*ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے*
*محمد قمرالزماں ندوی* *مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*
*ظلم* ہنسا،نفرت، ،تعصب اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا،احتجاجی مظاہرہ اور پروٹسٹ کرنا نیز دھرنا دینا اور ہڑتال کرنا، یہ ہمارا جمہوری اور قانونی حق ہے ۔ اس کو دبانا اور احتجاج و پروٹسٹ کرنے والے کے خلاف کارروائی کرنا، ان کو حوالات میں بند کرنا اور ان پر تشدد کرنا جبکہ وہ اپنے جمہوری حقوق کے لڑ رہے ہوں، یہ جمہوریت کی روح اور مانوتا اور انسانیت کے خلاف ہے ۔ اس وقت پورے ملک میں ہی نہیں بلکہ اکثر دوسرے ممالک میں بھی سی اے اے ۔این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ یہ وقت کی آواز اور پکار ہے ۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس احتجاج میں مسلمانوں کے ساتھ برادران وطن بھی شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور خود بھاجپا کے بہت سے قد آور نیتا اس بل اور قانون کے خلاف ہیں اور وہ بھی پرزو انداز میں اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ اب یقین ہو چلا ہے کہ یہ لڑائی اپنے انجام تک پہنچنے کے قریب ہوگئی ہے، اور امید ہے کہ اس شبانہ روز کی جدوجہد کا مثبت نتیجہ ضرور سامنے آئے گا ۔ ان شاء اللہ ۔ *اس* ظالمانہ قانون کی زد میں صرف مسلمان ہی نہیں آرہے ہیں بلکہ اکثر غیر مسلم بھی آرہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مذھب کے دانشوران، وکلاء اور حساس اور باشعور طبقہ اس کی خطرناکی کو صاف طور پر محسوس کر رہے ہیں اور اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں ۔ اس لئے اس وقت غفلت کی نیند میں رہنا ،خاموش بیٹھے رہنا، کسی طرح مناسب نہیں ہوگا ۔ موجودہ حالات اور وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس قانون کے خلاف سراپا احتجاج بن جائیں ۔ جمہوری اقدار و روایات اور قوانین و ضوابط کو بچانے کے لئے ہم جو کرسکتے ہیں اور جتنا کرسکتے ہیں اور جس انداز اور صلاحیت سے کرسکتے ہیں ضرور کریں، نیز جو لوگ پروٹسٹ اور احتجاج کر رہے ہیں اور ہفتوں اور مہینوں سے اس بل کے خلاف پوری طاقت کے ساتھ مظاہرہ کر رہے ہیں ،ہم ان کا ساتھ دیں اگر مالی اور قانونی تعاون کی ضرورت ہے تو اس میں ہم پیچھے نہ رہیں ۔ شرعی اعتبار سے بھی ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ قانون اور بل ایک ظلم ہے، اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا اور ظالموں کو ظلم سے روکنا یہ ہماری شرعی اور دینی ذمہ داری ہے ۔اسلام اپنے ماننے والوں کو نہ ظلم کرنے کی اجازت دیتا ہے اور نہ ظلم پر خاموش رہنے کی، ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ظلم پر خاموشی، اجتماعی پریشانی کی وجہ بنتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرو۔ ظالم کی مدد یہ ہے کہ ان کو ظلم کرنے سے روک دو ۔ ان کے ہاتھ کو پکڑ لو ۔ ظلم و سفاکی پر نکیر نہ کرنے اور ظلم کا سد باب نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا، کہ نظام زندگی میں ابتری آئے گی ۔ سماج میں انتشار و خلفشار ہوگا ۔ ایک مسلمان کو حکم دیا گیا ہے اور اس کا مکلف بنایا گیا ہے کہ اگر وہ کوئی غلط کام دیکھے تو اگر طاقت ہے تو اس کو ہاتھ سے روک دے ۔ اور اگر وہ یہ نہیں کرسکتا تو زبان سے اس کی مخالفت کرے ۔اور اس میں اتنی بھی سکت نہیں ہے ،تو دل سے اس کو برا مانے ۔ یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے ۔ موجودہ حالات یہ ہیں کہ ،اس بل کو طاقت و قوت کے ذریعہ کرنا ہمارے لئے مشکل ہے ۔ یہاں ہمارے لئے دوسرا درجہ ہے کہ ہم اس کی مخالفت زبان سے کریں، قانون اور آئین کی روشنی میں کریں ۔اس بل کے خلاف تحریر لکھیں اور اس کو کنڈم کریں ۔ شعراء حضرات اپنی شاعری کے ذریعہ اس بل کے خلاف محاذ کھڑا کریں ،اور جہاں اور جس ریاست میں ہم بالکل مجبور و بے بس ہیں وہاں اس بل اور قانون کو دل سے برا سمجھیں ۔ دوسری ضرورت بات جس کا ذکر کرنا ضروری ہے، وہ یہ کہ مسلمان احتجاج میں توازن اور اعتدال کی راہ اپنائیں ۔ ایسا نہ ہو کہ سارا زور صرف اسباب و وسائل اور احتجاج و پروٹسٹ پر ہو اور نماز ،دعا اور ذکر و اذکار اور تعلق مع اللہ سے غفلت ہو یہ کسی طرح بہتر نہیں ہے ۔ بغیر ان چیزوں کو اپنائے صرف پروٹسٹ اور احتجاج سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا ،اس کے لئے اللہ سے مضبوط تعلق اور رشتہ جوڑنا ہوگا ۔ کل ایک پنجابی (سکھ) جامعہ کے پروٹسٹ میں شریک ہوئے، مغرب کے وقت وہ پہنچے ،انہوں احتجاج کرنے والے طلبہ سے پوچھا ، مغرب کا وقت ختم ہو رہا ہے ،آپ لوگوں میں سے کسی نے مغرب کی نماز پڑھی؟ ۔ ہر طرف سناٹا سب خاموش ۔کسی طرف سے ہاں کی آواز نہیں آئی تو سکھ بھائ نے کہا جب تک اس کو (اللہ کو) راضی نہیں کرو گے ،اس سے مدد اور دعا نہیں مانگو گے، صرف احتجاج اور پروٹسٹ سے کوئ حل نکلنے والا نہیں ہے،اور مسئلہ سلجھنے والا نہیں ہے ۔ اس پنجابی کی یہ بات ہمارے لئے باعث عبرت ہے ۔ ہمیں سبق لینا چاہیے اور اپنا احتساب کرنا چاہیے ۔ *اس* لئے توازن اور اعتدال برقرار رکھنا ہمارے لئے ضروری ہے ۔ تدبیر بھی ضروی ہے اور دعا و ذکر نماز اور تعلق مع اللہ اس سے زیادہ ضروری ہے ۔ موجودہ ملکی حالات میں جہاں ہم احتجاج کر رہے ہیں ہمیں بہت محتاط اور حساس رہنے کی ضرورت ہے، نیز جائز اور ضروری حد تک مصلحت پسندی سے بھی کام لینے کی ضرورت ہے ۔ ذیل میں ہم چند ہدایات پیش کرتے ہیں امید کہ ہم سب ان باتوں کا خیال رکھیں گے ۔ الحمد للہ اس احتجاج میں ملک کے تمام سنجیدہ طبقہ اور مذاہب کے لوگ شامل ہیں، اور مسلمانوں کی تائید کر رہے ہیں اس بل کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں۔ ہندو مسلم سکھ عیسائ سب شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور پر امن احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس لئے احتجاج اور مظاھرے میں مذھبی نعرے بالکل نہ لگائیں ۔ ایسے اشعار اور نظمیں پڑھنے سے احتیاط کریں جس میں موجودہ حالات کو انتہائی جارحانہ انداز میں پیش کیا جائے اور مرنے مارنے کی بات ہو ۔ اسی طرح سے غیر سنجیدہ اور جذباتی تقریر سے بچا جائے ۔ جس سے سادہ لوح لوگوں کے جذبات بھڑک جائیں اور وہ غیر قانونی اور غیر جمہوری راستے پر اتر آئیں اور بدلہ میں ناکردہ گناہ کی سزا میں ماخوذ ہوجائیں ۔ اس لئے اس وقت جوش سے زیادہ ہوش کی ضرورت ہے ۔ احتجاج اور پروٹسٹ میں زیادہ سے زیادہ برادران وطن کو شامل کیا جائے اور ان ہی کو زیادہ ہائی لائٹ کیا جائے، ان کو نمایاں رکھا جائے، ان کی تصویریں اور بیانات و تقریریں زیادہ شیئر کی جائیں ۔ ان کو اظہار خیال کا زیادہ سے زیادہ موقع دیا جائے ۔ احتجاج کے وقت چہرے سے وقار تمکنت کا اظہار ہو،ہنسی مذاق اور غیر سنجیدہ حرکت سے مکمل اجتناب کریں ۔ پبلک کا اور سرکاری املاک کا کوئ نقصان نہ ہو ۔ بیمار کمزور ،بوڑھے اور معذور کو کوئ دقت نہ پیش آئے ۔ ایمبولینس وغیرہ کے لئے فورا راستہ دیں ۔آپ کی وجہ سے ان کو کوئی دقت نہ ہو ۔ احتجاج اور مظاھرے سے آپ کہیں یہ احساس نہ ہونے دیں کہ یہ صرف مسلمانوں کا احتجاج ہے ۔ بلکہ پوری کوشش کریں کہ یہ احتجاج سب کی طرف سے محسوس ہو، اور کسی طرح بھی اس کو مذھبی رنگ دینے کی کوشش نہ کریں ۔ دو تین باتیں اور ضروری ہیں جو نمبر وار نیچے درج کی جاتی ہیں ۔
1۔ یہ قانون تمام قوموں اور ملک کی بنیادی آئینی حقوق کے خلاف ہے۔اس ملک میں صرف چھ مذاہب کے ماننے والے نہیں رہتے ہیں، بلکہ ملک میں چھ ہزار قومیں رہتی ہیں۔اس قانون سے ملک کی چھ ہزار قومیں اور تمام اقلتیں متاثر ہوں گی۔یہ کالا قانون ایسا تیر ہے،جو فضامیں اڑتا ہوا کسی کو بھی لگ سکتا ہے،جس سے بچنے کے لئے ہر قوم کوششیں کررہی ہے،اس لئے سول سوسائٹی کے لوگوں کو، st.sc.obcs.کی تنظیموں کے ساتھ مل کر ان کے بینر تلے احتجاجی پروگرامس کریں۔
2۔اس کو سنودھان بچاو، دیش بچاو، بھارتی مولنواسی سنگھ۔ بھارتی سماج۔وغیر خالص ہندی ناموں سے موسوم کریں۔تو زیادہ بہترہے۔ 3۔وہ لوگ جو عام دنوں، موقعوں پر ٹوپی نہیں پہنتے ہیں وہ ان مظاہروں بھی قطعی ٹوپی نہ پہنیں۔ پوری کوشش ہونی چاہئے کہ احتجاجات مذہبی رنگ نہ اختیار کرلیں۔ 4۔یہ احتجاج حصولِ حقوق کے لئے آخری اقدام نہیں ہے ، بلکہ یہ احتجاج انصاف حاصل کرنے کی جہد کی شروعات ہے۔ اس احتجاج کے بعدآئندہ دوسرے مرحلوں کے لئے ذہنی طور پر تیاری میں مصروف ہو جائیں۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔