*سوال:* کیا فرتے ہیں حضرات مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک برتن میں ایک یا دو یا تین کلو گوشت رکھا ہوا ہے اور ایک کتا اس برتن میں سے منہ ڈال کر دو چند بوٹیاں لے جائے تو ما بقیہ گوشت کا کیا حکم ہے ؟
کیااسکو دھوکر کھاسکتے ہیں یا نہیں ؟
اور اگر کھاسکتے ہیں تو اس کو پاک کیسے کرنا ہے؟
اور طب کے اعتبار سے کیا وہ گوشت زہرآلود ہے؟
ہر جزیہ کا واضح مدلل اور مفصل جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع فراہم کریں
عین کرم ہوگا
(المستفتی محمد عرفان الحق بنگلور)
بتاریخ ١۰ شعبان المعظم ١۴۴١ھ
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*الجواب وباللہ التوفیق*
احادیث مبارکہ کی نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ کتے کا جھوٹا ناپاک ہے؛ یعنی جس چیز میں یا جس برتن میں کتا منہ ڈال دے وہ ناپاک مانا جائے گا، اس کے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تین یا اس سے زائد مرتبہ اس چیز کو دھو دیا جائے، پھر اس کے استعمال میں حرج نہیں؛ چنانچہ صورت مسئولہ میں وہ گوشت ناپاک ہے اس کو کم از کم تین پانی سے دھوکر استعمال کیا جا سکتا ہے(١) طبی نقطۂ نظر سے آگاہی کے لئے کسی ماہرِ حیوانات ڈاکٹر سے رابطہ کریں وہ اس سلسلے میں آپ کو بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
ويحتمل أن بعض أهل الكوفة كانوا يرون التثليث في ولوغ الكلب في زمانه أيضا (حاشية السندي على ابن ماجه كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا رقم الحديث ٣٦٣ بَابٌ : غَسْلُ الْإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ)
*كتبه العبد محمد زبير الندوي*
دار الافتاء و التحقیق مدرسہ ہدایت العلوم بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 10/8/1441
رابطہ 9029189288