قربانی کا معنی و مفہوم اور مختصر تاریخ قسط نمبر 5

بســــــــــــــم الله الرحمن الرحيم

{قربانی کا معنی و مفہوم اور مختصر تاریخ} {کل 6 قسطیں ہیں ! قسط نمبر 5}

از قلم ✒..... حضرت مفتی رفیق احمد صاحب

⭐️قربانی کا فلسفہ والثانی :/ یوم ذبح ابراھیم علیہ السلام ولدہ اسماعیل علیہ السلام، وانعام اللہ علیھما : بان فداہ بذبح عظیم، اذ فیہ تذکر حال ائمة الملة الحنیفیة والاعتبار بھم فی بذل المھج، والاموال فی طاعة اللہ، وقوة الصبر، وفیہ تشبہ بالحاج، وتنویہ بھم، وشوق لماھم فیہ ولذلک سن التکبیر ترجمہ : اور دوسرا عید الاضحیٰ وہ دن ہے کہ جس میں حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کے ذبح کا ارادہ کیا اور اللہ کا ان پر انعام ہوا کہ حضرت اسماعیلؑ کے بدلے عظیم ذبیحہ جنتی مینڈھا عطا فرمایا !

⭐️اس لیے کہ اس میں ملت ابراہیمی کے ائمہ کے حالات کی یاد دہانی ہے اللہ کی اطاعت میں ان کے جان و مال کو خرچ کرنے اور انتہائی درجہ صبر کرنے کے واقعہ سے لوگوں کو عبرت دلانا مقصود ہے، نیز اس میں حاجیوں کے ساتھ مشابہت ہے اور ان کی عظمت ہے اور جس کام میں وہ مشغول ہیں اس میں ان کو رغبت دلانا ہے یہی وجہ ہے کہ تکبیرات تشریق کو مسنون کیا گیا ہے !

⭐️قربانی کی حقیقت مندرجہ بالا آیات و احادیث کی روشنی میں قربانی کی حقیقت معلوم ہوئی اس کو مختصر الفاظ میں بیان کرنا چاہیں تو یوں کہا جاسکتا ہے قربانی سنت ابراہیمی کی یادگار ہے !

⭐️قربانی کی ایک صورت ہے اور ایک روح ہے صورت تو جانور کا ذبح کرنا ہے اور اس کی حقیقت ایثار نفس کا جذبہ پیدا کرنا ہے اور تقرب الی اللہ ہے !

⭐️اصل میں قربانی کی حقیقت تو یہ تھی کہ عاشق خود اپنی جان کو خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرتا مگر خدا تعالیٰ کی رحمت دیکھئے ان کو یہ گوارا نہ ہوا اس لیے حکم دیا کہ تم جانور کو ذبح کرو ہم یہی سمجھیں گے کہ تم نے خود اپنے آپ کو قربان کر دیا اس واقعہ ذبح اسماعیلؑ سے معلوم ہوا کہ ذبح کا اصل مقصد جان کو پیش کرنا ہے، چنانچہ اس سے انسان میں جاں سپاری اور جاں نثاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور یہی اس کی روح ہے تو یہ روح صدقہ سے کیسے حاصل ہوگی؟ کیونکہ قربانی کی روح تو جان دینا ہے اور صدقہ کی روح مال دینا ہے، نیز صدقہ کے لیے کوئی دن مقرر نہیں مگر اس کے لیے ایک خاص دن مقرر کیا گیا ہے اور اس کا نام بھی یوم النحر اور یوم الاضحیٰ رکھا گیا ہے !

⭐️قربانی کی اصل حکمت و فلسفہ !

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں : والسر فی الھدی التشبة بفعل سیدنا إبراھیم علیہ السلام فیما قصد من ذبح ولدہ فی ذلک المکان طاعةً لربہ، وتوجھاً إلیہ، والتذکر لنعمة اللہ بہ وبأبیھم إسماعیل علیہ السلام، وفعل مثل ہذا الفعل فی ھذا الوقت والزمان ینبہ والنفس ایّ تنبہ․وإنما وجب علی المتمتع والقارن شکراً لنعمة اللہ حیث وضع عنھم أمر الجاھلیة فی تلک المسئلة ترجمہ : حج کے موقع پر ہدی میں حکمت یہ ہے کہ اس میں حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ مشابہت ہے انہوں نے اپنے رب کے حکم بجا آوری اور اس کی طرف توجہ کی نیت سے اس جگہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو ذبح کرنا چاہا تھا اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ پر جو انعامات کیے ہیں ان کی یاد دہانی ہوتی ہے، اور حج تمتع و قران کرنے والے پر یہ ہدی واجب ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکرادا ہو کہ اس نے معاملے میں جاہلیت کے وبال کو دور کر دِیا !

????????نوٹ: پہلی سے آخری قسط تک کے حوالے جات!

۱)المائدہ : ۱۸۳) ۲)تفسیر ابن کثیر ۲/۵۱۸، مکتبہ فاروقیہ پشاور) ۳)الحج : ۳۶۔۳۷) ۴)الحج : ۳۲) ۵)آل عمران : ۳۸۱) ۶)المائدة : ۲۷) ۷)انعام : ۱۶۲) ۸)البقرة : ۱۹۶) ۹)احکام القرآن : ۳/۳۶) ۱۰)ابن کثیر، ۶/۵۵۶، مکتبہ فاروقیہ پشاور) ۱۱)الحج : ۸۳) ۱۲)الحج : ۳۴) ۱۳)مشکوٰة المصابیح) ۱۴)مشکوٰة : ۱۲۹) ۱۵)الترغیب والترہیب : ۲/۷۷۲) ۱۶)الترغیب والترہیب : ۲/۲۷۷۔۲۷۸) ۱۷)ایضاً : ۲۷۸) ۱۸)ایضاً) ۱۹)ایضاً) ۲۰)ایضاً) ۲۱)حجة اللہ البالغة : ۲/۱۰۰) ۲۲)سنت حضرت خلیل ،قاری طیب صاحب ص : ۹) ۲۳)ایضاً، ص : ۱۶) ۲۴)حجة اللہ البالغة، ابواب الحج : ۲) ????بحوالہ: رسالہ ماہنامہ دارالعلوم???? ➖➖➖➖ جاری ہیں ????احناف اسلامک سروس???? https://telegram.me/Ahnafislamicservices

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔