*⚖سوال و جواب⚖*
*مسئلہ نمبر 1099*
(کتاب الصلاۃ باب الحلالہ) *دادا کا حلالہ کی غرض سے پوتے کی مطلقہ سے نکاح کرنا*
*سوال:* مفتی صاحب ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ دیدی اور اس کے بعد لڑکے کے دادا نے اس لڑکی سے حلالہ کے طور پر نکاح کرلیا یعنی نکاح ثانی ہوگیا اس کے بعد طلاق دی اور وہ لڑکی دوبارہ اپنے پہلے شوہر س نکاح کرنا چاہتی ہے تو کیا اب شوہر سے نکاح جائز ہوگا، جبکہ شوہر کا دادا محرم ہے یعنی اس سے نکاح حرام ہے؟ جواب دے کر مشکور ہوں۔
(المستفتی: فیض قاسمی، بمعرفت محمد فیضان مقیم مسجد اقصی چمن پارک مصطفی آباد دہلی ۹۴)
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*الجواب وباللہ التوفیق*
قرآن مجید کی نص سے یہ بات ثابت ہے کہ دادا اپنے نسبی پوتے کی بیوی کے لیے محرم ابدی ہے؛ اس لئے پوتے کی طلاق کے بعد دادا اس مطلقہ سے نکاح کبھی بھی نہیں کرسکتا، اور اگر کر بھی لیا تو شرعاً وہ نا ہی معتبر ہوگا اور نہ منعقد؛ اس لئے مذکورہ بالا صورت میں دادا نے پوتے کی مطلقہ سے جو نکاح کیا ہے وہ غیر معتبر ہے، اور جب نکاح نہیں ہوا تو تحلیل نہیں پائی گئی اور جب تحلیل نہیں پائی گئی تو پوتے کا ابھی اس سے نکاح ثانی درست نہیں ہے(١) فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
*????والدليل على ما قلنا????*
(١) وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا (النساء 23)
وَقَوْلُهُ: ﴿وَحَلائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلابِكُمْ﴾ أَيْ: وحُرمت عَلَيْكُمْ زَوْجَاتُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ وَلَّدْتُمُوهُمْ مِنْ أَصْلَابِكُمْ (تفسير القرآن العظيم — ابن كثير سورة النساء ة٢٣)
والثالثة: حليلة الابن و بن الابن و بن البنت و إن سفلوا. (الفتاوى الهندية ٣٠٢/١ كتاب النكاح باب المحرمات القسم الثانى)
*كتبه العبد محمد زبير الندوي* دار الافتاء و التحقیق مدرسہ ہدایت العلوم بہرائچ یوپی انڈیا مورخہ 27/7/1441 رابطہ 9029189288
*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔