انسان کو اللہ تعالی نے محترم اور مکرم بنایا ہے اس لیےانسانی بالوں کی خرید و فروخت شرعاً جائز نہیں ہے۔وہ بال خواہ مسلمان مرد عورت کے ہوں یا کافر کے بہرصورت انسانی بال کی خریدوفروخت جائز نہیں ہے۔ ۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: فتاوی بنوریہ الدر المختار وحاشية ابن … مکمل پوسٹ پڑھیں
شیر کی خریدوفروخت جائز ہے کیونکہ اس کا سدھانہ بھی ممکن ہے اور اس کی کھال سے فائدہ بھی اٹھایا جاتا ہےاور بندر کی خرید و فروخت کے بارے میں امام ابو حنیفہ کے دو قول ملتے ہیں، پہلا قول بروایت امام حسن بن زیاد رحمہ اللہ جواز کا … مکمل پوسٹ پڑھیں
इंसान को अल्लाह ताला ने मोहतरम बनाया है और इज्जत वाला बनाया है इसलिए इंसानी बालों को बेचने और खरीदने की शरीयत में इजाजत नहीं है वह बाल चाहे मुसलमान मर्द औरत के हों चाहे गैर मुस्लिम के किसी भी सूरत में इंसानी बाल की खरीद फरोख्त जायज नहीं … مکمل پوسٹ پڑھیں
پتنگ بازی میں پیسوں اور وقت کا ضیاع ہےاور مختلف مواقع پر کئی انسانی جانوں کے ضیاع کی نوبت بھی آچکی ہے،لہذا پتنگ بازی سے اجتناب چاہیے، اور ایسے کاروبار سے بھی اجتناب کرنا چاہیے، جو پیسوں اور وقت کے ضیاع کا سبب ہو۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: فتاوی بنوریہ … مکمل پوسٹ پڑھیں
جانور کے دودھ کم دینے کی بنا پر خریدار کو جانور واپس کرنے کا اختیارتو نہیں ہے، البتہ بازار میں اتنے کم دودھ والے جانور کی قیمت جتنی بنتی ہے اسے چھوڑکر جو زائد قیمت دے رکھی ہے، اسے واپس لے سکتا ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: فتاوی دارالعلوم دیوبند … مکمل پوسٹ پڑھیں
जानवर के दूध कम देने की बिना पर खरीदार को जानवर वापस करने का इख्तियार तो नहीं है ।अलबत्ता बाजार में इतने कम दूध देने वाले जानवर की कीमत जितनी बनती है उसे छोड़कर जो ज्यादा कीमत दे रखी है उसे वापस ले सकता है। (वल्लाहु आलम) (मुस्तफाद: फतावा दारुल … مکمل پوسٹ پڑھیں
इंटरनेट केबल का जायज और नाजायज दोनों तरह इस्तेमाल होता है इंटरनेट सिर्फ टीवी प्रोग्राम देखने के लिए नहीं है इसलिए उसकी सप्लाई जायज होगी जब के टीवी के अंदर जायज काम ना के बराबर होता है इसलिए उसके केबल कनेक्शन की सप्लाई जायज नहीं है। (वल्लाहु आलम) (मुस्तफाद: फतावा … مکمل پوسٹ پڑھیں
انٹرنیٹ کیبل وغیرہ کا جائز اور ناجائز استعمال دونوں طرح ہے، انٹرنیٹ محض ٹی وی پروگرام دیکھنے کے لیے مختص نہیں ہے، بلکہ انٹرنیٹ کے ذریعے بہت سے جائز کام بھی کیے جاسکتے ہیں، اس لیے انٹرنیٹ کیبل کی سپلائی اور شیئر کرنا جائز ہے، اگر اس کا کوئی … مکمل پوسٹ پڑھیں
???? کھیل میں استعمال ہونے والے کپڑے فروخت کرنے کی اجازت ہے بشرطیکہ وہ اس قدر چست نہ ہوں کہ جن سے اعضائے مستورہ کی ساخت معلوم ہوتی ہو، اسی طرح ٹی شرٹ کے کاروبار کی بھی گنجائش ہے۔ ۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: فتاوی دارالعلوم دیوبند ???? البحرالرائق میں ہے … مکمل پوسٹ پڑھیں