصوص مدت کے لیے ہوتی ہے'،اس دوران اگر حکومت درست اور فلاح کے راستے پر قائم رہی تو بھی اور قانون سے منحرف رہی تو بھی بہر صورت متعینہ مدت کے اختتام پر اسے انتخابات کے مراحل سے گذرنا لازمی ہے یہی وجہ ہے کہ اس نظام میں ڈکٹیٹر شپ اور تانا شاہی اور اس کے نتیجے میں مظالم کے امکانات کم ہوتے ہیں،

1947/میں ہندوستان کی آزادی کے بعد جمہوری نظام اس ملک کا قانون قرار پایا،جس میں انتخابات کے ذریعے حکومت سازیاں ہوتی رہیں، ٹوٹتی اور بکھرتی رہیں، پھر نئے سرے سے جمہوریت کی راہ پر آتی رہیں ملک ستر سالوں تک اس راہ سنگلاخ پر اپنا سفر طے کرتا رہا۔ بدقسمتی سے ماضی قریب میں ملک کے طول عرض پر وہ طبقہ مسلط ہو گیا ہے جمہوریت کے بجائے ملوکیت اور ظلم وجبر کے نظام پر یقین رکھتا ہے'۔اس نظریہ کی بنیاد پر ملک کی ترقیاں رک گئیں، سفاکیت کا دور دورہ ہوگیا، انتہا پسندی عروج پر ہوگئی،تعصب کے زہر سے پوری فضا مسموم ہوگئ۔

ایسی صورت حال میں ووٹ کی اہمیت کس قدر بڑھ جاتی ہے اندازہ نہیں کیا جاسکتا، کہ ملک سے فسطائیت کو ختم کرنے کے ،اس کی فضاؤں کو امن وسلامتی سے آشنا کرنے کے لئے،قیادت کی تبدیلی ناگزیر ہے،سیکولر ملک اور سیکولر نظام میں صرف مخصوص نظریہ اور مخصوص فکر کی ترجمانی درحقیقت جمہوریت کا خون ہے'،اور ملک کی سالمیت اور اس کے وقار کو تار تار کرنے کے مترادف ہے۔

اس بات کے باوجود کہ اقتدار کی ہوس اور مذہبی دیوانگی،اور عصبیت کی تاریکیوں میں انتخابات کی شفافیت رخصت ہوچکی ہے ،ووٹ کا استعمال اور درست استعمال وقت کا اہم تقاضا ہے'،کہ ہر فرد کی رائے اور اس کا ووٹ حکومت سازی کے لئے ایک آواز ہے'،اقتدار اعلیٰ کی تنصیب میں اہم کردار ہے،اس میں تساہلی کی بنیاد پر ملک اگر نفرتوں کے سوداگر وں اور ملک کے بدخواہوں کے قبضے میں چلا گیا اور مظالم کا کھیل شروع ہوگیا تو اس کھیل میں پوری قوم بھی شریک ہے'اور وہی اس اضطرابی کیفیت کی ذمے دار ہے'۔۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام میں شہادت کا بہت بڑا مقام ہے،یہ کسی اہل اور ناہل۔۔کسی اچھے اور برے۔۔کسیذمے دار اور لاپرواہ، کسی سیکولر اور جمہوریت کے بارے میں ایک اہم گواہی ہے'،قران کہتاہے ولا تکتموا الشہادہ ومن یکتمہا فانہ آثم قلبہ۔۔۔ تم گواہی کو مت چھپاؤ گواہی چھپانے کا عمل جرم ہے،،

معلوم ہوا گواہی دینا ضروری ہے مزید وہ گواہی صحیح سمت میں اور حق کی راہ میں ہونی چاہیے، حالات کے سلگتے ہوئے ماحول میں۔نفرت کی جلتی ہوئی فضاء میں، انسانیت کے زخم زخم ماحول میں رائے دہی کی توجہ اور صحیح محل میں اس کا استعمال ہر اس فرد پر ضروری ہے جو ملک کی سالمیت کا خواہاں ہے،جو جمہوریت کی بحالی چاہتا ہے،تاکہ ملک کا کھویا ہوا وقار پھر سے حاصل ہوجائے،ملک امن کے راستے پر آجائے، حالات کی سنگینی اس کی نزاکت چیخ چیخ کر ملت اسلامیہ ہند سے کہ رہی ہے کہ فاشسٹ کا طوفان تمہاری زندگی کے بالکل قریب آچکا ہے، تعصب کا سیلاب سیکولر ازم اور اسلام کی شناخت کو ہضم کرنے کے لئے بے تاب ہے'۔

وقت کا کارواں مستقل صدا لگا رھا ھے کہ ماحول کی آگ کو محسوس کرو۔۔اس کے پیغام کو سمجھو۔۔اور دیانت داری سے اپنی رائے۔۔شہادت۔۔اور ووٹ کی طرف توجہ کرکے۔ملک ۔قوم۔۔تہذیب۔۔اور اس کی سالمیت کی حفاظت کو یقینی بناؤ۔

ورنہ نااہل حکمرانوں۔کرپٹ سیاست دانوں کے لئے ملک پر قبضہ کی راہیں ہموار ہوجائیں گی،پھر اس کے بعد شخصی حکومتوں کی طرح یہ کس طرح ملت اسلامیہ ہند کے ساتھ سلوک روا رکھیں گی۔ کس قدر خوفناک مظالم کا طوفان آئے گا۔۔جمہوریت کی آڑ میں نسل کشی اور ایک مخصوص انتہا پسند نظریات کا کس طرح دور دورہ ہوگا ۔۔ اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔