محمد مکرم بن معظم ندوی مدرسہ چشمہ فیض ململ کے ناظم مولانا وصی عالم صاحب صدیقی قاسمی کا کل بروز منگل رات مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا، فإنا لله وإنا إليه راجعون، إن لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شئ عنده بأجل مسمىّٰ۔ مرحوم دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے، بہار کی مردم خیز بستی "شمالی بہار ململ" کے ایک معروف عالم دین تھے، بہت ہی خوش مزاج ،خوش گفتار ،اور خوش اخلاق تھے ،جب بھی ان پر نگاہ پڑتی، وہی ہنستا مسکراتا دمکتا چہرہ ہوتا ،سلام کرتا تو بڑے تپاک سے ملتے ، کوئی ملنے جلنے والا ان کی طرف سےکسی قسم کی ترش روئی ،تند خوئی اور تند مزاجی کے آثار نہ پاتا ،شمالی بہار ململ کے سبھی لوگ ان کے علم وفضل اور بزرگی کے دل سے قدرداں تھے۔ وہ ایک اچھے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے منتظم بھی تھے، مدرسے نے ان کے دورِ انتظام میں کافی ترقی کی ،ہزاروں کی تعداد میں طلبہ یہاں آکر اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو شرمندۂ تعبیر کرتے ۔ مولانا مرحوم کو تعلیم نسواں کی بھی بہت فکر تھی ،اور اس کے ہمیشہ کوشاں رہتے ،"جامعہ فاطمہ الزہرا" آپ کی ان ہی کی کوششوں کا رہین منت اور ان کی آرزوؤں کا ایک ثمر آور درخت ہے، جو بلا شبہ (تؤتی اكلها ضعفين) کی جیتی جاگتی تصویر ہے، ہر سال درجنوں طالبات یہاں سے فارغ ہوتیں ہیں۔ بیشتر میں نے مرحوم کو اپنے جدِمعظم (حضرت مولانا نذر الحفیظ ندوی صاحب) اطال اللہ عمرہ کے پاس طویل نشستوں میں مصروف دیکھا، ان نشستوں میں جہاں ملک کے ناگفتہ بہ حالات وواقعات پر چشم کشا گفتگو ہوتی، وہیں ململ اور اہلیانِ ململ کے دینی اور معاشرتی پہلو بھی موضوع گفتگو بنتے۔ یقیناً مولانا کی وفات، جہاں ان کے عزیز و اقارب ،رشتہ دار اور اہلیانِ محلہ شمالی بہار ململ کے لئے ایک نہ مٹنے والا غم واندوہ ہے ،وہیں مولانا کے ہزاروں بادیدۂ نم متوسلین ، ان کے شاگردوں، اور ان کے عقیدت مندوں و عقیدت کیشوں کے لئے بھی ایک علمی خسارہ اور ایک لائق ہنر مند منتظم سے محرومی اور ان سے بچھڑ جانے کا ایک لازوال اور انمٹ رنج والم بھی۔ آج مرحوم کے جنازے کو دیکھ کر امام احمد بن حنبل کا وہ قول یاد آگیا جو انہوں نے کسی موقعہ پر فرمایا تھا "تحكم بيننا الجنائز"(اوکماقال) کہ ہمارے اور ان مشرکین کے درمیان ہمارے جنازے فیصلہ کریں گے ،یقیناً کسی کے جنازے میں اتنی کثیر تعداد میں لوگوں کا شریک ہونا ،بجائے خود اس کی للّٰہیت ،خداترسی ،آہ سحر گاہی کی دلیل ہوسکتی ہے ،کہتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل کے انتقال کے دن درجنوں غیر مسلم ،یہود ،اور نصاری مشرف بہ اسلام ہوئے ، بے شک اس لاک ڈاؤن میں جہاں انسانی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں ،ان سخت حالات میں جہاں نہ فکر امروز ہے نہ اندیشہ فردا، جہاں کشتی حیات ساحلِ امن سے کوسوں دور گردابِ بلاخیز میں جا پھنسی ہے ،جہاں اگر کسی کا انتقال ہوجاے ،تو اس کی تدفین وتجہیز پر دسیوں دشواریاں پیش آتی ہیں ،بعضے تو بے گورو کفن زیر زمیں ڈال دیے جاتے ہیں،اور اگر تجہیز وتکفین کی نوبت آتی بھی ہے ،تو تعداد برائے نام ؛لیکن مولانا مرحوم کے جنازے میں لوگوں کا اتنی کثیر تعداد میں شریک ہونا ،جہاں عوام الناس کی مولانا سے بے انتہا عقیدت وارادت کی غماز اور عکاس ہے ،وہیں عند اللہ ان کی مقبولیت کے نمایاں آثارو بینات بھی۔ اللہ مولانا مرحوم کی خدمات کو قبول فرمائے ،انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے ،ان کے عزیز واقارب اور متوسلین کو صبر جمیل عطا فرمائے ،ان کے زلات کو معاف فرمائے، اللہ مدرسہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے آمین۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔