بخیل آدمی اللہ سے لوگوں سے اور جنت سے دور ہے اور جہنم کے قریب ہے

????حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ وہ مومن میں جمع نہی ہوسکتی۔ایک تو بخل دوسری بد اخلاقی ۔????
????حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جنت میں نہ تو دھوکہ باز داخل ہوگا، نہ بخیل، نہ صدقہ کر کے احسان جتلانے والا۔????
????حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سخی آدمی اللہ سے قریب ہے، جنت سے قریب ہے، لوگوں سے قریب ہے، جہنم سے دور ہے۔ اور بخیل آدمی اللہ سے دور ہے، جنت سے دور ہے، آدمیوں سے دور ہےاور جہنم کے قریب ہے ۔ بے شک جاہل سخی اللہ کے نزدیک عابد بخیل سے زیادہ محبوب یے۔
(عابد سے مراد نوافل کثرت سے پڑھنے والا ہے۔ فرائض کا پڑھنا تو ہر شخص کے لیے ضروری ہے چاہے سخی ہو یا نہ ہو)????
????حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سخاوت جنت میں ایک درخت ہے۔پس جو شخص سخی ہوگا وہ اس کی ایک ٹہنی پکڑلے گا جس کے ذریعہ سے وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ اور بخل جہنم کا ایک درخت ہے ۔جو شخص شحیح(یعنی جو اپنا مال بھی خرچ نہ کرے اور یہ چاہے کہ دوسروں کا مل بھی اس کے پاس آجائے) ہوگا وہ اس کی ایک ٹہنی پکڑ لےگا، یہاں تک کہ وہ ٹہنی اس کو جہنم میں داخل کر کے رہے گی۔????
????حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ بدترین عادتیں جو آدمی میں ہوں۔ایک وہ بخل ہے جو بے صبر کردینے والا ہو، دوسرے وہ نامردی اور خوف جو جان نکال دینے والا ہو۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ وہ شخص مومن نہی جو خود تو پیٹ بھر کر کھانا کھائے اور پاس ہی اس کا پڑوسی بھوکا رہے.۔????
????حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اس امت کی اصلاح کی ابتدا یقین اور دنیا سے بے رغبتی سے ہوئی اور اس کے فساد کی ابتداء بخل اور لمبی لمبی امیدوں سے ہوگی۔????
????حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کسی شخص نے گوشت کا ایک ٹکڑا ہدیہ کے طور پر پیش کیا۔ چونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کا بڑا شوق تھا اس لیے ام سلمہ رض نے خادمہ سے فرمایا کہ اس کو اندر رکھ دے شاید کسی وقت حضور نوش فرمالے۔خادمہ نے اس کو اندر طاق میں رکھ دیا ۔ اس کے بعد ایک سائل آیا اور دروازے پر کھڑے ہوکر سوال کیا کہ کچھ اللہ کے واسطے دےدو۔گھر میں سے جواب ملا اللہ تجھے برکت دے۔وہ سائل تو چلاگیا اتنے میں حضور ص تشریف لائے اور ارشاد فرمایا کہ ام سلمہ میں کچھ کھانا چاہتاہوں، کوئی چیز تمہارے پاس ہے؟ حضرت ام سلمہ رض نے خادمہ سے فرمایا کہ جاؤ وہ گوشت حضور ص کی خدمت میں پیش کرو۔وہ اندر گئیں اور جاکر دیکھا کہ طاق میں گوشت تو ہے نہی، سفید پتھر کا ایک ٹکڑا رکھا ہوا ہے ۔(حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ معلوم ہوا تو) فرمایا :تم نے وہ گوشت چونکہ سائل کو نہ دیا اس لیے وہ گوشت پتھر کا ٹکڑا بن گیا ۔????
????????????????????????????????????????????????????????
????????(فضائل صدقات)????????

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔