ظالمانہ CAB پاس ہونے سے مایوسی کیسی ؟ شہریت ترمیمی بِل پاس ہوجانے پر اپنی قوم سے چند باتیں:
خبر آئی ہے کہ شہریت ترمیمی بِل راجیہ سبھا سے پاس ہوکر قانونی شکل میں نافذ ہونے کے آخری مرحلے پر پہنچ چکاہے یقینًا اس کے بعد سخت آزمائش اور مصائب کا سامنا ہوسکتا ہے، بہت کچھ حالات آسکتےہیں، ان سے میں کبھی بھی انکار نہیں کرتا، ان خطرات کا انکار جھوٹی تسلّیوں اور شتر مرغی کے علاوہ کچھ نہیں، نیز ایسا رویہ قومی سطح پر غفلت بھی طاری کرتاہے
لیکن اگر شہریت ترمیمی بِل پاس ہوگیا تو کیا ہوا ؟ ہمارا ایمان ہےکہ زندگی جس قدر لکھی ہوئی ہے اس میں سے ایک سیکنڈ بھی کوئی کم نہیں کرسکتا ہاں یہ اور بات ہےکہ اختیار ہمارا ہےکہ ہم باعزت موت کو ترجیح دیتےہیں یا ذلت آمیز زندگی کو_
یہ بِل پاس ہوگیا تو کیا ہوگیا؟ کیا اللّٰہ بدل گیا یا اُس کے وعدوں سے ہمارا ایمان منحرف ہوگیا یا قرآن کی راہ نما تدبیروں پر ہمیں یقین نہیں رہا؟ تو پھر یہ ماتم اور مایوسی کیسی؟ اتنی ساری مصیبتیں پہلے سے ہم تھیں، ایک اور سہی مایوسی اور خوف کی لکیر مت پیٹیے قرآن کی رہنمائیوں اور اللّٰہ کی سوجھائی ہوئی تدبیروں سے صبحِ نو اخذ کرنے کے لیے سر جوڑیے، اللہ کی کتاب کو گلے لگائیے، اپنی ازسرنو صف بندی کیجیے، درون خانہ قومی جھگڑے چاہے وہ مسلکی ہوں کہ ادارہ جاتی ان سے توبہ کرلیجیے، اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامیے، اور موجودہ سچویشن کو لےکر بیٹھیے قرآن اور اسلام کی روشنی میں ملک کے ڈھانچے سے ہم آہنگ سبیل تلاش کیجیے، اور اللّٰہ کا نام لےکر، سچے پکے مومنانہ صفات کے ساتھ ایک صاف ستھرے سفر کا آغاز کیجیے، چند ہی عرصے میں حالات آپکے قدموں میں پلٹ آئیں گے، یہ اللّٰہ کا وعدہ ہے
ہمیں یقین تھا کہ آج راجیہ سبھا میں بھی یہ بِل پاس ہوجائے گا لیکن ہم اور ہمارے ذمہ دار حضرات نے پھر بھی ملک کے کئی بڑے شہروں میں کاروان امن و انصاف کی جانب سے سخت اور شدید احتجاجی مظاہرے کیے، کیونکہ کوششیں ہمارا بنیادی فرض ہیں، اور آخری سانس تک اپنے حقوق کے لیے لڑنا باعزت زندگی کہلاتی ہے_
آج اس بدبخت ظالمانہ قانون کے پاس ہوجانے سے اگر تم ہراساں ہو، نالاں ہو، تو تم سخت دھوکے میں ہو، کیونکہ مسلمان تو کبھی ایسا نہیں ہوسکتا، اسے موت کی بھی آہٹ سے کبھی ڈر نہیں لگ سکتا، اور یہ تو ایک قانون ہے اس قانون کے ہمارے لیے دو پہلو ہوسکتےہیں، ایک تو یہ کہ ڈر کر دبک کر شکست تسلیم کرکے مایوس زدہ ہوجائیں اور اپنی آنے والی نسلوں کی غلامی پر دستخط کرلیں اور دوسرا پہلو انقلابی ہوسکتا ہے کہ ہم اپنی غافل، کاہل، کام چور، آرام پسند غیر مفید زندگی کو انقلابی رخ دیتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں، اور سماجی انصاف و باعزت زندگی کے لیے جدوجہد شروع کردیں_
یاد رکھو ۔ اور خوب اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ ۔ یہ ہماری محکومیت زدہ سیکولر قانون پرستی کا نتیجہ ہے، جس دن گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگی تھی ہم لوگوں نے غیراللہ کی خوشنودی کی خاطر اسے تسلیم کرلیا تھا، اور اس سے بہت پہلے ہم نے اپنے دین و ایمان کی تنقیص شروع کردی تھی، حد سے زیادہ حب الوطنی کے جھوٹے اور دنیا پرست راستوں سے ہم نے کامل اسلام اور ایمان کی جگہ وہن کے عذاب کو گلے لگالیا آج اسی نحوست سے ہم بے سکون اور ایمانی حلاوت سے محروم ہیں، اس گناہ سے اہتمام کے ساتھ توبہ کیجیے، اور کسی بھی نظام اور سسٹم کو صرف ایک نظام کی طرح لیجیے ہر ہر قدم پر اس کے وفادار نہیں بلکہ رفیق و معاون بنیے، وفاداری اور جاں نثار محبت کا تعلق صرف الله اور اس کے رسولﷺ سے رکھیے_
ایک بات آج اپنے متعلق عرض کرتاہوں، بلکہ اپنا تجربہ بیان کرتاہوں، یہ جتنے آلام و مصائب اور ٹینشن آتےہیں جن سے زندگی میں مایوسی چھا جاتی ہے میں نے اس کی بنیاد شوقِ زندگی کو پایا ہے پھر جب سے ہمیشہ یہ استحضار رہنے لگا کہ موت تو برحق اور اٹل ہے وقت سے پہلے آ ہی نہیں سکتی تو یہ مرض جاتا رہا، جس سے شدید آزمائشوں کے باوجود مایوسی مجھ پر غالب نہیں آتی میں پریشان ضرور ہوجاتا ہوں امت کے حالات پر، میں آنے والے خطرات اور اپنوں کی غفلت پر نالاں ہوجاتا ہوں، لیکن دشمنوں کی ہیبت، کفار سے اندیشے اور ان کا مسلح جلال الحمدللہ ثم الحمدللہ مجھ پر کبھی اثرانداز نہیں ہوتے، یہ تجربہ ہے میرا، آپ بھی زندگی کا شوق الگ رکھ کر آزمائیں بےشمار الجھنوں سے نجات ملےگی_
تعلق مع الله، استغفار کی کثرت، اور قرآن کی مسلسل تلاوت سے دولتِ سکون حاصل کیجیے، اسلامی حکومت نہیں ہے تو کیا ہوا؟ ہر گھر میں ایک امیر اور فیصل تو ہوتاہے نا اس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے گھر کی حد تک تو اسلامی کلچر نافذ کرے جب جب گھر گھر میں اسلام نافذ ہوگا تو اسے کسی بھی حکومت سے خطرہ نہیں ہوسکتا، ایسی معاشرت کی ضرورت ہے_
اگر تم اللّٰہ کے بندے ہو، اور رسول اللہﷺ کے امتی ہو تو تم کبھي بھی خوفزدہ اور مایوسیت زدہ مرجھائے ہوئے نہیں ہوسکتے یہ قانون بھی بن جائےگا نافذ بھی ہوجائے، آگے اور مزید پریشان کن قوانین یہ لوگ لائیں گے، لیکن تمہیں ثابت قدم رہناہے اپنی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہوئے اپنا قافلہ ٹھیک ٹھاک کرناہے سربلندی تمہارے لیے ازلی وعدہ ہے، تم طوفانوں، موجِ حوادث سے لڑکھڑانے والے نہیں بلکہ ان کا رخ موڑنے والوں میں سے ہو، ایسے یتیمی اور مظلومی کرکے تم اپنے اسلاف کی توہین کرتے ہو، اپنی عظمت رفتہ کو روند رہے ہو، اپنے سلاطین اور اپنے معماروں سے ناانصافی کرتے ہو، تم عزائم کے پہاڑ ہو، تم سیلِ رواں ہو، تمہی آتشِ برق، تمہی انقلاب عہد ہو، اٹھو اور اپنی اس حیثیت سے انصاف کرو، اللّٰہ اور اس کے فرشتے تمہاری نصرت میں جلوہ گر ہوں گے… ہم پھر سے عظیم ہوں گے_ اللّٰہ مجھے بھی توفیق دے اور آپ سب کو قبول فرمائے_
*سمیع اللّٰہ خان* ۱۱ دسمبر، بروز بدھ ۔ ۲۰۱۹ ksamikhann@gmail.com
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔