روزہ دار فرشتوں کی مشابہت اختیار کرتا ہے

*محمد قمرالزماں ندوی*

*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*روزہ دار* روزہ کی حالت میں فرشتوں کی مشابہت اختیار کرتا ہے ۔ روزہ کی ساخت اور طرز ایسی رکھی گئی ہے، کہ اس میں فرشتوں جیسی زندگی ابھرتی ہے کہ فرشتے وہ مخلوق ہیں جو نہ کھاتے ہیں اور نہ پیتے ہیں اور نہ ان کو زمینی مخلوق کی طرح ضروریات پیش آتی ہیں، وہ ہر وقت اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں اس سے لو لگاتے ہیں ۔ وہ نہ تھکتے ہیں اور نہ نافرمانی کرتے ہیں ۔ گویا زمینی مخلوق آسمانی عمل کا نمونہ اور مثال ہوتے ہیں روزے دار ۔ بقول حضرت مرشد الامہ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی مدظلہ العالی:
*زمینی مخلوق کا فرد ہونے کی وجہ سے اس کو لازمی تقاضائے بشری تو پوری کرنے ہوتے ہیں ،لیکن دیگر ممکن اور اختیاری معاملات میں روزہ دار فرشتوں کی طرح عبادات و اطاعت میں لگا رہتا ہے نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے اور نہ کوئی نافرمانی کرتا ہے روزہ دار اس طرح کی زندگی اختیار کرنے میں کامیاب اور مقبول روزہ دار ثابت ہوتا ہے، اور اس میں کوتاہی کرنے میں کوتاہی کے بقدر روزہ کے فائدے سے محروم ہوجاتا ہے۔ مسلمانوں کو اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہیے کہ ایسے زمانہ میں جو روحانی اور ملائکہ کے طرز زندگی کا اظہار کرنے کے لئے ان کو دیا گیا ہے،اس سے وہ کہاں تک عہدہ برآ ہو رہے ہیں اور اگر ان سے سے کچھ کوتاہی ہوتی ہے تو وہ اس کو دور کرنے کی کیا کوشش کرتے ہیں، وہ اپنی پوری زندگی میں فرشتے نہیں بن سکتے تو کیا ان کو جو تھوڑا سا موقع اس بات کا مظاہرہ کرنے کے لئے دیا گیا ہے اس سے وہ بقدر استطاعت فائدہ بھی نہیں اٹھا سکتے، اور اپنے پروردگار کی رحمتوں اور رضامندی سے مالا مال نہیں ہوسکتے* ۔ ( تحفئہ رمضان از حضرت مرشد الامہ سید محمد رابع حسنی ندوی مدظلہ العالی )

روزہ کے لیے شریعت میں صوم کا لفظ استعمال ہوا ہے، صام یصوم کے اصل معنی رکنا ہے۔ چلنے پھرنے، بولنے کھانے پینے سے رک جانا۔ الخیل الصائم عربی میں اس گھوڑے کو کہتے ہیں جس کا چارہ پانی بند کرکے کھڑا کردیا گیا ہو، روزہ اپنی ظاہری علامت کےاعتبار سے صبح سے شام تک کھانا پینا اور نفسانی خواہشات سے رکنے کا نام ہے۔ مگر اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے روزہ یہ ہے کہ آدمی علائق دنیا سے ایک مدت تک اپنے کو کاٹ کے۔ ہر چیز میں کمی کرے جو مادی اعتبار سے موجودہ دنیا میں انسان کو درکار ہوتی ہے۔ ملنا، جلنا، سونا، تقاضائے بشری پورا کرنا، غرض ہر مادی چیز میں اپنے معمولات کو کم کردے اور زیادہ سے زیادہ ملکوتی صفات اپنے اندر پیدا کرے یعنی فرشتوں سے مشابہت پیدا کرے ۔
علماء نے لکھا ہے کہ:
روزہ کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان کا مادی پہلو کمزور ہو، اس کی روحانیت بڑھے تاکہ عالم قدس سے اس کا اتصال ممکن ہوسکے۔ جسم کی مادی غذا کے مقابلہ میں روزہ کا مقصد روح کو معنوی غذا پہنچنانا ہے۔ انسان بیک وقت دو چیزوں کا مجموعہ ہے، ایک مادیت، دوسرے روح۔ انسانی وجود کا مادی حصہ اس کی ایک ناگزیر ضرورت ہے انسان کو اس سے مفر نہیں ہے، کیونکہ اس کے بغیر وہ موجودہ دنیا ???? میں اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرسکتا۔ مگر اسی کے ساتھ انتہائی ضروری ہے کہ اس کی روح اور ذھن اپنی مجرد حیثیت کو زیادہ سے زیادہ باقی رکھ سکے اور اپنی غیر مادی حیثیت میں زیادہ سے زیادہ ترقی کرے تاکہ غیر مادی حقائق تک اس کی بے آمیز رسائی ممکن ہو۔ ( الاسلام، ص، ٢٥)
الغرض رمضان المبارک کا مہینہ اور روزہ کا عمل یہ منجانب اللہ خصوصی انعام اور عطیہ ہے ایمان والوں کے لئے ۔ رمضان المبارک کا یہ مہینہ ایک بیش بہا دولت اور ایک عجیب اور انوکھی نعمت والا مہینہ ہے زمینی مخلوق یعنی انسان کو کچھ وقت کے لئے آسمانی مخلوق یعنی فرشتہ بنا دینے والا مہینہ ہے ایسی بیش بہا اور نادر نعمت ملنے پر اس کی قدر و منزلت نہ ہو اس کا احترام نہ ہو تو ہم سب کے لئے بڑی محرومی کی بات ہوگی ۔
حدیث شریف میں ایسے شخص کے لئے وعید آئی ہے ۔ ایک بار *حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم* نے ممبر پر چڑھتے ہوئے تین شخصوں کے لئے محرومی و بربادی کی بددعا پر آمین کہیں ان میں سے ایک شخص وہ تھا جس کو رمضان کا موقع ملے اور وہ اس کا حق ادا کرکے اپنی بخشش نہ کراسکے ۔ اور رمضان کی قدر کرنے والے کے لئے اللہ تعالی نے فرمایا کہ آدمی کے ہر عمل کی جزا تو ویسی ہوگی جیسی یہاں کی گئی ہوگی سوائے روزہ کے کہ وہ میرے ساتھ مخصوص ہے میں خود اس کی جزا خود اپنے سے دوں گا ۔
*اللہ تعالٰی* نے اس ماہ مقدس کے پہلے عشرہ کو رحمت دوسرے کو مغفرت اور آخری یعنی تیسرے عشرہ کو جہنم سے خلاصی کا عشرہ قرار دیا ہے تاکہ مومن بندہ ہر اعتبار سے اپنے آپ کو مزکی کرلے اور اپنی آخرت کو بنا لے ۔
*حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ* سے روایت ہے کہ *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم* نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے جب تک کہ اس کو پھاڑ نہ ڈالا جائے ۔
*حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ* سے روایت ہے کہ *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم* نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور شیاطین قید کر دئے جاتے ہیں ۔
اگر اس مہینہ میں کسی آدمی کو اعمال صالحہ کی توفیق مل جائے تو پورے سال یہ توفیق اس کے شامل حال رہتی ہے اور اگر یہ مہینہ بے دلی فکر و تردد اور انتشار کے ساتھ گزرے تو پورا سال اسی حال میں گزرنے کا اندیشہ رہتا ہے
*غرض* رمضان المبارک میں روزہ دار کو ہر اعتبار سے تربیت اور اپنی شخصیت کو بنانے اور نکھارنے کا موقع دیا جاتا ہے اور اس کی توفیق دی جاتی ہے کہ یہ زمینی مخلوق آسمانی عمل کو اپنا کر اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار لے ۔ اور اس اہم رکن کو ادا کرکے خود مالک ارض و سماء سے اپنا بدلہ اور انعام حاصل کرے ۔

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔